قومی یک جہتی اور اتفاق رائے کا فقدان کیوں؟!
20 اپریل 2020 (22:09) 2020-04-20

سچی بات ہے کہ میں اس موضوع پر پچھلے چند دنوں سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن پچھلا کالم میری طرف سے تاخیر سے بھیجنے جانے کی وجہ سے ہفتے کے مقررہ پہلے دن منگل یا بدھ کو چھپنے کی بجائے اگلے مقررہ دوسرے دن ہفتہ کے روز چھپ سکا اس بنا پر اس موضوع پر جو میرے خیال میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مجھ سے لکھنے میں کچھ تاخیر ہو گئی ہے۔ اب اتوار کو میں نے محترم نجم ولی خان کا "کرونا سے لڑنا ہے یا آپس میں؟" کے عنوان سے چھپنے والا کالم دیکھا تو اش اش کر اُٹھا کہ محترم نجم ولی خان نے اپنے کالم کا کیسا خوب صورت ، جامع اور صحافیانہ مہارت کا حامل عنوان باندھا ہے جس پر نظر پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انھوں نے انتہائی اہم قومی موضوع پر حسب سابق اور حسب روایت حقائق کو سامنے رکھ کر خوب صورت اور موثر پیرائے میں بات کی ہوگی ۔ کالم کا پہلا پیراگراف اس کی گواہی دے رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں "بولا یہ جا رہا ہے کہ کرونا سے لڑنا ہے اور کیا یہ جا رہا ہے کہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ سار ا قصور حکومت کا ہے مگر ملک میں ہم آہنگی اور یک جہتی برقرار رکھنے کی ذمہ داری کسی بھی دوسرے شعبے سے کہیں زیادہ حکومت کی ہی ہے۔ وفاقی حکومت ، سندھ حکومت سے ہی نہیں لڑرہی بلکہ اس کے اشاروں پر حرکت میں آنے والا نیب بھی قائد حزب اختلاف کو طلب کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی ترجمانی کے دعویدار ایک بے روز گار صاحب روزانہ ٹیوٹر پر ایک نیا محاذ کھولتے ہیں ،سچ اور جھوٹ کے فائر کرتے ہیں، وہ اپنی روٹی تو پکی کر لیتے ہیں مگر ملکی ماحول کو بھی پرا گندہ کرتے ہیں۔"

جناب نجم ولی خان کے کالم کے ابتدائی پیراگراف میں بیان کردہ ان خیالات کو برسر زمین حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یقینا غلط نہیں کہا جا سکتا اسی طرح آگے چل کر اپنے کالم میں انھوں نے پنجاب میں ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈکس کے مطالبات اور ان کے نہ مانے جانے کی وجہ سے ڈاکٹروں کی بھوک ہڑتال اور حکومت با الخصوص سیکرٹری سپیشلائیزڈ ہیلتھ پنجاب جناب نبیل اعوان کے متکبرانہ اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھے جانے والے رویے اور وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی بے عملی اور بے بسی کا جو ذکر کیا ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ کہنا کہ اس انتہائی مشکل ، نازک اور ہنگامی صورت حال میں کرونا سے لڑنے والی فوج کے ہراول دستے جو ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈکس پر مشتمل ہے کا پنجاب سیکٹریریٹ میں بھوک ہڑتال کے لیے بیٹھا ہونا تشویش کی بات ہے ، واقعی درست ہے ۔ جناب نجم ولی خان کے کالم میں

بیان کردہ خیالات کی تائید کے ساتھ پنجاب حکومت سے دردمندانہ اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ ہڑتالی ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرامیڈکس کے جائز مطالبات کو فی الفور تسلیم کرتے ہوئے صورت حال میں موجود کشیدگی کو ختم کرے کہ اسی میں بہتری اور بھلائی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب جناب بزدار صاحب ان ہنگامی حالات میں ہیلی کاپٹر پر پنجاب کے مختلف شہروں کی دورے کرکے اپنے آپ کو متحرک ظاہر کرنے کا جو مشغلہ اپنائے ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب انہیں اس سے فراصت ملتی ہے اور کب وہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کے جائز مطالبات کی طرف دھیان دیتے ہیں۔ تاہم کرونا وبا ء کے پھیلائو کی اس انتہائی مہیب ، خطرناک اور نازک صورت حال میں تمام قومی حلقوں جن میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ، مقتدر حلقے ، مستقل ریاستی ادارے ، سیاسی اور دینی جماعتیں، علماء کرام ، سیاست دان اور عوام الناس کے مختلف طبقے اور کاروباری حلقے اور ادارے وغیرہ شامل ہیں ان کے مابین اتفاق رائے اور قومی یک جہتی کا موجود ہونا اہم ہی نہیں انتہائی ضروری بھی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے اس ضمن میں اتفاق رائے کی چولیں ہی ڈھیلی نہیں ہیں بلکہ قدم قدم پر اپنی اپنی ڈفلی بجانے باالخصوص وفاقی اور صوبائی حکومتوںکے مابین فکر و نظر اور پالیسیوں کے اختلافات کے ساتھ عملی طور پر اختیار کردہ لائحہ عمل پر بھی اتفاق رائے کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کی ذمہ داری یقینا مکمل طور پر وفاقی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن وفاقی حکومت یہ کہہ کر اس سے بری وذمہ بھی نہیں ہو سکتی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اپنی اپنی حدود کے اندر بڑی حد تک پالیسیاں بنانے اور ان کے مطابق قانون سازی یا دوسرے اقدامات کرنے کے لیے آزاد اور خودمختار ہیں اور جیسا چاہیں ایسا کر سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے گاہے گاہے سامنے آنے والے اس موقف کو محض عذر لنگ ہی کہا جا سکتا ہے خاص طور پر ان حالات میں جب کرونا کے پھیلائو کو روکنے اور اس سے لڑنے کے لیے وفاقی حکومت نے اپنی زیر نگرانی کئی طرح کے فورم اور ادارے تشکیل دے رکھے ہیں۔وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے تقریباً روزانہ ہی اجلاس منعقد ہوتے ہیں اس کے ساتھ عسکری قیادت کی بھرپور معاونت ، مشاورت اور شرکت کے ساتھ وفاقی وزیر جناب اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (NCOC)بھی قائم ہے جس کے بھی روزانہ ہی اجلاس ہوتے ہیں اور کرونا کے پھیلائو کی تازہ ترین صورت حال کو سامنے رکھ کر مختلف اقدامات ، فیصلوں اور لائحہ عمل کی منظوری بھی دی جاتی ہے۔ پھر ان حالات میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات ، فیصلوں اور لائحہ عمل میں اختلافات کا پایا جانا یقینا فکر اور افسوس کی بات ہونی چاہیے اور اس کا تدارک ضرور کیا جانا چاہیے۔

یقینا یہ تشویش کی بات ہے کہ موجودہ نازک حالات میں سندھ کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے اقدامات اور لائحہ عمل میں بڑا اختلاف اور بُعد پایہ جاتا ہے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ ہاتھ باندھ کر اور رو رو کر دُہائی دیتے ہیں کہ لاک ڈائو ن میں نرمی نہ کی جائے اور نہ ہی عوام کے گھروں سے کثیر تعداد میں باہر نکلنے کی اجازت ہونی چاہیے کہ اس سے کرونا کے پھیلائو کو روکا نہیں جا سکے گا۔ اسی طرح پنجاب کی حکومت جو اپنی ہی پارٹی کی وفاقی حکومت کے اشارے پر لاک ڈائون کی کچھ پابندیوں پر نرمی کا اعلان کرتی ہے لیکن اگلے ہی دن اس پر نظر ثانی کرکے اس نرمی کو ختم کرنے کا آرڈر بھی جاری کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر حجاموں اور ہیر کٹنگ و ڈریسنگ کی دُکانیں کھولنے اور اگلے دن ان پر دوبارہ پابندی لگانے کا فیصلہ ۔ یقینا ایسا نہیں ہونا چاہیے جو بھی فیصلے کیے اور اقدامات اٹھائے جائیں پوری طرح سوچ سمجھ کر کیے جائیں اور ان پر عمل در آمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ بلاشبہ وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں یقینا سب سے بڑھ کر ہیںجیسے محترم عطاء الرحمان (اللہ کریم ان پر صحت کاملہ اور سلامتی کے دروازے وا کیے رکھے) نے اتوار کو "کرونا کی تباہ کاریاں اور شعار دینی "کے عنوان کے تحت چھپنے والے اپنے کالم میں حکومت کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے یہ جملہ لکھا ہے "ریاست کی نمائندہ اور چہرہ ہونے کے ناطے اس (حکومت) کی حیثیت ماں کی سی ہے"یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کو ماں بن کر اپنی شفقت اور محبت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس کی ذرا سی بھی کوتاہی اور نظر انداز کرنے کی پالیسی انتہائی نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔

آخر میں اس بات کا حوالہ کرنا کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا کہ صحت اور تعلیم کے معاملات مکمل طور پر صوبوں کے اپنے اختیار میں ہیں اور اس ضمن میں انھیں اپنی آزادانہ پالیسیاں بنانے اور موجودہ صورت حال میں موثر اور قابل عمل حکمت عملی اخیتار کرنے میں کوئی قدغن نہیں ہے نہ ہی اپنے وسائل سے اخراجات کرنے یا مالی وسائل مختص کرنے پر کوئی پابندی ہے۔ یقینا صوبائی حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ رونے دھونے کی بجائے وقت کی نزاکتوں اور صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے جو بھی اقدامات ضروری سمجھے انہیں روبہ عمل لانے میں کوئی تاخیر نہ کریں یہی وقت کی ضرورت ہے۔


ای پیپر