Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
20 اپریل 2021 (11:33) 2021-04-20

وائٹ ہاؤس کے جس کمرے سے 2001ء میں صدر بش نے افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا اسی کمرے سے امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ اس طرح امید بندھی ہے کہ افغانستان میں 4 دہائیوں سے جاری خانہ جنگی منطقی انجام کو پہنچے گی اور وہاں امن و امان کا بول بالا ہو گا۔ نائن الیون کے بعد نیٹو اور امریکی فوجوں نے افغانستان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں مگر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی پسند کا حکومتی سیٹ اپ مستحکم کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس دوران امریکہ کو اس جنگ میں اربوں ڈالر جھونکنا پڑے مگر سب بے سود ثابت ہوا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن حکومت کے اقتدار سے رخصت اور ڈیمو کریٹ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد صدرجو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدر نے بہتر انداز سے معاہدہ نہیں کیا۔ افغان طالبان کی جانب سے امریکی صدر کے اس بیان پر فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیاتھا کہ امریکہ کو افغانستان سے فوجی انخلا میں ناکامی کی صورت میں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور دھمکی دی تھی کہ اگر معاہدے کے مطابق یکم مئی تک تمام غیر ملکی فوجی دستے افغانستان سے واپس نہ گئے تو ان پر مسلح حملے دوبارہ شروع کر دیئے جائیں گے۔

ادھر افغان امن عمل کی کامیابی اور اور خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی تذویراتی اہمیت نے بھارت کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے جس نے واضح طور پر ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اثر مقبوضہ کشمیر پر بھی پڑے گا۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنا پر افغانستان میں فیصلہ کن کردار حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت ہرزہ سرائیاں کر رہا ہے کہ امریکی فوجوں کی جگہ پیدا ہونے والے خلا کی جگہ شر پسند لے سکتے ہیں اس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پھر سے عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی بھارت کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھا لے گا۔ اس سے قبل بھارت نیٹو افواج کی حمایت کے ساتھ افغانستان میں بیٹھ کر اپنے مفادات حاصل کر رہا تھا، جس نے غیر ملکی فوجوں کی آشیر باد سے افغان سر زمین کا پاکستان کے خلاف بے دریغ استعمال کیا۔ پاکستان ہمیشہ سے مستحکم افغانستان کا خواہاں رہا ہے چونکہ اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن سٹیٹ اور اہم اتحادی ہونے کے ناتے اس جنگ میں اسے 80 ہزار شہادتوں اور 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔  اس لئے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ چاہے گا کہ افغانستان میں دوبارہ بد امنی پیدا ہو۔ اس وقت ایک بار پھر افغانستان میں پاکستان کا کردار بڑا اہم ہے کیونکہ ایک جانب افغانستان میں قیامِ امن کا پاکستانی خواب تعبیر پانے جا رہا ہے تو دوسری جانب ماہرین بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت کے خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں جن کے باعث اس وقت پاکستان کو ایک محتاط خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال ایک بار پھر عالمی سیاست کے محور پر آ گئی 

ہے۔ پاکستان نے افغان امن عمل کے لئے ہمہ جہتی کردار ادا کرتے ہوئے علاقائی قوتوں کو قریب لانے، مذاکراتی ادوار اور شورش و جنگجوئی کے خاتمہ کی کوششوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑے مٔوثر انداز میں استعمال کیا۔ اس کے علاوہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کو کثیر جہتی مکالمہ تک لانے اور امریکیوں کے لئے بات چیت کو ممکن بنانے کے پورے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

امریکہ کا افواج کے انخلا کا فیصلہ ایک بہترین قدم ہے اور اس سے افغانستان کو ایک نئی سمت حاصل ہو گی۔ لیکن یہ بات اہمیت کی حامل ہو گی کہ اس ملک کو صحیح راہ پر گامزن کرنے کے لئے بھارت جیسے ممالک کو مسائل کھڑے کرنے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ اگر بھارت نے ماضی کی طرح اپنا غیر ضروری اثر بڑھانے کی کوشش کی تو خطہ ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ امریکہ کے انخلا سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ کسی بھی سرزمین پر بیرونی طاقتوں کی موجودگی علاقہ کے امن و استحکام کو یقینی نہیں بنا سکتی۔ افغانستان کے پہاڑوں میں امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور عسکری قوت کی ناکامی نے خطے کے اہم ممالک کے خیال میں یہاں موجود کھربوں ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر تک رسائی کا امکان روشن کر دیا ہے۔ جنگ کے بعد گزشتہ چار دہائیوں کی جنگ سے تباہ حال اس ملک کی قسمت کے فیصلے اور مستقبل کی تشکیل کے لئے روس، چین اور خطے کے دوسرے ممالک کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ افغانستان کے معدنی وسائل تک رسائی کے لئے امن کی خواہش اور اس کے لئے ناگزیر مصالحت کے لئے کی جانے والی سفارتی کوششیں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہو سکتی ہیں لیکن جہاں تک افغانستان میں مرکزیت کے قیام اور ایک با اختیار حکومت کی تشکیل کے لئے کسی بھی قابلِ عمل فار مولے کا تعلق ہے تو منطقی اعتبار سے ایسا کوئی ماڈل سامنے نہیں آ سکا جسے موجودہ حالات میں موزوں اور زمینی حقائق کے مطابق قرار دیا جا سکے اور جس پر فریقین اتفاق کر سکیں۔دوسرا یہ کہ طالبان کو افغانستان کے 60 فیصد حصہ پر قابض ہونے کی وجہ سے مذاکرات کی حد تک تو قبول کر لیا گیا ہے لیکن جہاں تک مستقبل کی حکومت کا تعلق ہے امریکہ کی طرح روس اور چین کی خواہش بھی یہی ہے کہ افغانستان میں کوئی ایسی قیادت سامنے نہ آنے پائے جو افغانستان میں عالمی طاقتوں کے مفادات کے لئے چیلنج بن سکتی ہو۔ تمام طاغوتی طاقتیں جانتی ہیں کہ طالبان اقدار و روایات کے ساتھ مستحکم طور پر جڑے ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے افغانستان میں سرمایہ داریت کا جال مکمل آزادی اور فن کاری کے ساتھ نہیں پھیلایا جا سکتا ہے۔ طالبان کی موجودگی میں یہ امر تقریباً نا ممکن ہے کہ عالمی ساہو کار اپنی من مرضی سے افغانستان کے وسائل کی لوٹ مار کر سکیں۔ اس لئے افغانستان کے لئے تیار کئے گئے تمام منصوبوں میں ان قوتوں کی نمائندگی ضروری خیال کی جاتی ہے جو مستقبل میں عالمی طاقتوں کے مفادات کے ضامن بن سکتے ہوں۔ اب جب کہ امریکی صدر نے 11 ستمبر نیٹو فوجوں کے انخلا کے لئے ٹائم فریم دے دیا ہے تو بہتر یہی ہے کہ امریکی قیادت طے شدہ اوقات کے مطابق افغانستان سے فوجی انخلا کو یقینی بنائے تا کہ خطے میں امن کا قیام ممکن بنائے۔ اس کے لئے اسے بھارت کو بھی حد میں رکھنا چاہئے جو ایک بار پھر سے حالات کو خراب کرنے کے لئے نئی چالیں چل رہا ہے۔تمام قوتوں کو ایک بات نہیں بھولنی چاہئے کہ افغانستان میں امن طالبان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر