Nai Baat Magazine Report,Captain Safdar
20 اپریل 2021 (21:51) 2021-04-20

ظفر اقبال نگینہؔ

میں اس کیپٹن (ر) صفدر کو جانتا ہوں جو مانسہرہ میں مقیم میرے دوست کا بھائی ہے۔ ایک فیچر رپورٹ کی تیاری کیلئے جب مجھے پیر صاحب آف بابا دھنکا شریف کے پاس جانا پڑا تو میرا قیام سجاد کے پاس ہی ہوا۔ اُن دنوں وہ ایبٹ آباد کی ایک میڈیسن کمپنی کے ساتھ وابستہ تھا۔ دورانِ قیام مجھے سجاد نے بتلایا کہ کیپٹن صاحب کا مریم نواز شریف سے رشتہ طے ہوچکا ہے اور اس رشتہ طے کرانے میں بڑا کردار بھی پیر صاحب آف بابا دھنکا شریف ہی کا تھا۔ میاں محمد نوازشریف، مرحومہ کلثوم نواز اور مریم نواز شریف کے ساتھ وہاں پہنچنے والوں میں کیپٹن صفدر بھی تھے جو پیر صاحب کے مرید بھی ہیں۔ مہندی کی رسومات تھیں اور میری پہلی ملاقات کیپٹن صاحب سے وہاں ہوئی۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ یوں اس خانہ آبادی کی تقریب میں واحد صحافی تھا جو اپنے دوست کی جانب سے ملنے والی دعوت کے سبب وہاں موجود تھا۔ اس شادی سے میرے دوست کے گھر کا نقشہ ہی نہیں بدلا …بلکہ اس کے حالات بھی بدل گئے اور یوں ان بدلتے حالات کے باعث ہمارے درمیان فاصلے بھی بڑھتے چلے گئے۔ کبھی کبھار مظفر آباد جانے کے لیے جب مجھے ایبٹ آباد مانسہرہ گڑھی حبیب اللہ کا روٹ اختیار کرنا پڑتا تو سجاد سے بھی ملاقات ہو جایا کرتی تھی لیکن اب تو برسوں بیت گئے … کوئی رابطہ ہے نہ ملاقات!

2012ء میں 180ایچ ماڈل ٹائون کو مسلم لیگ(ن) کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا گیا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل انچارج کی حیثیت سے میری خدمات مستعار لی گئیں۔ 180ایچ میں ہی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف، حمزہ شہباز کے دفاتر بھی تھے۔ میاں نوازشریف کا بھی یہاں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ کیپٹن صفدر بھی گاہے بگاہے نظر آتے تھے۔ میرے سے دیرینہ تعلق کے باعث وہ زیادہ تر وقت میرے کمرے ہی میں گزارتے تھے۔ ظہر، عصر اور مغرب کی نماز وہ اس کمرے میں ادا کرتے۔ اگر قیام  بڑھ جاتا تو نماز عشاء میں بھی انہیں اللہ کے حضور سجدہ ریز دیکھا۔ سیاسی سرگرمیوں میں ان کی بڑھتی دلچسپی نے انہیں نمایاں کردیا تھا، خصوصاً یوتھ ونگ کا قیام اور ملک بھر میں یوتھ کے عہدے داروں کا انتخاب … وہ دن رات اس کے لیے کوشاں رہے … سیاست کے اس سفر میں انہیں کن مراحل سے گزرنا پڑا … کتنی مشکلات اور مصائب جھیلنا پڑے … وہ مجھے بتلانے کی چنداں ضرورت نہیں … پرنٹ الیکٹرانک میڈیا کے ریکارڈ میں سب محفوظ ہے اور پاکستانی عوام … خصوصاً پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما، ورکرز، سپوٹرز آگاہی رکھتے ہیں۔ اس تمہید کا مقصود یہ ہے کہ لوگ یہ جان پائیں کہ کیپٹن (ر) صفدر سے انٹرویو کے لیے مجھے بطور خاص وقت لینے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور نہ ہی کبھی اُن مراحل سے گزرنا پڑا جو اکثر میرے ہم پیشہ بھائیوں کو درپیش رہے ہیں تاہم میرے فرائض سنبھالنے کے بعد صحافی بھائیوں کو قدرے اطمینان ہوا تھا کہ وہاں کوئی تو ہے جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے میں معاون ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر سے ہونے والی گفتگو کو سوال وجواب کی صورت سمیٹ کر نذرِ قارئین کیا جارہا ہے اور وہی یہ فیصلہ کر پائیں گے کہ ان کے جوابات سے کس حد تک مطمئن ہوئے ہیں۔

شادی سے پہلے کی آپ کی زندگی، آپ کے گھر کا ماحول، آپ نے اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کیا؟

’’رشتے آسمان پر بنتے ہیں۔ اس کا اختیار ربِ عظیم کے پاس ہیں۔ ہم انسان ہیں اور اسی حوالے سے معاملات کو دیکھتے پرکھتے ہیں۔ ہم جو سوچتے ہیں، جو کرتے ہیں یا جو ہو جاتا ہے اسے اپنے انداز میں لیتے ہیں۔ لیکن نظامِ قدرت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ اچھا ہوا … نظامِ قدرت میں ضروری نہیں کہ اچھا ہوا ہو اور اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ بُرا ہوا تو نظامِ قدرت میں وہ اچھا ہی ہوا ہوتا ہے۔ یہ لیکھ تھے جو قدرت والے نے لکھ دیئے۔ تب مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ زندگی کے اس سفر میں مجھے کیسے کیسے حالات سے سامنا کرنا پڑے گا لیکن ربِ عظیم نے مجھے حوصلہ بخشا … یہ قوت عطا فرمائی کہ میں مشکل سے مشکل وقت … آزمائش میں سرخرو ہوں۔ مجھے بارہا تختہ مشق بنایا گیا لیکن کوئی مجھے زیر نہ کرسکا۔ ربِ کریم کی ذات مجھ پر ہمیشہ مہربان رہی اور میں اللہ کے حضور جتنا بھی شکر ادا کروں، وہ کم ہے۔

میری پرورش جس ماحول میں ہوئی، وہ انتہائی سادہ اور پُرسکون ماحول تھا۔ زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو جائے گی یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ نئے حالات، نیا ماحول، نئے زاویے، نئی سوچیں، نئی فکر … سب نے جب مجھے اپنی لپیٹ میں لیا تو آغاز میں پریشانی لاحق ہوئی لیکن ہر بار نئے عزم، حوصلہ کے ساتھ معمولاتِ کار کو نبھانے کی سعی کی۔ بڑوں کا احترام کرنا تو ہماری تربیت کا خاصا ہے۔ بڑے میاں صاحب ہی کیا۔ میاں شہبازشریف اور حمزہ شہباز بھی انتہا درجہ کا احترام دیتے آئے ہیں اور مجھ پر ان کی جو عزت کرنا لازم تھا، وہ میں دل سے دینے میں کوشاں رہا۔ ان کے خاندانی رکھ رکھائو نے مجھے ان کے اور قریب کردیا۔

کبھی کوئی ایسی بات یا فیصلہ جسے آپ نے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیا ہو؟

جی نہیں … جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسی کی نہ تو عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ ٹھونسا جاتا ہے۔ باہمی اتفاق سے معاملات کو نبٹانے کی ہر کوئی کوشش کرتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں مجھے عزت ملی۔ حق مغفرت فرمائے مرحومہ کلثوم نواز۔ اپنی زندگی میں مجھے اپنی شفقت سے نوازتی رہی ہیں، وہ زندگی ہار گئیں۔ ان کی جدائی کا چرکہ ہم سب سہہ رہے ہیں۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ میرے پاس ہیں کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا۔ وہ اپنا بیت وہ خلوص وہ چاہت ہی میری زندگی کا خزینہ ہے۔ میری حقیقی والدہ نے بھی مجھ سے بہت پیار کیا لیکن اس ماں کے پاس مجھے پیار کے ساتھ عزت واحترام بھی ملا۔ وہ میرا کتنا خیال رکھتی تھیں وہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ کھانے کی ٹیبل پر بھی جب وہ آجاتیں تو مجھے وہاں نہ پاکر میرا پوچھا کرتیں۔ آج بھی سب کچھ ہے، نظامِ زندگی چل رہا ہے لیکن ان کے بغیر سب کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔ میں جاتا ہوں ان کی لحد پر فاتحہ خوانی کیلئے … اور وہ لمحات مجھے جن کرب سے اس وقت گزرنا پڑتا ہے وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ ان کی لحد کے ساتھ ہی مرحوم میاں شریف بھی مٹی بوجھ تلے آسودہ راحت ہیں حق مغفرت فرمائے۔ مرحوم بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے اور ان کی یہ خوش نصیبی تھی کہ ان کو اللہ نے جو اولاد دی وہ انتہائی فرمانبردار، وہ کمال کی شخصیت تھے۔ وہ ہنس مُکھ تھے جو ان سے ایک بار مل لیتا وہ اُن ہی کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کے عروج اور آزمائشیں سب دیکھیں۔ وہ ثابت قدم رہنے والے تھے۔ عزت اور وقار سے انہوں نے جینا سیکھا تھا۔

آپ نے مشرف کا دور بھی دیکھا اور اب عمران خان، کچھ کہنا چاہیں گے؟

مشرف اپنے دوراقتدار کا فرعون تھا اور عمران خان … جو باتیں ریاست مدینہ کی کرتا ہے لیکن اس کا کردار کوفہ والوں جیسا ہے۔ اسے اس کی خبر نہیں کہ ایک روز آئے گا … یوم حساب کا روز … جہاں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ وہاں پیاسے کُتے کا حساب بھی لیا جائے گا اور جس نے پوری قوم کو بھوک، ننگ اور افلاس میں دھکیلا۔ اس سے بھی بازپُرس ہو گی۔ ہم تو آزمائش سے گزر ہی رہے ہیں، ہم آزمائشوں کے قابل تو نہیں … اللہ ہم پر مہربان رہے … ہم گناہگار ہیں … لیکن عمران خان کس عذاب کا شکار ہو گا اُسے اس کی خبر نہیں!!

میاں نوازشریف کے بیانیے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

میرے تن پر بھی یونیفارم رہی ہے۔ مجھے ہی نہیں میاں نواز شریف بھی اس یونیفارم کی قدرواہمیت کو جانتے ہیں اور اس یونیفارم سے پیار کرتے ہیں۔ جس طرح معاشرے میں اچھے بُرے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر ادارے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں، کسی برائی کی نشاندہی کرنا جرم نہیں بلکہ جہاد ہے۔ ان کے بیانیے کو اختراعی رنگ نہ دیا جائے۔ ان کا بیانیہ اس ذمہ داری کو نبھانے کا کہتا ہے جو لازم ہے۔ اپنی حدود سے تجاویز اور مداخلت بے جا سے گریز کرنا ضروری ہے۔

اور مریم نواز شریف؟

وہ خداترس بھی ہیں اور رحم دل بھی۔ نیک سیرت بھی ہیں اور خوددار بھی، انہیں عزت ووقار سے جینے کا سلیقہ بھی ہے اور مصائب جھیلنے کا حوصلہ بھی، وہ فرمانبردار بھی ہیں اور شفیق ماں بھی … اور باوصف شریک حیات! ان حالات میں میدانِ سیاست میں یکتا ہیں۔ بنا خوف وخطر وہ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف عمل … ظلم وجبر کی حشرسامانیوں کے باوجود ان کے عزم حوصلہ کو ماننا پڑتا ہے کہ وہ جس راستے پر گامزن ہیں … وہ قدرت ان کے لیے ہموار کررہی ہے۔

٭…٭…٭


ای پیپر