کورونا وبا کے مر یض اور معیشت
20 اپریل 2020 (20:43) 2020-04-20

اند ا زہ تھا کہ ما ہِ رواں یعنی اپر یل کی پچیس تا ریخ تک کر ونا وا ئرس کے مر یضو ں کی تعدا د پچا س ہزا ر تک پہنچ جا ئے گی۔ لیکن یہ ا ند از ہ کچھ یو ں غلط ثا بت ہو ا کہ تا دمِ تحر یر جبکہ پچیس اپر یل کے آ نے میں چھ دن با قی رہ گئے ہیں، کر ونا کے مریضوں کی تعداد آ ٹھ ہز ا ر کے لگ بھگ ہے۔ تا ہم یہ امر بہت ز یا دہ قا بلِ اطمینان اس لیئے نہیں ہے کہ اس تعدا د میں بہر حا ل اضا فہ ہو نا ہے۔ لا ک ڈ ا ئو ن کا استعما ل بے شک اس مر ض کے پھیلائو کے سا منے بڑ ی رکا وٹ ثا بت ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ہما ری معیشت کے حق میں ز ہرِ قا تل ثا بت ہوا ہے۔ تو پھر حل کیا ہے؟ حل ہے سما رٹ لا ک ڈا ئو ن کا استعما ل۔ بتا تا چلو ں کہ کرونا کے با ب میں سما رٹ لا ک ڈا ئون نئی اصلا ح ہے، جس کا مطلب ہے، حا لا ت کے مطا بق لا ک ڈا ئو ن میں نر می یا سختی اختیا ر کر نا۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ لاک ڈائون کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، اس سے ہما ری ملکی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوا اور یہ کہ اس کے اثرات بہت دیر تک رہیں گے۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کون سے اقدامات کرکے اس بحران سے نکلا جاسکتا ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ بہت درست ہے کہ جو ملک ایٹم بم بناسکتا ہے کیا وہ وینٹی لیٹر نہیں بناسکتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بناسکتا ہے، وہ کچھ بھی بناسکتا ہے، اس کے لیے بھی ایٹمی عزم اور دم خم کی ضرورت ہوگی۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی ایسی دُور رَس پالیسیاں بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جو ہمیں خود کفالت، خود انحصاری اور خوش حالی کی منزل تک لے جاسکتیں۔ یہاں ہر دورِ حکومت میں ’ڈنگ ٹپائو‘ پالیسیوں کے ذریعے سطحی فیصلے اور اقدامات کیے گئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ سیلاب آجائے تو ہم بے بس ہوجاتے ہیں، زلزلہ آجائے تو ہمارے ہاتھ پائوں شل ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ شہروں میں بارش تھوڑی زیادہ ہوجائے تو پورا نظام ہی درہم برہم ہوجاتا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے دعوے یہ کیے جاتے ہیں ہر طرح کے چیلنجز کا سامان کرنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ٹیسٹ کٹس یا ماسک بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہم سے کم سائنسی اور تکنیکی مہارت اور وسائل رکھنے والے ممالک یہ بنارہے ہیں لیکن ہمیں ہر چیز باہر سے منگوانے کی عادت پڑ چکی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان ایک کنزیومر سوسائٹی بن چکا ہے اور دوسرے ممالک کے لیے ایک پُرکشش منڈی۔ اگر بحران سے نکلنا اور دوسرے بحرانوں پر قابو پانا ہے تو ہمیں اپنی یہ روش تبدیل کرنا ہوگی۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی آفت آئی پاکستانیوں نے بڑھ کر مدد کی،یہ قوم نیکی کے کام میں ہمیشہ دل کھول کر حصہ لیتی ہے۔ مگر قوم کو اس نیک مقاصد کے لیے متحرک کرنے کے

لیے ایک میسج کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ میسج عوام تک پہنچائے تاکہ سوسائٹی کو معاشی مشکلات کا سامناکرنے والے لوگوں کے لیے متحرک کیا جاسکے۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ کسی بھی طرح لاک ڈائون کو کامیاب بنایا جائے کیونکہ اگر ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی، جس کا وبائی امراض کے ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں تو حالات گمبھیر صورت اختیار کرجائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ احتیاط کرنے کی تجویز اور ترغیب دی جائے، کیونکہ احتیاط ہی سے ہم اس وبا سے نمٹ سکیں گے، بصورتِ دیگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو سے چھ مہینے کے بعد کیا ہوگا۔ مگر کورونا کی وبا کے تدارک کے لیے حکومتی حکمت عملی اوراقدامات کو دیکھیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس عالمگیر وبا کی روک تھام کے لیے جس درجے کا حسنِ انتظام درکار تھا، وہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نظر نہیں آرہا اور جو جذبات مہینہ بھر پہلے حکومتی مشینری کے تھے وہ اب سرد پڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور حیران کن طور پر یہ ایسے حالات میں ہورہا ہے جب ملک میں ہر روز اوسطًا تین سو کورونا مریضوں کا اضافہ ہورہا ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ مگر اس ابھرتے ہوئے خطرے کے باوجود ہماری حکومتیں بے پروا ہیں اور جو انتظامات لاک ڈائون کے شروع دنوں میں دکھائی دیتے تھے، اب خاصی حد تک تحلیل ہوچکے ہیں۔ مگر یاد رہے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ہماری یہ دوسری بھیانک غلطی ہوگی۔ پہلی غلطی وہ تھی جب غیرمعمولی خدشات کے باوجود ہماری حکومتوں نے بارڈرز پر تسلی بخش انتظامات نہیں کیے۔ تفتان بارڈر سے لوگ معمولی روک ٹوک کے بعد ملک میں داخل ہوتے رہے، دوسری جانب ایئرپورٹس پر آنے والے مسافروں کا صرف جسمانی درجہ حرات جانچنے کا تکلف کیا گیا۔ ایسے حالات میں کسی بھی ملک کے لیے کورونا وائرس سے محفوظ رہنا ناممکن تھا۔ اس غفلت کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمارے ملک کا شاید ہی کوئی حصہ کورونا وائرس سے محفوظ رہا ہو۔ یہ صورتحال چونکا دینے والی تھی اور اس سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی رفتار اور مہارت سے کام کرنے کی ضرورت تھی، مسلسل اور بے تکان کام، جس کے پیچھے حکمت اور منصوبہ بندی ہو، مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔ اب جبکہ ملک میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کی رفتار فروری کے آخر اور مارچ کے شروع دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے تو یہ مشاہدے میں آرہا ہے کہ روک تھام کے جو کچھ انتظامات کیے گئے تھے وہ بھی ختم ہوچکے ہیں یا بہت جلد ختم ہوا چاہتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے معاملے میں ہماری پہلی غلطی نے ہمیں اس عالمگیر وبا کے شکنجے میں پھنسادیا۔ اب اس دوسری بھیانک غلطی کا نتیجہ خدا جانے کیا نکلتا ہے۔ مگر کہاوت یہ ہے کہ وقت کا ایک ٹانکا بے وقت کے نو ٹانکوں سے بچاتا ہے۔ ان حالات میں جب کورونا وبا کے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے، تمام صوبائی حکومتوں اور وفاق کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ اس سے نمٹنے کا ایجنڈا سرفہرست رکھیں۔ وزیراعظم صاحب کی تشویش اپنی جگہ بجا ، مگر اس کام میں ان کی پوری ٹیم کو یکجان ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے اور کوشش کی جائے کہ اس غیر معمولی ٹاسک کے لیے بہترین حکمت عملی اور فول پروف منصوبہ بندی کے ساتھ چلیں تاکہ وسائل اور وقت ضائع کیے بغیر یہ ٹاسک پورا کیا جاسکے۔ حکومت کے پاس اس ٹاسک سے نمٹنے کا وقت اب زیادہ نہیں ہے کیونکہ ہم پہلے ہی بہت سا وقت ضائع کرچکے ہیں۔ اوپر سے ہمارے بعض فیصلوں کے منفی نتائج نے بھی صورتحال کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ بس یہ ذہن میں رکھا جائے کہ اگلے چند دن ہمارے لیے بے حد اہم ہیں۔ یہ شاید اس معرکے کا نقطہ عروج ہوگا اور اسی سے طے ہوگا کہ اس عالمگیر وبا کے معاملے میں ہماری قوم کی تقدیر میں کیا لکھا ہے۔


ای پیپر