کورونا،رمضان اور حکومت کی ذمہ داریاں
20 اپریل 2020 (22:11) 2020-04-20

اگر حالات کا درست تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بالکل الم نشرح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان لاک ڈائون کے معاملے پر اب بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ ہر پریس کانفرنس میں ایک طرف وہ لاک ڈائون یا اس میں توسیع کا اعلان کرتے ہیں جبکہ ساتھ ہی وہ لاک ڈائون کی مخالفت میں بھی تقریر جھاڑ لیتے ہیں۔گزشتہ ہفتے ایک طرف انھوں نے لاک ڈائون میں توسیع کا اعلان کیا جبکہ دوسری طرف انھوں نے سب کچھ کھولنے کا حکم بھی دیا۔اس غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے انتظامیہ اور کاروباری لوگوں کے درمیان کئی دن آنکھ مچھولی جاری ہے۔ لوگ دکانیں کھولنا چاہتے تھے جبکہ انتظامیہ ایسا کرنے نہیں دے رہی تھی۔رمضان المبارک میں حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مساجدوں میں بڑے اجتماعات کو روکنا تھا۔علماء کے ساتھ مشاورت کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں۔اب جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ہے حکومت اور علماء کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کرنا۔رمضان المبارک کے بعد حکومت کے لئے سب بڑا چیلنج نماز عید کے اجتماعات کے لئے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔لیکن اگر ہم صورت حال کا جائزہ لیں تو وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں تاحال اس وبا کی روک تھام پر سیاست ہی کر رہی ہے۔ابھی تک پورے ملک میں ہسپتالوں میں بیرونی مریضوں کے لئے او پی ڈی بند ہے۔ اس اہم شعبے کو اس لئے بند کیا گیا ہے کہ حکومتیں ابھی تک او پی ڈی میں کام کرنے والوں ڈاکٹروں ، نرسوں ،پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر عملے کو حفاظتی سامان اور آلات پہنچانے میں ناکام ہے۔وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنی ناکامیوں کا بدلہ عوام سے لے رہی ہے۔یہ بالکل وہی طریقہ کار ہے جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اپنا یا کر تے تھے ۔ ملک میں جب کوئی دھماکہ ہوتا ،کوئی قومی دن ہوتا یا مذہبی تہورار کا موقع ہوتا تو وہ امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کی بجائے موبائل سروس بند کر دیتے تھے۔مو جودہ حکومت بھی رحمان ملک کے آزمائے ہوئے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو حفاظتی سامان اور آلات فراہم کر یں انھوں نے او پی ڈی ہی بند کر دی۔

رمضان المبارک میںچند روز باقی ہے ۔ حکومت نے علماء کے ساتھ مشاورت کے بعد معاملہ حل کر دیا ہے ،لیکن عوامی مسائل کے حل کے لئے ابھی تک کو ئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا ہے۔لاک ڈائون میں تو سیع کی گئی ہے لیکن رمضان المبارک کے ایام میں کاروبار کے کیا اوقات

ہونگے اس کے لئے ابھی تک کوئی منصوبہ بند ی نہیں کی گئی ہے۔دودھ اور دہی کی دکانیں سحری اور افطاری کے اوقات میں کھلی ہونگی کہ نہیں ؟ حکومت ابھی تک فیصلہ کرنے میں ناکام ہے۔سرکار کوچاہئے کہ دودھ اور دہی کی دکانوں کے رمضان المبارک میں اوقات کار کا فوری طور پر اعلان کردیں۔اسی طرح تندوروں کے اوقات کار کا بھی ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ وہ سحری اور افطاری کے اوقات میں کھلے ہونگے کہ نہیں؟اشیائے خورونوش کی دکانوں کے لئے بھی ابھی تک اوقات کار کا اعلان نہیں کیا گیاہے کہ رمضان المبارک میں ان کے اوقات کار کیا ہونگے۔درزیوں کو دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن تاحال اس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں ان کے اوقات کار کیا ہو نگے۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ رمضان المبارک میں درزی رات کو کام کرتے ہیں اور دن کو آرام ۔لہذا ضروری ہے کہ حکومت واضح اعلان کردیں کہ درزیوں کے رمضان المبارک میں اوقات کار کیا ہونگے تاکہ رمضان المبارک میں انتظامیہ اور درزیوں کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔اسی طرح سموسے ،پکڑوں اور بیکریوں کے لئے بھی حکومت کو چاہئے کہ وہ رمضان المبارک سے قبل واضح پالیسی اپنائیں تاکہ پھر رمضان المبارک میں انتظامیہ اور یہی لوگ آپس میں مشت و گریبان نہ ہوں۔تعمیرات کے شعبے کو اجازت دی گئی ہے لیکن تاحال ان کو یہ نہیں بتا یا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں ان کے اوقات کار کیا ہو نگے ؟ یہ اس لئے ضروری ہے کہ رمضان المبارک میں تعمیرات کے شعبے میں بھی مزدور رات کو کام کرتے ہیں اور دن کو آرام۔ حکومت کو چاہئے کہ بروقت ان کے لئے اوقات کار کا فیصلہ کرلیں ایسا نہ ہو کہ پھر مزدور اور انتظامیہ رات کے اندھرے میں ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوں۔تعمیرات کے شعبہ سے متعلق دوکانوں کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں ان کے اوقات کار کیا ہونگے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس بارے میں جلد فیصلہ کریں تا کہ بعد میں رمضان المبارک میں لوگ ایک دوسرے سے لڑائی ،جھگڑوں سے محفوظ رہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران ان شعبہ جات کے لئے اوقات کار کا فوری طور پر اعلان کردیں جن کو انھوں نے کام کرنے کی اجازت دی ہے ۔صوبائی حکومتوں نے جن شعبوں کو کام کرنے کی اجازت دی ہے ،ان کی ذمہ داری ہے کہ رمضان المبارک میں ان کے اوقات کار کا علان کردیں تاکہ رمضان المبارک میں انتطامیہ اور کاروباری لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائیاں نہ کریں۔ پلمبر اور الیکٹریشن کو بھی کام کرنے کی اجازت ہے ،لیکن رمضان المبارک میں یہی لوگ بھی رات کو کام کرتے ہیں ،لیکن حکومت نے ابھی تک ان کے لئے بھی اوقات کار کا تعین نہیں کیا ہے۔لہذا ضروری ہے کہ ان کے اوقات کار کا بھی تعین کیا جائے تاکہ پلمبر اورالیکٹریشن ،انتظامیہ کے چھاپوں سے محفوظ رہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے وزیر اور مشیر صرف اعداد وشمار کے پریس کانفرنسوں تک محدود نہ رہے بلکہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے منصوبے بنا ئیں اور اس پر عمل درآمد کے لئے عملی اقدامات بھی کریں۔ابھی تک وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کا زیادہ تر زور پریس کانفرنسوں اور ایک دوسرے پر الزامات پر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران ان تمام شعبہ جات کوجس کو حکومتوں نے کام کرنے کی اجازت دی ہے ان کے لئے اوقات کار اور احتیاطی تدابیر کا فوری طورپر نہ صرف اعلان کردیں بلکہ اس پر مکمل عمل درآمد کے لئے منصوبہ بندی بھی کریں۔تاحال حکومتیں مچھروں کو ختم کرنے کے لئے گندگی پر مٹی کے تیل کا چھڑکائو کر رہی ہے ،لیکن مچھروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے گندگی اٹھا نہیں رہی ہے۔


ای پیپر