کرونا وائرس اور عالمی معاشی بحران
20 اپریل 2020 (20:43) 2020-04-20

عالمی معیشت ایک بڑے بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کے بارے میں جو پیشن گوئی کی ہے اس کے مطابق عالمی معیشت کی شرح ترقی منفی 3فیصد (-3%) رہنے کاامکان ہے۔ یہ عالمی معاشی بحران 1929ء کے گریٹ ڈیسپریشن (عظیم گراوٹ) کے بعد کا سب سے سنگین بحران ہو گا۔ 2020ء میں عالمی معیشت میں بڑی گراوٹ آئے گی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیلے گی۔ ملازمتیں ختم ہوں گی۔ آمدن میں کمی ہو گی۔ بے شمار کاروبار بند ہوں گے۔غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔ عالمی تجارت میں کمی واقع ہو گی۔ آئی ایم ایف جس قسم کے معاشی و سماجی حالات کی تصویر پیش کر رہا ہے وہ یقینا 2008ء کی کساد بازاری سے کہیں گہرے اور سنگین ہوں گے۔

کرونا وائرس کی وباء کے خاتمے کے بعد دنیا کو بالکل نئے حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ایک طرف بیروزگاری، غربت، بھوک، معاشی بدحالی اور بحرانی کیفیت ہو گی اور دوسری طرف حکمرانوں کے سامنے معاشی گراوٹ اور کساد بازاری سے نمٹنے کا چیلنج ہو گا۔ منفی 3فیصد کی گراوٹ کی پیشن گوئی اس صورت میں ہے جب کرونا وائرس کی وباء کا جون تک خاتمہ ہو جائے یا اس پر مکمل قابو پا لیا جائے۔ اگر یہ وباء موجود رہتی ہے اور وقفے وقفے سے لاک ڈائون اور پابندیاں عائد کرنا پڑتی ہیں اور یہ سلسلہ چند ماہ مزید جارہی رہتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی معیشت منفی 8فیصد (-8%) تک گر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت تباہ کن ہو گا۔ 2008ء کے معاشی بحران کے دوران عالمی معیشت (0.1%) تک گری تھی مگر اس کے باوجود بڑے پیمانے پر

بیروزگاری پھیلی تھی اور امریکہ سے چین اور برطانیہ سے جرمنی تک بڑی معیشتوں کو مکمل تباہی سے بچنے کیلئے ہزاروں ارب ڈالر خرچ کرنے پڑے تھے مگر اس وقت صورتحال اس سے کہیں زیادہ بھیانک اور سنگین ہے۔

کرونا وائرس کی وباء نے مختلف ممالک کو ان اقدامات پر مجبور کیا ہے جن کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔ ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کرونا وائرس سے بچنے کا واحد طریقہ سماجی فاصلہ اور لاک ڈائون ہی ہے مگر انسانی جانیں بچانے کے ان اقدامات کی معاشی قیمت ہے جو دنیا کے مختلف ممالک کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ اور پیشن گوئی کے مطابق دنیا کے 170ممالک میں فی کس آمدن کم ہو گی۔ صنعتی طور پر ترقی یافتہ معیشتوں کی شرح ترقی منفی 6.1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی شرح ترقی منفی ایک فیصد (-1%) رہے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق 20بڑی معیشتوں میں سے صرف چین اور انڈیا ہی دو ایسی معیشتیں ہوں گی جن کی شرح ترقی منفی میں نہیں ہو گی۔ چین کی شرح ترقی 1.2فیصد اور انڈیا کی 1.9فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ اگر انڈیا میں لاک ڈائون میں توسیع ہوتی ہے تو پھر اس کی معیشت مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں چین ہی واحد معیشت نظر آتی ہے جو جلد اپنے پائوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ چین کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کی طرح یہ مکمل طور پر نیو لبرل فری مارکیٹ اکانومی نہیں ہے۔ معیشت پر ریاست کا کنٹرول اور ملکیت غالب ہے۔ چین نے دراصل منصوبہ بندی، ریاستی سرمایہ کاری اور منڈی پر مشتمل ایک ہائبرڈ نظام تشکیل دیا ہے جس میں معیشت پر فیصلہ کن کنٹرول چینی ریاست کا ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور اس کی قیادت اسی ہائبرڈ نظام کو ’’مارکیٹ سوشلزم‘‘ کا نام دیتی ہیں۔ اس نظام میں دراصل ریاستی کنٹرول اور ملکیت کو برقرار رکھتے ہوئے منڈی کو اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں منصوبہ بندی اور منڈی کا امتزاج سامنے آیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد چین نے کامیابی سے اہم معاشی تجربہ کیا جو کہ کامیاب رہا ہے۔

یہ سرمایہ داری نظام اور سوشلزم کے درمیان کی ایک خاص عبوری شکل ہے جسے نہ تو مکمل طور پر سرمایہ داری نظام کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی سوشلسٹ نظام۔ یہ ایک ملغوبہ معیشت ہے جس پر سوشلزم کا رنگ غالب ہے۔ اپنے اسی نظام کی بدولت مکمل سرمایہ دار ممالک کے مقابلے میں چین کرونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ نجی شعبے کی بجائے ریاستی کنٹرول اور عمل دخل کی بدولت چین وہ تمام اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہو سکا جو اس وباء پر قابو پانے کیلئے ضروری تھے۔ ان اقدامات کے حوالے سے چین پر شدید تنقید کی گئی۔ مغربی حکومتوں اور میڈیا نے چینی حکومت پر تنقید کی اور ان اقدامات کو آمرانہ قرار دیا گیا مگر تمام تر ہچکچاہٹ اور تذبذب کے بعد آخرکار تمام مغربی حکومتوں کو یہ اقدامات اٹھانے پڑے اور لاک ڈائون کرنا پڑا مگر اس نیم دلیرانہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی جانیں گئیں بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچا۔ اب تک عالمی تجارت میں 11فیصد کمی آئی ہے اور یہ مزید گر سکتی ہے۔

سرمایہ داری نظام کو اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ نیو لبرل معاشی پالیسیوں اور آزاد منڈی کے معاشی ماڈل کا کھوکھلا پن پوری طرح عیاں ہو گیا ہے۔جیسے ہی بحران شروع ہوا تو جس نجی شعبے کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ حقیقی ترقی صرف اسی کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا نجی شعبے اور سرمایہ کاری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں۔ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اسے منڈی کی زینت بنا کر جنس کی طرح ان کو منافعوں کیلئے استعمال کیا جائے۔

کرونا سے پیدا ہونے والے بحران نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ نجی شعبہ صرف منافعوں کیلئے سرمایہ کاری کرتا ہے نہ کہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کئی سالوں تک ہر سال اربوں روپے کمانے والے صنعت کار امریکہ سے لے کر یورپ اور انڈیا سے لے کر پاکستان تک اپنی لیبرفورس کو ایک مہینے کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جیسے ہی بحران پیدا تو وہ تمام ماہرین اور سرمایہ کار جو کہ معیشت میں ریاست کی مداخلت کے سخت مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً مدد کیلئے ریاست کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اگر ریاست ان کو سبسڈی دے تو یہ درست ہے اور اگر ریاست محنت کشوں، غریبوں، چھوٹے کسانوں اور چھوٹے تاجروں کی مدد کرے تو معاشی قوانین اور ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


ای پیپر