صرف اللہ سے نہیں اس کی مخلوق سے معافی
20 اپریل 2020 (22:08) 2020-04-20

ایک ویڈیو کلپ مجھے جسٹس ریٹائرڈ علی اکبر قریشی نے وٹس ایپ کیا جس میں پوپ فرانسس ایک کالے قبیلے مورز کے لوگوں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ رہے ہیں کہ ہم نے تم لوگوں پر نسلی امتیاز کے حوالے سے بہت ظلم کیے ہیں ہمیں بحیثیت قوم معاف کر دیں۔ انفرادی تباہی، انفرادی آزمائش یا عذاب ہوا کرتی ہے لیکن جہاں اجتماعی عذاب ، تباہی یا آزمائش آجائے تو پھر معافی بھی اجتماعی ہوا کرتی ہے ۔ اللہ رب العزت سے معافی دراصل اس کی اس مخلوق سے معافی ہوا کرتی ہے جس پر مظالم توڑے گئے ہوں جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو حضرت بلال بن رباحؓ کی دعا تھی : ’’اے اللہ کبھی ظالم اپنے آپ کو مظلوم کے بدن کے اندر محسوس کرے‘‘۔ اللہ سے معافی سے پہلے اس کی مخلوق سے معافی درکار ہوا کرتی ہے ۔ کیا ہمارے ملک میں کسی مکتبہ فکر، مسلک اور حکمران طبقے ، بیورو کریسی اور صاحب ثروت کو توفیق ہوئی کہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مظلوم سے معافی مانگے؟ استغفراللہ! رب العالمین کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟ اس کے باغی ہونے سے اس کی ربوبیت اور شان میں کیا کمی آ سکتی ہے البتہ اس کی مخلوق کے لیے ظلم کا بازار گرم کرنا دراصل اس کی بادشاہی سے بغاوت ہے۔ اس کے قانون انصاف اور قدرت سے بغاوت ہے۔ زندگی میں ہوش و حواس کے ساتھ سال ہا سال سے یہ ظلم ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ ممالک ان کے بلاک اور آگے ذیلی اداروں سے لے کر انفرادی طور پر انسان انسانوں سے جو سلوک روا رکھے ہوئے ہیں یہ کیا ہے سب فرعونیت، یزیدیت کے شعبے نہیں ہیں؟ اور فرعونیت کا سفر جاری نہیں رکھے ہوئے؟

بیرون ممالک میں ہم سب کے بہت جاننے والے ہیں۔ امریکہ میں نیو یارک اور نیو جرسی انگلینڈ، گلاسگو اور لندن میں کوئی ہمارے ہم وطنوں کی لاشیں وصول کرنے والا بھی نہیں۔ ابھی چند ہفتے پہلے میں نے آرٹیکل لکھا تھا کہ حکومت لاشیں وصول کرلے گی؟ وہ وقت آ گیا۔ گورے اور دنیا کے طاقتور ممالک کے حکمران سڑکوں پر سجدہ ریز ہو گئے۔ نہ جانے کہاں کہاں پہلی بار اذانوں کی صدائیں آنے لگیں۔ لوگ پسپائی اختیار کر گئے۔ اللہ کی بادشاہی اور طاقت کے سامنے لیٹ گئے۔ بے بسی سے

ہاتھ کھڑے کر گئے، ہم ہیں کہ تکبر ، منافقت ، سیاست، نفرت ، حقارت اور خود نمائی سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ منو بھائی کے ایک کالم کو بہت تلاش کیا جس میں انہوں نے آرمینیا کے شاعر کی شاعری کا حوالہ دیا تھا جس کے چند جملے یاد رہ گئے۔

٭ واعظ نصیحت کر رہا تھا اور بھیڑئیے کا دھیان بھیڑوں کی طرف تھا۔

٭ گڈریے کو غم تھا ان بھیڑوں کا جو بھیڑیا کھا گیا اور بھیڑیے کو پچھتاوا تھا ان بھیڑوں کا جو بچ گئیں۔

٭ اللہ نے کسی غریب کو خوش کرنا ہو تو صبح اس کا گدھا گم کروا دیتا ہے اور شام کو ڈھونڈوا دیتا ہے۔

آج ہماری حالت زار کیا ہے کہ وباء ابھی پوری طرح انگڑائی نہیں لے پائی کے چار سو امداد امداد کی دہائی اٹھ رہی ہے اور اکڑ اور نفرت ہے کہ کرونا وائرس پر اجلاس بلایا۔ وزیراعظم اپنی بات سنا کر اٹھ دیئے۔سندھ کا وزیراعلیٰ لائیو پریس کانفرنس میں ہاتھ جوڑ رہا ہے کہ خدا واسطے سیاست نہ کریں۔ لوگوں کی جانیں بچائیں مگر ڈیوٹیاں لگ گئیں کہ ہاتھ جوڑ کر نکلیں اتاریں اور الزام لگائیں۔ علی زیدی، واوڈا، فردوس عاشق اعوان، نیا چہرہ شہباز گل ، فردوس شمیم نقوی وغیرہ کورس کی صورت میں الزامات کی بوچھاڑ کرنے لگے۔ قطع نظر اس بات کے کہ کسی نے اس ملک سے پیسہ بنایا یا نہیں بنایا ، ضیاء الحق سے لے کر عمران نیازی تک تقریباً وہی لوگ حکومت میں ہیں سوائے (ن) لیگ کی کلیدی رہنماؤں اور پیپلز پارٹی کے جبکہ موجودہ حکومت کے تمام وزراء (ن) لیگ، مشرف لیگ، ق لیگ اور اس سے پہلے پیپلزپارٹی میں تھے۔

کیا کسی کو توفیق ہوئی ہے کہ اس خاص موقع پر لوگوں کی امداد کر دیں۔ بے شک اگر وہ اعلانیہ طور پر کریں گے تو لوگ کہیں گے کہ اسی ملک کا لوٹا ہوا مال ہے مگر اس بکواس کو پس پشت ڈال کر حکمران طبقوں کو آگے آنا چاہیے اور اپنے مال کا ایک فیصد ہی اس بحران میں عوام کو دینا چاہیے۔ ابھی زیادہ دیر کی بات نہیں چند سال پہلے پیدل پھرنے والے اینکرز محفلوں میں جگتیں مارنے والے اینکرز طفیلیے سامان تعیش مہیا کرنے والے آج کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں کوئی میاں نواز شریف کو گالیاں دے اور کوئی زرداری صاحب کوگالیاں دے کر کروڑوں پتی بن گئے۔ پھل فروشوں، ردی فروشوں، ریلوے کے سپاہیوں کی اولادیں بیورو کریسی میں آ کر اربوں پتی بن گئے۔ کسی کو توفیق ہوئی کہ اس ملک میں بحران ہے لوگوں کی مدد کر دی جائے۔ وزیراعظم ان لوگوں سے مدد مانگ رہے ہیں جو خود اپنے وطن کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ بے چارے اپنے جوگے نہیں رہے اور اگر کوئی ہے بھی تو پاکستان میں موجود والدین اور خاندان کو دیکھے گا کہ وزیراعظم کی بات سنے گا جس کی پہچان ہی چندہ بن چکی ہو اور جس کی ٹیم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو ق لیگ کے دور میں 5 کروڑ روپے دے کر آخری لمحوں میں پنجاب کے وزیر بنے تھے۔ جنہوںنے مشرف سے لے کر عمران خان تک حکومتی مزے لیے۔ یہ وہ بھیڑیے ہیں جن کا دھیان صرف بھیڑوں کی طرف ہے جو بچ گئیں بلکہ ہم وطنوں کو غم ہے سال ہا سال سے لوٹنے کے بعد بھی ان کو پچھتاوہ اس کا ہے جوان کے خونی جبڑوں سے بچ گیا، وہ بھی ہڑپ کر جائیں۔ اب ہماری حالت اس غریب کی طرح ہے جس کا گدھا صبح گم گیا اور ڈھونڈ رہا ہے کہ مل جائے اگر مل گیا تو خوش ہو جائے گا کہ نیا نہیں تو پرانا پاکستان ہی مل گیا۔ اگر اللہ سے معافی مل گئی تو ہاتھ بھی ملا پائیں گے۔ 5 فٹ سے فاصلہ بھی کم ہو سکے گا جن کو دل سے برا سمجھتے تھے ان کی توخیر ہے جن سے عشق تھا ان سے بھی ہاتھ ملانے سے گئے… اپنا ہی گدھا ڈھونڈ رہے ہیں اگر اللہ نے خوش کرنا ہوا تو ڈھونڈ وادے گا۔ مگر حالت یہ ہے کہ کساد بازاری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، غصہ، نفرت وجود سے باہر پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہے۔ منافقت اور سب سے بڑھ کر کرپشن عروج پر ہے۔ ایک سکھ اپنے دوستوں کے ساتھ روزانہ شام رات کو ’’اس بازار‘‘ جایا کرتا تھا۔ اس کی شادی ہو گئی دوستوں نے کچھ دن ناغے کے بعد سکھ کو آواز دی کہ سردار جی چلنا نئیں اس نے گھر اندر سے ہی جواب دے دیا ’’ہم نے گھر میں ہی کھول لیا ہے‘‘ لہٰذا کرونا وائرس کی وجہ سے مالیاتی اداروں کے لوگوں، ایف بی آر ،ایکسائز وغیرہ کو گھروں میں رہ کر کام کی اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے گلشن کا کاروبار گھر میں ہی کھول لیا ہے اور دوسری جانب حکومت سے پھڈا ہے ہم نے مسجد میں جانا ہے مسجدیں کھول دو…خدارا! مخلوق سے معافی مانگو اور دل سے توبہ کر لو اپنے ناراض رب کو منا لو۔


ای پیپر