Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
20 اپریل 2021 (11:36) 2021-04-20

’’ایک علاقہ کا گھس بیٹھیا سردار بہت زور آور اور ظالم تھا۔ اس کے گماشتوں اور اس کی معمولی سی ملکیت کے علاوہ جو کمزور زمیندار تھے، اُن کی زمینیں زندگیاں ، آزادیاں اور عزتیں بھی اسی کے رحم و کرم پر تھیں۔ جن زمینوں کا تکیہ بارانی اور نہری پانی کی باری پر تھا۔ وہاں ایک حریت پسند کسان پیدا ہوا جسے اور بعد میں اس کے خاندان کو سردار نے اپنے ساتھیوں سے مل کر عبرت بنا دیا مگر اس کی اولاد میں سے جو بچ گئے ان میں ایک لڑکا اور کچھ بچے باقی رہ گئے تھے۔ جو اپنی سرشت میں آزادی کی خو رکھتا  تھا۔ اس کے خاندان نے شریک زمینداروں  (حاسدین)، کسانوں (مخالفین) اورسردار (حاکم) جو کہ ناجائز قابض اور فرعون کے کردار و سفر کو اپنی زندگی میں جاری رکھے ہوئے تھا ،کے ڈر سے بیٹے کو ننھیال بھیج دیا کہ کہیں اس کو بھی مار نہ ڈالیں کیونکہ علاقہ میں جس کسی کی آنکھ میں آزادی کی چمک ہوتی، شریکا اور سردار اس کو بغاوت سمجھتے۔ حریت پسند انسان دوست جو بھلی چڑھا تھا کا بیٹا ننھیال میں پروان چڑھا جو کبھی کبھار رات کی تاریکی میں آتا دو چار دن ددھیال کے پاس رہتا اور چلا جاتا۔  اس دوران وہ اعلیٰ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا لکھا مگر اسکو اپنی زمین پر واپس آنے کے لیے ایک سورما بن کر آنا تھا۔ بہادری اور طاقت اس کو ورثہ میں ملی تھی۔ اس کے اجداد اور پیروکار سر اٹھا کر بات کرنے کے جرم میں کئی بار بیگار کاٹ چکے تھے ۔ کئی مار دیئے گئے، کچھ سولی لٹکا دیئے گئے اور کچھ کو جاگیربدر کر دیا گیا۔ دنیا بہت وسیع ہے مگر امیر حمزہ کی خواہش تھی کہ اپنا حق ضرور لینا ہے۔ اپنی زمین پر اپنی مرضی سے روایات جو طاقت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں کے مطابق ان کو ضرور زندہ کرنا ہے، اپنے محروموں اور مرحوموں کا قرض اتارنا ہے۔ امیر حمزہ جب کڑیل جوان ہو گیا، پڑھ لکھ چکا اور سورما بھی بن چکا۔ سردار جس کے ساتھ تمام منافق، ملاں،منشی، قاضی، خوشامدی اور درباری تھے، اب امیر حمزہ اس سے اپنا حق منوانا چاہتا تھا جس کی ابتدا پانی کی باری تھی (اس لمبی جنگ میں جاگیر کے بڑے خطے کا ایک حامی بھی سردار کا باغی ہو چکا تھا، جو خود اور اس کی اولاد بھی بھلی چڑھے ہوئے حریت پسند کی طرح آزادی مانگ رہا تھا)۔ امیر حمزہ اپنے والد سے کہنے لگا کہ ابا آپ بوڑھے ہو چکے ہیں۔آپ پر بہت بوجھ ہے ، آئے دن جھوٹے سچے مقدمات بھی آپ پر بنتے رہتے ہیں لہٰذا اب میں آپ کی جگہ اپنے لوگوں کی نمائندگی اور مشقت کروں گا۔ شام ہوئی کسی، کلہاڑی اور کھانے کا سامان باندھ کر گھر سے نکلنے لگا تو باپ نے پوچھا بیٹا کدھر اس نے کہا ابا اپنی باری پر اپنی زمین کی فصل کی آبیاری کے لیے پانی لگانے جا رہا ہوں۔ باپ نے کہا کہ بیٹا رات کی باری تو میں مدتوں سے لے رہا ہوں اور اپنی زمین 

کے زیادہ اور اہم رقبے سے بھی محروم ہوں تجھے تو دن کی باری اور اپنے حصے کی زمین کی واگزاری کے لیے پالا اور جوان کیا ہے۔ امیر حمزہ نے رات گزرنے کا گھر پر انتظار کیا اور صبح اپنی زمین پر پہنچ گیا۔ شریکے اور سردار کے ہرکاروں نے پوچھا کدھر اس نے کہا اپنی زمین کو پانی لگانے اور فصلوں کی آبیاری کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا تم اپنی اوقات بھول گئے ہو یقین نہ آئے تو یاد دلائے دیتے ہیںجاؤ اپنے اجداد کے قبرستان دیکھ لو وہاں سے ہم سے ٹکرانے کے نتیجے کی صدائیں آ رہی ہیں۔ امیر حمزہ بولا کہ وہ صدائیں ہی مجھے رات دن چین نہیں لینے دیتیں یا تو دھرتی ماں کی روایات دوبارہ زندہ کروں گا اگر ظلم نہ روک سکا تو یہ بازی جان کی بازی ہے یہ ہم ہی جیتیں گے مگر اپنا اور اپنے لوگوں کا میں حق ضرور لوں گا۔ (بڑے حصے کا باغی ، ساتھی اور اس کی اولاد بھی اس کے ساتھ ہو لیے)۔ ان کا سردار اور اس کے گماشتوں سے یدھ پڑ گیا جس میں بالآخر حریت پسند اور اہل حق جیت گئے۔ زمین کو پانی دیا،فصلوں کی پیاس بجھائی اور اپنی باقی زمین پر اپنا حق اور قبضہ لینے کا اعلان کیا۔دراصل اس کے اس اعلان میں ان گنت کمیرے، کسان ، مزدور، محروم اور ذلتوں کی دلدل میں اترے ہوئے لوگوں کی پکار اور للکار بھی شامل تھی۔ چند دن گھمسان کا یدھ تو ہوا جینے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ حق کی خاطر لڑنا پڑتا ہے۔ حق سچ بہت بے باک ہوتا ہے۔ آنکھیں پھاڑ کر سامنے کھڑا ہوا کرتا ہے جبکہ باطل ، جھوٹ اور شر کی تو جڑیں سرے سے ہوتی ہی نہیں جبکہ نتائج اور چند سانسوں پر سمجھوتہ پس پشت ڈال کر کھڑا ہونا پڑتا ہے لہٰذا فیصلہ ہو گیا کہ آئندہ زمینی روایات اور انسانیت کے آئین اور فطرت کے قانون کے مطابق معاشرت کی بنیادیں رکھی جائیں گی‘‘۔ 

محترمہ مریم نواز اور محترم بلاول بھٹو آپ کے خاندانوں پر سچے جھوٹے الزامات ہوں گے، وہ لڑتے بھی ہوں گے اور ڈرتے بھی ہوں گے ۔ان کو آپ کی زندگی بھی عزیز ہو گی اور مستقبل بھی۔ آپ پر تو کچھ الزام نہیں۔ اگر آپ لوگوں نے بھی مصلحت کی سیاست کرنی ہے چندلوگوں کو ریاست ماننا ہے۔ اگر آپ نے بھی رات کی باری پر فصلوں کو پانی لگانا ہے۔ اگر آپ نے بھی خیرات میں ملنے والی زمین سے حاصل ہونے والا اناج ہی کھانا ہے تو یہ رات کی باری اس ملک کے محروم طبقے ازلوں سے لے رہے ہیں بہت دھوکے کھا چکے ہیں۔ بہت دکھ اٹھا چکے ہیں، بہت سمجھوتے دیکھ چکے ہیں۔ بہت لاشیں اٹھا چکے ہیں ،بہت زخمی گھروں میں ہیں۔ بہت بے نام دفنا چکے، چند نام والے مشعل راہ ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور یاد رہے کہ یہ سب کی عارضی ہے فرعونوں کی بھی اور محکوموں کی بھی ۔ کوئی ایک سے زیادہ جیون نہیں جیتا ایک ہی جیون ایک ہی زندگی ہے اور اس میں کردار بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ جو مثبت یا منفی ہوتا ہے۔ مرنا سب نے ہے۔ اکڑنا سب نے ہے کوئی مرنے سے پہلے کوئی مرنے کے بعد، مرنے سے پہلے اپنے حق پر کھڑے ہونے والے امر ہوتے ہیں۔ اگر آپ محکومو ں، مظلوموں، حقداروں، ذلتو ں کے مارے، بھوک افلاس کے مارے ٹھگوں ، چوروں نقالوں ، نیم حکیموں کے مارے لوگوں کے دکھوں کا مداوا بن کر اگر محرومیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں تو پھر دن کی باری لینا ہو گی اپنی زمین پر کاشت کرنا ہو گی ورنہ رات کی باری اور خیرات کی فصل پر پلتے ہوئے صدیاں بیت گئیں۔ یہ زندگی بھی بیت جائے گی۔ آپ سیاست نہ کریں رہنمائی کریں۔ دائرے کے سفر کو توڑ کر صراط مستقیم کا تعین کریں ورنہ کبھی نہ کبھی تو قانون فطرت حرکت میں آئے گا۔ ’’جب تک بے ضمیر لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار رہے گا ، بد فطرت لوگ باضمیر لوگوں پر ظلم کرتے رہیں گے‘‘۔ 

یہ حالت آج وطن عزیز کے ہر ادارے کی دوسرے ادارے ، ادارے کے اندر، عوام کے ساتھ عوام کے درمیان اور عوام کے اندر ہے۔ چاہے وہ نیب ہے، ایف آئی اے، عدلیہ، بیورو کریسی، ایف بی آر، انتظامیہ، اشرافیہ، پرولتاریہ سب کے سب مگن ہی نہیں مبتلا ہو چکے ہیں رعایا کو رات کی باری نہیں دن کی باری اور قبضہ چاہیے۔ 

"If you can't fight, then join them"والا فارمولا نہیں چلے گا۔


ای پیپر