Nai Baat Magazine Report
20 اپریل 2021 (21:47) 2021-04-20

اسد شہزاد ...

1973ء ملتان روڈ پر واقع ضیاء شاہد کا گھر ہے۔ اس گھر میں ضیاء شاہد،باجی یاسمین شاہد، عدنان شاہد اور نوشین شاہد رہتے ہیں۔ رشتوں میں باجی یاسمین میری والدہ کی کزن ہیں۔ شوق تھا قلم کے سمندر میں اُترنے کا اور میری عمر تھی صرف 18سال … ماں نے کہا جائو وہاں جاکر شوق پور ا کرلو، اگر لکھنا نہ آیا تو گھر واپس چلے آنا … گھر سے ملتان روڈ جانے کے لیے ویگن پکڑی اور دھڑکتے دل کے ساتھ ضیاء شاہد کے دروازے پر ضیاء شاہد کا نام پڑھا تو دل کی دھڑکن تیز ہونا شروع ہوئیں۔ کانپتے ہاتھوں سے بیل پر انگلی رکھی تو گھنٹی یوں بجی جیسے گھنٹی کا کرنٹ میرے اندر اُتر آیا۔ پھر چند لمحوں کے بعد دروازہ کھلا تو بہت نوجوان تیکھے نین نقش اور قدآور ضیاء شاہد میرے سامنے تھے۔ ڈر کے مارے اپنے نام کی بجائے ماں کا نام لے لیا … اندر آئو … اور پھر جب گھر کی دہلیز کے اندر قدم رکھے تو سامنے برآمدے میں باجی یاسمین اور ان کے بچے تھے … بہت نوعمر بچے …!

چند لمحوں کے بعد ضیاء صاحب بولے:

اوپرآجائو اور میں ان کے پیچھے پیچھے اوپر والے کمرے میں پہنچ گیا۔ کمرہ کیا تھا … اخبارات، رسائل، میز، قینچیاں، گم اور سفیدکاغذ … اور چاروں طرف کٹے اخبارات کی قطریں … ابھی سوچ رہا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ ضیاء صاحب پھر بولے…!

یہ کہانی ہے … (  ہفت روزہ)

یہ صحافت ہے … (روزنامہ)

اور تم نے دونوں کی ڈمیاں بنانا ہیں … یہ تھی میری پہلی ملاقات۔ پہلا کام اور روزانہ کے دس روپے میری تنخواہ … پھر وقت گزرا … زمانہ بدلا … حالات بدلے۔ کہانی طویل ہے جو عشروں پر پھیلی ہوتی ہے … ضیاء شاہد کے بارے میں کیا لکھوں، کیا کہوں، کہاں سے شروع تو کہاں اختتام کروں کہ نہ تو ضیاء شاہد کو شروعات ہیں نہ اختتام … 49سالہ سفر میں میں بڑے طوفان، بڑی بارشیں، بڑی آندھیاں، ٹوٹتے بکھرتے سنورے دن رات کبھی ان کے ساتھ تو کبھی اوروں کے ساتھ میں صحافت کے 49ویں برس میں اُتر گیا … کل شام ایک خبر ملی کہ آئی اے رحمان چل بسے، پھر دو تین گھنٹے کے بعد ایک اور خبر آگئی … ضیاء شاہد انتقال کر گئے … دونوں خبریں بڑی دکھ بھری تھیں۔ دونوں کے قد بڑے تھے مگر ضیاء شاہد بہت بڑے تھے۔ ان کی خبر ان کے نکالے اخبارات، ان کے ہاتھوں سے نکلے ہزاروں چھوٹے بڑے صحافت کے نام، کیا لکھوں، کیا نہ لکھوں، صحافت کا گھر بنانے والا صحافت کو نسلوں میں اُتارنے والا، صحافت کو بلندیوں تک لے جانے اور صحافت کا علمبردار، قلم کا پاسدار … کل صحافت کو بے آسرا کر کے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا ہے۔ ایک بڑی تاریخ ایک صدی سے دوسری صدی میں اُترنے والی تحریر اور تصویر اب یتیم ہو گئی ہے۔ صحافت کے در ودیوار آج جھک گئے ہیں کہ وہ ایک ہی ضیاء شاہد تھا اس کی لکھی تحریر پھر نہیں لکھی جائے گی، نہ تصویر بنائی جائے گی نہ خبر کے اندر سے خبر نکالی جائے گی۔

خداتعالیٰ ان کی مغفرت کرے۔ انسان چاہے کتنا چھوٹا بڑا ہو اس کے کام اور اس کے لگائے پودے جب صدیوں میں ڈھل جاتے ہیں تو تاریخ ان کو اپنے اندر سمو لیتی ہے جیسے ضیاء شاہد

٭…٭…٭


ای پیپر