ہور چوپو! 
20 اپریل 2021 2021-04-20

کالعدم ٹی پی ایل کی کچھ حالیہ واقعات کے پیش نظر حکومت نے گزشتہ ہفتے کے روز تک انٹرنیٹ سروس بند کر رکھی‘ اس حوالے سے عوام کو جو مشکلات پیش آئیں ناکام وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اس پر معذرت کی‘ انہوں نے فرمایا ”یہ اقدام اس لئے کیا گیا تھا گزشتہ جمعہ کو کالعدم ٹی پی ایل نے احتجاج کی کال دی تھی‘ مگر پورے ملک میں امن رہا کوئی باہر نہیں نکلا“ حکمرانوں خصوصاً وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے لئے یہ شکر کا مقام ہے کوئی باہر نہیں نکلا ورنہ ایک بار پھر انہیں ویسی ہی ”اہلیت“ کا مظاہرہ کرنا پڑ جاتا جس کا ہمیشہ نقصان ہی ہوا‘ انہوں نے بطور وزیر ریلوے ”کامیابی“ کے جو جھنڈے گاڑے اس کی بنیاد پر انہیں کوئی ایسا محکمہ سونپا جانا چاہئیے تھا جس میں مزید تباہی کی کوئی گنجائش ہی نہ ہوتی‘ ملک و قوم کی بھلائی کے لئے ضروری ہے شیخ رشید احمد کو کچھ نہ کرنے کی یعنی بالکل فارغ رہنے کی تنخواہ یا مراعات وغیرہ ملتی رہیں حکمرانوں خصوصاً اصل حکمرانوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ممکن ہے انہیں وزیر داخلہ ان کی اس واحد خصوصیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہو تو انہیں تقریباً ہر حکمران جماعت میں ”داخل“ ہونے کا اچھا خاصا تجربہ ہے.... ویسے جس طرح ہمارے ہاں اکثر ایسے ہوتا ہے مختلف لوگوں کو ان کی اہلیت‘ علم اور تجربے کے بالکل الٹ محکمے یا ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جیسے کچھ بیماروں کو وزیر صحت بنا دیا جاتا ہے کچھ بدمعاشوں کو وزیر قانون بنا دیا جاتا ہے‘ کچھ ان پڑھ اور جاہلوں کو وزیرتعلیم بنا دیا جاتا ہے اور جن میں یہ ساری ”خصوصیات“ ہوں انہیں وزیر اعلیٰ یا وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے تو میں ایسے میں یہ سوچ رہا تھا پاکستان میں ”اخلاقیات“ کا کوئی محکمہ ہوتا اس کے لئے سب سے موزوں وزیر اپنے شیخ رشید احمد ہوتے.... جہاں تک کالعدم ٹی پی ایل کے کچھ افراد کا معاملہ ہے اسے سوائے کچھ افراد کے کسی نے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا آپ کی ناموس پر ہماری جان مال اولاد سب کچھ قربان‘ مگر کسی جتھے‘ کسی لشکر‘ کسی گروہ کو کوئی حق نہیں پہنچتا جوصرف خود کوسب سے بڑا عاشق رسول ثابت کرنے یا ثابت کروانے کی کوششوں میں ایسا راستہ اختیار کرے جو آپ کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہو‘ آپ سے محبت اور عقیدت کا سب سے بڑا طریقہ آپ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے‘ آپ کی ناموس پر پہرہ دینے کے دعویداروں نے آپ کا یہ ارشاد پاک شاید نہ سنا ہو”سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں“ پھرفرمایا ”اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہے جس کی برائی کے ڈر سے لوگ اسے چھوڑ دیں“.... لوگوں کی دل آزاری سے آپ کس قدر گریز فرماتے تھے یا اسے کتنا برا سمجھتے تھے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے آپ نے فرمایا ”اگر تین آدمی کسی مجلس میں ہوں تو دو الگ ہو کر باہم سرگوشی نہ کریں کہ اس سے تیسرے آدمی کا دل دکھے گا“.... کسی مسلمان کو گالی دینا آپ کے نزدیک فسق (بدعملی) اور اسے کافر کہنا کفر کے مترادف تھا آپ نے فرمایا ”تم میں سے جو شخص بازارسے مسجد میں آئے اور اگر اس کے ہاتھ میں تیر ہوں تو ان کی نوک والی سمت کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھے ایسا نہ ہو کسی مسلمان کو لگ جائے۔میں یہ بات بڑے دکھ کے عالم میں کہہ رہا ہوں مولانا خادم حسین رضوی کے تاریخی بڑے جنازے کی وجہ سے ٹی پی ایل کی عزت یا قدروقیمت میں جو اضافہ ہوا تھا ٹی پی ایل کی ”بچہ پارٹی“ نے اسے ضائع کر دیا‘ یہ درست ہے اس ضمن میں کچھ حکومتی اقدامات بھی انتہائی قابل مذمت ہیں‘ خصوصاً جو معاہدہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوانے کا کیا گیا یا جوطریق کار اس ضمن میں واضح کیا گیا وہ ہرگز قابل عمل نہیں تھا‘ بجائے اس کے اس وقت حکمران کوئی اور راہ نکالتے افہام و تفہیم کے لئے ملک کی کچھ قابل قدر اور غیرمتنازعہ مذہبی شخصیات کو آگے کرتے‘ محض وقت گزاری کے لئے ایک ناقابل عمل معاہدہ کر دیا گیا حکومت کا خیال تھا اپنی ”وزارت سائنس و ٹیکنالوجی“ کے ذریعے وہ شاید ایسا کوئی بندوبست کرلے کہ معاہدے کی حتمی تاریخ جو کہ دس اپریل بنتی تھی وہ کبھی نہ آئے ماہ اپریل سے دس تاریخ نکال دی جائے اور نو کے بعد دس کے بجائے گیارہ اپریل شروع ہو جائے‘ حکمرانوں کا کردار اس ضمن میں لائل پور کے اس سردار جی جیسا تھا جسے کسی نجومی نے کہا ”سردار جی کل بارہ بجے آپ فوت ہو جائیں گے“.... سردار جی لائل پور کے گھنٹہ گھر چوک میں نصب بڑے گھڑیال پرصبح سویرے چڑھ گئے اور اس کی سوئیاں پکڑ کر کہنے لگے‘ اسی اج بارہ وجن ای نئیں دینے“ سو جتنے نااہل ہمارے حکمران اور ان کے امپورٹڈ ترجمان و مشیران وغیرہ ہیں ممکن ہے وہ سب یہ فیصلہ کر کے بیٹھ گئے ہوں کہ ہم نے ٹی پی ایل سے معاہدے کی حتمی تاریخ دس اپریل آنے ہی نہیں دینی.... ایک اور بات کی ہمیں تو سمجھ آتی ہے کچھ بے وقوفوں کو شاید نہ آتی ہو کچھ مذہبی قوتوں کے غباروں میں ہوا کون بھرتا ہے؟ کون اپنے مذموم یا مخصوص مقاصد کے لئے انہیں استعمال کرتا ہے؟ کون انہیں اس مقام پر لے آتا ہے جب اپنے ہی ”تحقیق کاروں“ کو بھی وہ آنکھیں دکھانے لگتے ہیں؟ اور پھر ان تخلیق کاروں کے پاس سوائے انہیں کچلنے کے کوئی راستہ باقی نہیں رہتا‘ برس ہا برس سے جاری و ساری اس کھیل میں ملک کا جو نقصان مسلسل ہوتا جا رہا ہے اس کے کچھ باطنی ذمہ داروں کا بھی کبھی کوئی محاسبہ ہوگا یا نہیں؟ کوئی ان کا محاسبہ کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا تو ازخود ہی وہ تھوڑا رحم اب ہم پر کھا لیں۔ اپنے کردار اپنی ”عقل کل“ پر ازسرنو غور فرما کر آئندہ کوئی ایسی حکمت عملی اپنا لیا کریں جس کا نقصان تھوڑا کم ہوا کرے۔ جہاں تک ٹی پی ایل کے حالیہ طرز عمل کا تعلق ہے جو اذیت لوگوں کوانہوں نے دی‘ جو نقصان سرکاری املاک کو پہنچایا جو راستہ تشدد اور ظلم کا انہوں نے اپنایا اس کے نتیجے میں گھیہو کے ساتھ گھن بھی اب پس رہا ہو کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں جس شر کی شروعات ٹی پی ایل نے کی ان سے کہیں زیادہ شرکا آغاز ”جواب آں غزل“ کے طورپر اب دوسری جانب سے شروع ہو گیا ہے تو اسے اب برداشت کریں‘ جس انداز میں بے قصور پولیس ملازمین و افسران پر تشدد اور ظلم کیا گیا ان کے اس عمل کو بھی پیش نظر نہیں رکھا گیا کہ ان بے چاروں نے جوابی کارروائی کے طور پر اپنی فطرت کے مطابق کہیں سیدھے فائر نہیں کھول دیئے‘ ان بیسیوں پولیس افسروں اور ملازمین کے صبر کو جس طرح آزمایا گیا اس پر ان بے شمار لوگوں کی ہمدردیاں بھی پولیس کے ساتھ ہو گئیں جنہوں نے پولیس کو کبھی عزت و قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا تھا۔


ای پیپر