وہ سانحہ کہ نمٹنا جسے محال ہوا
20 اپریل 2020 (22:07) 2020-04-20

مولوی صاحب انتہائی خوش بیانی کے ساتھ واعظ فرمارہے تھے کہ خلوص نیت اور تعوذوتسمیہ پڑھ کر جو کام شروع کیا جائے وہ کام ہر صورت پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔آپ دریا یا سمندر میں بلا خوف وخطر چھلانگ لگادیں آپ ڈوبیں گے نہیں۔ آتش نمرود کا واقعہ آپ کے سامنے ہے۔ پاس سے ایک سادہ لوح اور مفلوک الحال چرواہا گزررہاتھا۔ اس نے یہ بات سنی اور گرہ دے کر اپنے پلو کے ساتھ اس بات کو باند ھ لیا۔ چرواہایہاں اپنی بکریاں چرایا کرتا اس راستے میں دریا بہتا تھا اور دریا کے دوسری جانب بڑی ہر ی بھری گھاس اور سبزہ فرش زمرد کی طرح نظر آتاتھا۔ مولوی کے اس بیان نے پریشانی خاصی کم کر دی تھی۔ اگلے دن چرواہے نے مولوی صاحب کا وظیفہ دہرایا اور پانی پر چلتا ہو ااپنی بکریوں کے ساتھ دریا کے اگلے کنارے تک پہنچ گیا۔ بکریوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی ہری بھری گھاس دیکھی تھی اور چند ہی منٹوں میں سیر ہو کر ’’سواسیر‘‘ ہو گئیں۔ چرواہے نے بکریوں کو ہانکا اور اسی وظیفے پر عمل کیا اور وقت سے پہلے گھر لوٹ آیا۔چند دنوں کے اس عمل سے چرواہے کی بکریاں صحت مند و توانا نظر آنے لگیں اور بکریوں کا دودھ بھی بڑھ گیا۔ بکریوں کا دودھ بڑھنا ہی تھا کہ چرواہے کی معاشی حالت بھی بدل گئی۔ اس واقعے کا رونما ہونا تھا کہ چرواہے کی یہ تبدیلی لوگوں کی نظر میں آ گئی۔ لوگوں نے یہ بات مولوی صاحب کو بتائی کہ چرواہے سے پوچھا جائے کہ اس کی معاشی حالت میں حیرت انگیز تبدیلی کیسے رونما ہوئی ہے؟ مولوی صاحب نے شام کے وقت چرواہے کو طلب کیا اور اس تبدیلی کی وجہ پوچھی؟ چرواہا اپنی سادہ لوہی، یقین، نیک نیتی اور صاف گوئی کے اسی مقام پر فیض تھا۔ سو چروانے مولوی صاحب کے بیان کو من و عن دہرایا اور صدق دل پر عمل کرنے کی روداد بیان کر دی۔ مجلس میں موجود ہر شخص انگشت بدنداں ہوگیا اور چرواہے کے ایمان اور یقین پر اش اش کر اٹھا اور چرواہے کے عمل کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ مجلس میں موجود ایک منچلے نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ بھی صداقت اور تعوذ و تسمیہ پڑھ کر دریا پار کر سکتے ہیں؟

اس بات کا سننا تھا کہ مولوی صاحب کا رنگ ہلدی کی مانند ہو گیا اور یخ بستہ شب میں پسینے سے شرابور ہو گیا مگر مولوی صاحب نے وقت کی نزاکت کو سنبھالتے ہوئے کہا؟ چلیں! چلیں ابھی چلتے ہیں۔ مولوی صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا اسی صبح مجلس کے ساتھ دریا کی طرف گامزن ہو گئے۔ دریا پر پہنچ کر مولوی صاحب نے روئے سخن دریا کی طرف کیا اور آنکھیں بند کر لیں مگر چند لمحوں کے توقف کے بعد مولوی صاحب نے گردن پچھلی طرف موڑی اور ساتھ کھڑے شخص سے بولے! ارے کوئی رسی وغیرہ بندوبست ہے۔ اگر نہیں ہے تو کر لو کوئی کمبخت لہر اپنی آغوش میں ہی نہ لے لے اور واپسی ممکن نہ ہو سکے۔ مولوی صاحب کا یہ کہناتھا کہ مجلس نے مولوی صاحب کو واپس لیا اور گاؤں کی طرف پلٹ آئے۔

ایمان، یقین، صداقت، خلوص، حمیت، جذبہ، ملی و قومی محبت اور یقین واحدت ایسی قوتیں ہیں جو انسانی اور قومی و ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ کرونا وائرس نے پوری دنیا پر اپنی دہشت جما دی اور واضح کر دیا کہ اس سے زیادہ خطرناک وائرس روئے زمین پر آج تک وارد نہیں ہوا ہے۔ اس وائرس نے بڑے بڑے سائنسدانوں اور ڈاکٹر کی دوڑیں لگوا دیں مگر ثابت نہ ہوئے دیا کہ یہ کیا شے ہے؟ حتیٰ کہ بڑے سے بڑے حکمران اور سپر پاور کہلانے والے انسان اور روئے زمین پر خود کو ’’داتا‘‘ سمجھنے والے اس بات پر یقین محکم کی حدوں کو چھو گئے کہ خدا کوئی ہے؟ اور وہی اس کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے صدقہ دیا، خیرات دی، راشن کی تقسیم جاری رکھی، حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقوم کا سلسلہ جاری رکھا۔ احساس پروگرام کے ذریعے رقوم کی شفافیت کا سلسلہ جاری کیا۔ تاجروں نے سارا سال لوٹے ہوئے مال سے روشن تقسیم کیا۔حتیٰ کہ ہم اس وبا کو ٹالنے کے لیے ’’اذانیں‘‘ بھی دیں۔ مگر ’’ہنوز دلی دور است‘‘ والی بات جاری ہے اور ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے کہ اس وبال جان سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے۔ بلکہ لمحہ ممکن کا احتمال نہیں ہے۔ بات کچھ بھی نہیں ہے اور بات بڑی بھی بہت ہے۔ آپ جب خالق کائنات کے ضوابط و قوانین کو توڑتے ہیں تو اس کا حساب محشر کے دن ہو گا مگر جب خالق کی مخلوق کو تنگ کرتے ہیں تو اس کا حساب آپ کو اپنی زندگی میں دینا پڑتا ہے۔ تاجر جب اپنی تجارت میں نبی اکرمؐ کے اصولوں کو نہیں اپنائے گا تو اسے اپنے کیے کا حساب دینا پڑے گا۔ خواہ وہ مکہ و مدینہ کی لاکھ زیارت کرلے۔ حکمران اتنی دیر تک سچا حاکم وقت نہیں ہو گا جتنی دیر کا وہ خلفائے راشدین کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا نہیں گا۔ قوم اور معاشرہ اتنی دیر تک مہذب اور شائستہ نہیں کہلائے گا جتنی دیر تک وہ اخلاقی، مذہبی، سماجی، معاشرتی اور تہذیبی اعتبار سے روشناس نہیں ہو گا۔ انصاف اس وقت قائم نہیں ہو گا جتنی دیر انصاف کے کٹہرے میں امیر اور غریب یکساں اور برابر نہیں ہو گا۔ یاد رکھیے کوئی وبا اس وقت آپ کو نہیں چھوئے گی جب آپ غریب کالقمہ اور اس کا رزق اسی کے منہ میں جانے دیں گے۔ کوئی جراثیم آپ کو کچھ نہیں کہے گا جب آپ ہر طرح کی ملاوٹ چھوڑ کر نبی آخر الزماں کی حدیث ’’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں‘‘ پر عمل پیرا ہو جائیں گے۔ آپ کو کوئی بیماری کچھ نہیں کہے گی جب آپ اپنی روح کو پاکیزہ کر لیں گے۔ آپ پر کوئی آفت نہیں آئے گی جب آپ حسن سلوک کو معاشرے کا حسن بنا دیں گے۔آپ کو اولاد کی طرف سے کوئی دکھ نہیں آئے گا جب آپ معصوم بچے اور بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چھوڑ دیں گے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو دنیا آپ کے جہنم سے کم نہ ہو گی اور ایسے بے بہا وبائیں آپ کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہیں گی۔ بقول پروفیسر رضا اللہ حیدر

وہ سانحہ کہ نمٹنا جسے محال ہوا

ہماری فکر کے بخیے ادھیڑ سکتا ہے

خدا کے لشکروں کا اک سپاہی چھوٹا سا

جدید دنیا کی سانسیں اکھیڑ سکتا ہے

قارئین! حرف آخر میں یہی کہ اگر ہمارا ایمان اور تیقن بھی مولوی صاحب جیسا ہی رہا اور ہم رضا اللہ حیدر صاحب کے سنہری اشعار کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اور اب فیصلہ آپ پر ہے اللہ اللہ خیر سلا!


ای پیپر