وقت اتحاد کا پیغام انتشار کا
20 اپریل 2020 (20:44) 2020-04-20

چمگاڈر نے آدھا کیلا کھایا (کم بخت پورا کھا لیتی) باقی آدھا زمین پر پڑا تھا۔ وہ گزرتے ہوئے سور نے کھا لیا (بے غیرت کو وہی آدھا کیلا کھانے کو ملا تھا کچھ اور کھا لیتا زہر کھا کے مر جاتا، دنیا کی جان چھوٹتی) اسی سور کا گوشت ایک خاتون نے مزے لے لے کر کھایا اور کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسی، پھر چل سو چل، فلم تو ڈیڑھ گھنٹے میں ختم ہوگئی۔ وائرس پر دوسرے مہینے میں بھی قابو نہ پایا جاسکا، دنیا بھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہلاکتیں، لاکھوں متاثرین، عالمی معیشتیں تباہ، دنیا پر بھوک اور فاقہ کشی مسلط، کروڑوں بیروزگار، چمگاڈر، کیلا، سور، خاتون سب مفروضہ فلمی اسکرپٹ لیکن کمال ہے حقیقت سے اتنا قریب۔ 2011ء میں فلم ریلیز ہوئی، 2020ء میں کرونا وائرس نے تباہی مچا دی۔ پاکستان میں یہ سرحدیں عبور کر کے یا طیاروں کے ذریعے لایا گیا۔ قرنطینہ کے تسلی بخش انتظامات نہیں تھے تو آنے کیوں دیا۔ پہلے ہی سرحدیں اور ائر پورٹس بند کردی جاتیں تو یہ روز بد نہ دیکھنے پڑتے، پوری قوم عذاب میں مبتلا ہے۔ لاک ڈائون کو دوسرا مہینہ چل رہا ہے، مزید دو ماہ تک جاری رہنے کے خدشات کا اظہار، میل جول، اجتماعات، عبادات، شب برأت، رمضان المبارک کی رونقیں سحر و افطار کی گہما گہمی، مساجد میں تراویح، اعتکاف اور پھر چاند رات اور عید کا ہلا گلا سب خواب، مساجد بند نہیں لیکن نمازیوں کو ترس رہی ہیں۔ علماء کی مشاورت سے رمضان کے دوران مشروط عبادت کی اجازت، دل ملے ہیں فاصلے برقرار رکھیں

نہ کوئی بھی ہم پہ پہرہ زن ہے نہ ہم کہیں آئیں اور نہ جائیں

ہر ایک انسان اپنے گھر میں خود اپنا قیدی بنا ہوا ہے

پوری دنیا لاک ڈائون کا شکار نیو یارک سے ایک

بھائی کا فون آیا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے گھروں میں قید ہیںڈر کے مارے گھر کی کھڑکیاں نہیں کھولتے کم بخت وائرس اڑ کر نہ آلگے، کاروبار، ملازمتیں سب تباہ، بیروزگاری الائونس کے لیے کروڑوں درخواستیں بھیجی گئی ہیں، خوشحالی خواب بن گئی۔ بھوک اور خوف کا عذاب مسلط ہے۔ اپنے یہاں لاک ڈائون پر بھی وفاق اور صوبوں میں اختلافات ، لفظی جنگ رکنے میں نہیں آرہی، دونوں جانب تنخواہ دار لشکر تیار، پیادے ہتھیار بند، معاونین خصوصی اور مشیران کرام روزی حلال کرنے کے لیے مستعد، ایک طرف اعلان کہ صوبے اپنے حالات کے مطابق اقدامات کریں دوسری جانب تنقید کے تیر سینے میں پیوست، وزیر اعظم کو 22 کروڑ عوام کی بھوک کی فکر، سندھ کے وزیراعلیٰ کواپنی چار پانچ کروڑ آبادی کی زندگی عزیز، وفاق نرم لاک ڈائون پر مصر، وزیر اعلیٰ سخت لاک ڈائون پر بضد، ادھر سے گولہ باری کہ وفاق کی نرم پالیسیوں سے کرونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر سے لمحوں میں جواب کہ وزیر اعلیٰ ہلاکتوں کا ذکر کر کے عوام میں خوف پھیلا رہے ہیں۔ لاک ڈائون پر بھی دو رخی پالیسی، امریکا کی 50 ریاستیں، خود مختار، خود کفیل، آئینی خود مختاری کا ٹرمپ بھی قائل لیکن لاک ڈائون کے معاملے میں صدر کے تمام احمقانہ احکامات پر مکمل عملدرآمد۔ چین نے ووہان شہر سیل کیے رکھا اور وائرس پر قابو پا لیا۔ مشاورت میں الجھے رہتے تو وائرس گھروں سے نکالے نہ نکلتا۔ اپنے ملک میں اتنے مشیر ہیں کہ مشاورت ہی ختم نہیں ہوتی۔ کرونا وائرس بھی دلوں کی کدرورتیں اور سیاسی دشمنیاں ختم نہ کرسکا، اللہ کسی سخت گیر فرشتے ہی کو بھیجے گا جو

سیاستدانوں کو راہ راست پر لائے گا۔ بلا شبہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے سخت اقدامات اور بھاگ دوڑ سے کسی حد تک کرونا کا راستہ روکا، کراچی کے لوگ زیادہ دنوں تک گھروں میں مقید رہنے کے قائل نہیں، پارہ صفت لوگ سماجی فاصلوں کی پروا کیے بغیر بند مساجد کے سامنے بازاروں میں نماز جمعہ کے لیے صف آرا ہوگئے۔ اس کے علاوہ لاکھوں دیہاڑی دار مزدور، 80 فیصد غریب اور نادار، ملازمت پیشہ لوگ، گھروں میں کب تک بیٹھیں گے۔ تنخواہیں کون دے گا۔ حکومت راشن بیگ تو دے نہیں پائی۔ تنخواہیں کیسے دے گی۔ گھر کا چولہا کیسے جلے گا، ایک ہنر مند نے گھر بیٹھے ماسک بنانے شروع کیے اور چوراہے پر کھڑا ہوگیا چند دن کے پیسے تو آئے لاک ڈائون کے ایس او پیز کو دیکھتا تو بھوکوں مر جاتا، یہ ایک پہلو ہے دوسرا پہلو احتیاط، سوشل فاصلوں کی پابندی لازمی ورنہ موت یقینی، وزیر اعظم پہلے اور وزیر اعلیٰ سندھ دوسرے پہلو پر کار بند، وفاقی اور صوبائی وزرا اور معاونین خصوصی اپنے کام سے کام رکھتے تو اس سے بڑھ کر کیا نیکی ہوتی لیکن ’’نکی‘‘ اور ’’نکے‘‘ میدان میں کود پڑے، ایک دوسرے کے کام میں کیڑے نکالنا ہی اولین ایس او پیز بنائے اور ما شاء اللہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے پانسہ پلٹ دیا۔ لاک ڈائون میں 30 اپریل تک توسیع لیکن کہیں گرم کہیں نرم کہیں کرفیو جیسی صورتحال کہیں گہما گہمی، کرونا بہادر ان اختلافات سے فائدہ اٹھا کر پائوں پھیلا رہا ہے۔ متاثرین 7 ہزار سے زائد، اموات ڈیڑھ سو کے قریب پہنچ گئیں۔ لوگ پریشان ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی فارمولا نہیں، وزیر اعظم کمیٹیاں اور ٹائیگر فورس بنا کر اس عذاب کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ اپوزیشن اب تک کوئی حکمت عملی وضع نہیں کرسکی، کیا کرے وقت کا تقاضا ہے کہ قومی اتحاد ہو لیکن اس کے لیے اپوزیشن کا اتحاد بھی تو نا گزیر ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتیں کرونا وائرس سے نہیں نیب کے خوف سے تین تین فٹ کے فاصلے پر کھڑی ہیں۔ انتشار اور تفرقے بازی کے پیغامات مل رہے ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں بذات خود ’’لاک ڈائون‘‘ کا شکار ہیں۔ نیب کی طلبیوں، نوٹسز، عدالتوں میں پیشیوں اور ضمانتوں کے لیے بھاگ دوڑ کے بعد اتنا وقت کہاں بچتا ہے کہ کرونا کے خلاف کوئی حکمت عملی وضع کرسکیں۔ دن بھر کی ’’مصروفیات‘‘ کے بعد دو تین گھنٹے ہی بچتے ہیں جن میں صرف بیانات ہی دیے جاسکتے ہیں پیپلز پارٹی وقت گزار رہی ہے۔ ن لیگ تماشہ دیکھ رہی ہے تماشا کرنے کی فرصت ہے نہ ہمت۔ مولانا فضل الرحمن کو کوئی ’’ پیغام ‘‘ یا خط پتر نہیں مل رہا۔ چنانچہ وہ بھی کرونا کے خوف سے اپنے ’’سیاسی قرنطینہ‘‘ میں دن گزار رہے ہیں۔ چھوٹے موٹے سیاستدان راشن بیگ تقسیم کر کے پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف، دوسری تیسری صفوں کے سیاستدان عوام کی ’’خدمت‘‘ میں مصروف ہزار 15 سو کا راشن بیگ دیتے ہوئے تصاویر بنوانے میں عافیت، ثواب ختم عذاب لازم، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے راشن بیگ اس لیے دیا تھا کہ سخی اور سماجی رہنما کہلائو سخی مشہور ہوئے۔ سماجی اور سیاسی رہنما کی حیثیت سے شہرت پائی۔ اب آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، سیاسی وزیروں مشیروں کو آخرت یاد نہیں، ’’اب تو آرام سے گزرتی ہے۔ عاقبت کی خبر خدا جانے‘‘ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ راشن بیگز تقسیم کرنے کی خبریںلیکن عوام پریشان، حکومتی رویے غیر سنجیدہ،کارکردگی صفر، کرونا وائرس کے لیے میدان کھلا ہے۔ جس طرف چاہتا ہے واک کرتا چلا جاتا ہے۔ پھیل رہا ہے پھیل گیا ہے ایک دو تین سے شروع ہوا تھا ہزاروں تک پہنچ گیا ہے۔ سیاستدانوں کو اپنی پڑی ہے منہ پر ماسک چڑھائے روزانہ پریس کانفرنسیں، بیانات، ویڈیو لنک اجلاس، مشاورت، تجاویز، اور بس، تجاویز پر عملدرآمد؟ ٹائیں ٹائیں فش، کمال ہے ملک میں کوئی وزیر صحت نہیں، ’’پراکسی ہیلتھ منسٹر‘‘ کی کارکردگی پر سپریم کورٹ برہم، وینٹی لیٹر پر کون؟ غریب عوام اور غریب ملک کی معیشت، کرونا کی وبا کب ختم ہوگی، اس کے بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ آئندہ دو تین مہینوں کے لیے قوم کو تیار رکھنا ضروری لیکن اس کے لیے وفاق اور صوبوں میں باہمی اتحاد و اتفاق لازمی قرار، اتحاد و اتفاق کیسے ہو، کرونا وائرس کے بعد معیشت کا عذاب سر اٹھائے کھڑا ہے اس سے بچنے کے لیے بھی لاک ڈائون کی ضرورت ہوگی جس کے لیے ہم تیار نہ ہی عادی ۔ قرضوں اور چندوں پر انحصار کرنے والے ملکوں پر ایسے عذاب غیر متوقع نہیں ہوتے۔ محسن احسان مرحوم کہا کرتے تھے کہ ’’چند صیاد اگر اپنے ٹھکانے لگ جائیں، ہم پرندوں کی طرح باغ میں گانے لگ جائیں‘‘ لیکن جب اپوزیشن جماعتیں وقت گزاری اور تماشا دیکھنے میں لگی رہیں اور ’’نکی اور نکے‘‘ اپنے بھانت بھانت کے بیانات سے عوام کو مزید پریشان اور خوفزدہ کرتے رہیں تو اوپر والے اس ’’کرونا زدہ سیاست‘‘ کے خاتمے کے لیے کیا حکمت عملی مرتب کرسکیں گے۔


ای پیپر