Shakeel Amjad Sadiq, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
20 اپریل 2021 (11:46) 2021-04-20

پروفیسر جنید ثاقب ہمارے پیارے دوست اور دلدار ہیں ۔ماہر معاشیات ہیں۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اکانومسٹ ہونے کہ باوجود دو اور دو چار کے چکر میں نہیں پڑتے۔کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔دنیا کے کسی کونے میں میچ ہو ،دیکھے بغیر رہ نہیں سکتے۔فلم بینی کے حد سے زیادہ شوقین ہیں۔ادب کے ساتھ خاصا لگاؤ ہے۔ایک سفر نامہ بھی لکھ چکے ہیں۔سیکڑوں ناول اور افسانے پڑھ چکے ہیں۔ کتاب سے محبت کا یہ عالم ہے کہ باقاعدہ کتابیں خریدتے ہیں ۔سیروسیاحت کے دلدادہ ہیں۔کئی ممالک کی سیر کرچکے ہیں۔ تو قارئین آئیے ایک سفر کی روداد انکی زبانی سنتے ہیں۔ایک امریکی ائیرلائن میں خاتون نے فلائٹ میں سوار ہوتے ہی اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا، میں نے کتاب بند کی اور اس کے ساتھ گرم جوشی سے ہاتھ ملایا خاتون بزرگ تھیں، جبکہ عمر ساٹھ اور ستر کے درمیان ہو گی وہ شکل سے پڑھی لکھی اور سمجھ دار بھی دکھائی دیتی تھیں۔ انہوں نے کتاب کی طرف اشارہ کر کے پوچھا؟ ’’کیا یہ عربی کی کتاب ہے‘‘ میں نے مسکرا کر  جواب دیا نہیں یہ اردو زبان کی کتاب ہے وہ مسکرائیں اپنا ہاتھ دوبارہ میری طرف بڑھایا ملایا اور دیر تک جھلا کر بولی ’’تم پاکستانی ہو‘‘ میں نے گرم جوشی سے جواب دیا ’’جی جی بالکل‘‘ وہ حقیقتاً خوش ہو گئیں۔ فلائٹ لمبی تھی، چنانچہ ہم دیر تک گفتگو کرتے رہے جینا امریکی ہیں تاریخ کی استاد ہیں ، وہ طالب علموں کو ’’عالمی تنازعے‘‘ پڑھاتی ہیں، چنانچہ وہ مسئلہ کشمیر سے بھی اچھی طرح واقف ہیں، وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مہاتما گاندھی دونوں سے بہت متاثر تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا ’’کیا تم نے گاندھی کو پڑھا ہے‘‘ میں نے جواب دیا ’’جی ہاں میں نے گاندھی کی آٹو بائیو گرافی (سوانعمری) بھی پڑھی اور ان کے سات سماجی گناہوں کا مطالعہ بھی کیا ‘‘ جینا نے مجھ سے گاندھی کے سات سماجی گناہوں کے بارے میں پوچھا؟ میں نے عرض کیا، پوپ گویگوری اول نے 950ء میں سات خوفناک گناہوں کی فہرست جاری کی تھی ان کا کہنا تھا انسان کو سات گناہ؟ ہوس، بسیار خوری، لالچ، کاہلی، شدید غصہ ، حسد اور تکبر ہلاک کر دیتے ہیں۔ انسان اگر ان سات گناہوں پر قابو پا لے تو یہ شاندار بھرپور اور مطمئن زندگی گزارتا ہے ۔ گاندھی جی نے پوپ گویگوری کے سات گناہوں کی فہرست سے متاثر ہو کر 1925ء میں سات سماجی گناہوں کی فہرست جاری کی، ان کا کہنا تھا؟ جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پاتا وہ معاشرہ اس وقت تک معاشرہ نہیں بنتا۔ گاندھی جی کے بقول اصولوں کے بغیر سیاست گناہ ہے۔ کام کے بغیر دولت گناہ ہے، اخلاقیات کے بغیر تجارت گناہ ہے۔ انسانیت کے بغیر سائنس گناہ ہے اور قربانی کے بغیر عبادت گناہ ہے۔ یہ سات اصول 

بھارت کے لیے گاندھی کا سماجی ایجنڈا تھا۔ وہ مسکرائیں مجھے تھپکی دی اور پھر پوچھا؟ ’’کیا تم قائداعظم محمد علی جناح کے سات اصول بھی بیان کر سکتے ہو‘‘؟ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’قائداعظم پریکٹیکل بااصول انسان تھے ‘‘ وہ فرمودات پر یقین نہیں رکھتے تھے چنانچہ انہوں  نے زندگی میں قوم کو کوئی تحریری ایجنڈا  نہیں دیا تھا۔ وہ میری طرف دیکھتی رہیں، میں نے عرض کیا؟ گاندھی اور قائداعظمؒ میں فرق تھا۔ گاندھی فلاسفر تھے اور قائداعظم پریکٹیکل انسان تھے، وہ کہنے کے بجائے کرنے پریقین رکھتے تھے، اس لیے ہمارے پاس اقوال سے زیادہ قائداعظم کی مثالیں موجود ہیں۔ میں خاموش ہو گیا، بولیں میں وہ مثالیں سننا چاہتی ہوں۔ میں نے عرض کیا؟ مثلاً قائداعظم نے پوری زندگی وقت کی پابندی کی، پوری زندگی قانون نہیں توڑا، پوری زندگی اقرباء پروری نہیں کی، پوری زندگی رشوت دی اور نہ لی۔ پوری زندگی اپنے مذہبی رجحانات کی نمائش نہیں کی (وہ سنی تھے، وہابی تھے، یا پھر بریلوی، قائداعظم نے پوری زندگی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی) پوری زندگی وعدے کی پابندی کی۔ پوری زندگی کوئی سمجھوتہ نہیں توڑا، پروٹوکول نہیں لیا۔ سرکاری رقم نہیں کھائی، ٹیکس نہیں بچایا، آمدنی نہیں چھپائی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، کسی کا حق نہیں مارا، اور پوری زندگی کسی شخص کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی۔ وہ مسکرا کر  بولیں ویل ڈن آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ وہ واقعی بہت شاندار انسان تھے، میں ان سے بہت انسپائرڈ ہوں۔ وہ رکی اور پھر آہستہ سے بولیں؟ میں اگر آپ سے مزید سوال پوچھ لوں تو آپ مائنڈ تو نہیں کریں گے۔ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ نہیں ضرور پوچھیں میں حاضر ہوں ‘‘ ۔ وہ بولیں؟ کیا آپ قائداعظمؒ سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے فوراً جواب دیا؟ دل و جان سے وہ بولیں؟ آپ پھر بتائیے آپ میں اپنے قائداعظمؒ کی کون کون سی خوبی موجود ہے۔ میرے لیے یہ سوال غیر متوقع تھا۔ میں پریشان ہو گیا اور میں پریشانی میں دائیں بائیں دیکھنے لگا وہ بھانپ گئیں اور آہستہ آواز میں بولیں۔ آپ یہ چھوڑ دیں آپ صرف یہ بتائیں۔ آپ کی قوم نے اپنے قائد کی کون کون سی خوبی کو اپنی ذات کا حصہ بنایا۔ میں مزید شرمندہ ہو گیا۔ میرے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ وہ مسکرا کر بولیں؟ میں تاریخ کی طالب علم ہوں۔  میں اسلام سے بھی انسپائر ہوں۔ میں آدھی اسلامی دنیا دیکھ چکی ہوں۔ آپ مسلمان دو عملی (منافقت) کا شکار ہیں۔ آپ لوگ ہمیشہ نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہیرو کہتے ہیں۔ آپ ان کے خلفاء اور صحابہؓ کو بھی آئیڈیل کہتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو آپ ان کی کوئی ایک خوبی بھی ’’اڈاپٹ‘‘ نہیں کرتے۔ آپ میں آپ کے آئیڈیلز کی کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ آپ لوگ قائد اعظم جیسی شخصیت کے بارے میں بھی اسی طرز عمل کا شکار ہیں۔ آپ نے قائداعظمؒ کو نوٹ پر چھاپ دیا، آپ ہر فورم پر ان کی عزت بھی کرتے ہیں اور آپ ان کے لیے لڑنے مرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں لیکن جب ان جیسا بننے کی باری آتی ہے تو آپ دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں چنانچہ میرا مشورہ ہے؟ آپ اگر اسلام پھیلانا چاہتے ہیں تو آپ رسول اللہ ﷺ جیسی عادتیں اپنا لیں اور آپ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو قائداعظم کے اصولوں پر عمل شروع کر دیں، آپ کا ملک یورپ سے آگے نکل جائے گا وہ رکیں اورنرم آواز میں بولیں؟ میں اپنی ہر پہلی کلاس میں طالب علموں سے ان کے آئیڈیلز کے بارے میں پوچھتی ہوں، یہ جب اپنے اپنے آئیڈیلز بتا دیتے ہیں تو پھر میں ان سے پوچھتی ہوں آپ وہ خوبیاں گنوائیں جو آپ نے اپنے آئیڈیلز سے متاثر ہو کر اپنی زندگی میں شامل کیں، زیادہ تر طالب علموں کا ردعمل آپ جیسا ہوتا ہے ، میں پھر ان کو بتاتی ہوں میں اس وقت تک آپ کے آئیڈیل کو آئیڈیل نہیں مانوں گی، جب تک آپ کی زندگی میں ان کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی، آپ اگر دل سے اپنے آئیڈیلز کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں تو پھر آپ میں ان کی عادتیں موجود ہونی چاہئیں، ورنہ آپ (منافق) ہیں اور میں نے زندگی میں کسی منافق کو کبھی مطمئن اور اچھی زندگی گزارتے نہیں دیکھا‘‘۔ 


ای پیپر