Umer Khan Jozi, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
20 اپریل 2021 (11:30) 2021-04-20

ڈاکٹرنے مریض بچے سے پوچھاکہ سردرد کے لئے میں نے آپ کوجوگولیاں دی تھیں ان سے آپ کوکچھ فائدہ وافاقہ ہوا۔؟مریض بچے نے ڈاکٹرکی طرف دیکھتے ہوئے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔جی ڈاکٹرصاحب۔ بہت فائدہ اورکافی افاقہ ہواہے۔اب دن بھرمیں ان گولیوں سے کھیلتارہتاہوں اورسردردکی طرف میرادھیان ہی نہیں جاتا۔یہی حال آج کل اس ملک میں ہمارے جیسے غریبوں کا بھی ہے۔ کیونکہ سناہے کہ ڈاکٹر سرکارکی طرف سے ہم غریبوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یوٹیلٹی سٹورز پر ریلیف، سبسڈی اورپیکیج کے نام پر جوحکیمی پکی یا ڈاکٹری گولیاں دی گئی ہیں اس پکی اورگولیوں سے ہمارے جیسے اکثر غریبوں کوبہت فائدہ اورکافی افاقہ ہواہے۔اب غریب روزے کی حالت میں دن بھریوٹیلٹی سٹورزکے باہرلمبی لمبی لائنوں میں ریلیف،سبسڈی اور پیکیج پیکیج کھیلتے رہتے ہیںاوریوںمہنگائی کی طرف ان کادھیان ہی نہیں جاتا۔ ملک میں اس وقت مہنگائی کی کیاصورتحال ہے یایوٹیلٹی سٹورزپررمضان پیکیج اورریلیف کی کیاحقیقت ہے اس سے صرف اپنے نہیں بلکہ بیگانوں کے بیگانے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ اس ملک کے اندرایک عرصے سے ریلیف،سبسڈی اورپیکچ کے نام پرجس طرح کے ڈرامے کئے جاتے ہیں اورجس طرح غریب عوام کوبیوقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ افسوسناک اور شرمناک ہی نہیں بلکہ انتہائی شرمناک بھی ہے۔کسی غیرمسلم ملک میں کیا۔؟ دنیاکے کسی مہذب معاشرے میں بھی اس طرح لوٹ ماراوردھوکہ بازی کوکہیں ریلیف،سبسڈی اورپیکیج کانام نہ دیاجاتاہوگاجس طرح کی بے ایمانی،جھوٹ اورفریب کوکلمہ طیبہ کے نام پربننے والے اس ملک میں ’’ثواب‘‘ کا جامہ پہنا کر غریب عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔کیامہذب معاشروں اورمسلم ریاستوں میں رمضان المبارک اوردیگرمذہبی واسلامی تہواروں کے موقع پراس طرح کاظلم کیاجاتاہے۔؟انسانیت کے لبادے میں چھپے شیطان جس طرح رمضان المبارک کے مقدس اوربابرکت مہینے میں یہاں کھل کرعوام کاخون چوسناشروع کردیتے ہیں ایساظلم اورکفرتوکہیں بھی نہیں ہوتاہوگامگرافسوس کامقام یہ ہے اس ظلم ،دجل اورفریب میں اب حکمران بھی ثواب کی نیت سے شامل ہورہے ہیں۔جس ریلیف،سبسڈی اورپیکیج کواربوں روپے کالباس پہنایاگیاآپ اس 

ڈرامے کی حقیقت دیکھیں توآپ کانوں کوہاتھ لگانے پرمجبورہوجائیں گے ۔اربوں روپے کے ریلیف پیکیج میں یوٹیلٹی سٹورپرڈالڈااورچینی سمیت جودیگرکچھ چیزیں  مل رہی ہیں آپ اگرریکارڈدیکھ لیں تویہی اشیاء رمضان المبارک سے کچھ دن پہلے تک ان ہی قیمتوں پربغیرکسی ریلیف ،سبسڈی اورپیکیج کے وافرمقدارمیں مل رہی تھیں لیکن آج وہی چیزیں اربوں روپے کی سبسڈی وریلیف جامہ پہننے کے باوجود آسانی کے ساتھ کہیں بھی دستیاب نہیں ۔جب سے ہم نے ہوش سنبھالاہے تب سے توہم خودچشم دیدگواہ ہیں اس سے پہلے کانہیں پتہ کہ کب سے اس ملک میں رمضان المبارک کے دوران یوٹیلٹی سٹورکایہ ڈرامہ چل رہا ہے۔ ہرسال جب رمضان المبارک کامقدس مہینہ قریب آتاہے اس سے چنددن یاکچھ ہفتے پہلے ایک منظم منصوبے کے تحت چینی،آٹا،گھی،دال اوربیسن سمیت دیگراشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ایمرجنسی طورپر دس سے پندرہ یابیس سے بچاس روپے تک اضافہ ضرور کیا جاتا ہے اور رمضان پیکیج، ریلیف یا سبسڈی کیلئے یہ اضافہ فرض بھی ہوتاہے اورکچھ قوتوں پرقرض بھی۔کیونکہ رمضان المبارک سے پہلے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جوہنگامی پیشی کی جاتی ہے اسی پیشی کوپھرواپس اپنے مقام پرلاکراس حرکت ،منطق  اورحساب کتاب کو نہ صرف کمی اور سستی کانام دیاجاتاہے بلکہ اسے سبسڈی اور ریلیف کے میٹھے پانی سے غسل دیکراربوں روپے کاجوڑابھی پہنادیاجاتاہے اور اس طرح ایک ٹکٹ میں دومزے والاپروگرام ثواب اورخدمت کی نیت سے ہرسال کی طرح ایک بارپھرپایہ تکمیل کوپہنچ جاتا ہے۔ ویسے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ایمرجنسی اضافوں کاسلسلہ تودن کے بارہ گھنٹے،ہفتے کے سا توںایام ،مہینے کے تیس دن اورسال کے بارہ مہینے تک اس خوش قسمت ملک میں بدقسمت عوام کے لئے بغیرکسی وقفے اورناغے کے چلتارہتاہے لیکن ماہ مقدس کی آمدکی خوشی میں تو زمین پھٹے یاآسمان گرے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔ یہ اضافہ ضرور کیا جاتا ہے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں چند ٹکوں کی خاطر غریب عوام کو مشکلات کی وادیوں میں دھکیلنے والے ،،لوگ،،بھی اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں۔رمضان المبارک کے اس مہینے کی قدروقیمت اوراہمیت سے کون واقف نہیں۔یوں توسارے مہینے اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں لیکن رمضان المبارک یہ تووہ مبارک مہینہ ہے جسے پروردگارعالم نے خاص کر اپنامہینہ قراردیاہے۔اس مہینے میں توشیطان بھی جکڑ لئے جاتے ہیں۔آج اس مبارک مہینے کی بابرکت گھڑیوں اورمبارک ساعتوں میں اس ملک کے اندرچندپیسوں اورٹکوں کے لئے جوکچھ ہورہاہے واللہ ۔۔واللہ۔۔اسے دیکھ کریوں لگتاہے کہ جیسے ہم ملک اوروطن نہیں کسی جنگل میں رہ رہے ہوں۔اس قدرظلم،بے حسی اوربے ایمانی کامظاہرہ تواس مبارک مہینے میں وہ کالے کافربھی نہیں کرتے ہوں گے جس طرح کی بے ایمانی اورظلم ہم کلمہ پڑھنے والے مسلمان اپنے ہی کلمہ گو وروزہ دار بہن، بھائیوں کولوٹتے ہوئے کررہے ہیں۔حکمرانوں نے جو کرنا تھاوہ انہوں نے کر لیا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی مستقل بڑھا لیں۔ پھرانہی قیمتوں کی جمع تفریق کے ذریعے ہمارے خون پیسنے کی کمائی اور ٹیکس کے اربوں روپے بھی ادھر سے ادھر کر دیئے۔ اب کسی کویوٹیلٹی سٹور پر چینی،ڈالڈااوردال دلیاملے یانہیں اس سے ان حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں۔ ان کاکام عوام کی توجہ،ذہن،خیال اوردھیان کومہنگائی سے ہٹاناتھاوہ انہوں نے غریب عوام کویوٹیلٹی سٹورکے باہرلائنوں میں لگا کر ہٹا دیا ہے۔ ایک روزہ داربندہ جوصبح سے شام تک لائن میں کھڑارہے۔پھروہ لائن سے گھرواپس بھی خالی ہاتھ آئے ۔اس بے چارے کوکیاپتہ ہوگاکہ اس ملک میں مہنگائی ہے کہ نہیں۔یوٹیلٹی سٹورکے باہر ریلیف اورپیکیج کھیلتے کھیلتے مہنگائی کی طرف تواس کادھیان ہی نہیں جائے گا۔اسی مقصدکیلئے توعوام کولائن میں لگایاگیاتاکہ نہ رہے بانس اورنہ بجے بانسری۔ہم مانتے ہیں کہ یوٹیلٹی سٹورپرماہ رمضان کے لئے جس پیکیج کااجراء کیاگیاہے یہ کوئی نیا کام اور اقدام نہیں بلکہ یہ سلسلہ برسہا برس سے اس ملک میں جاری ہے اور غالباًآئندہ بھی جاری رہے گا۔ ہمیں اس پیکیج ،اس رسم اوررواج پرکوئی اعتراض نہیں ہماری توبس ایک گزارش ہے کہ خدارا غریبوں کودنیاکے سامنے تماشانہ بنائیں۔ یہ چار سے پانچ چھ ارب روپے اگر اوپن مارکیٹ میں بھی عوام کوریلیف دینے کیلئے دیئے جاتے تواس سے غریبوں کے کندھے مہنگائی کے بوجھ سے اتنے ہلکے ہوجاتے جتنے یوٹیلٹی سٹورپردس ،بیس رمضان پیکیجزدینے سے بھی کبھی ہلکے نہیں ہوں گے۔ رمضان المبارک میں غریب عوام کو لائنوں میں لگانایہ انسانیت کی کوئی خدمت ہے اورنہ ہی غریب عوام پرکوئی احسان۔ حکمران اگرعوام کوریلیف دینے میں سنجیدہ اورمخلص ہیں تووہ اس طرح کے روایتی ڈراموں سے نکل کرعملی دنیامیں کوئی قدم اٹھائیں تاکہ عوام کوسچ اورحقیقت میں کوئی ریلیف مل سکے۔


ای پیپر