پریشر گروپس
20 اپریل 2020 (20:42) 2020-04-20

سیاسی دنیا میں قبائلی ریاستوں سے شروع ہونے والا سفر فلاحی ریاست کی طرف گامزن ہے،بہت سے نشیب و فراز کے بعد یہ مرحلہ طے ہوا ہے،رومن ایمپائر کی شکست و ریخت سے اسلامی ریاست نے جنم لیا،یہ ریاست دیگر سے اس لئے مختلف ہوتی ہے اس کا حکمران اور پارلیمینٹ، فیصلہ سازی میں مد ر پدر آزاد نہیں ہوتی، خلیفہ کی حیثیت نائب کی سی ہوتی ہے وہ کوئی ایسی قانون سازی کرنے کا مجاز نہیں جو قرآن وسنت کے خلاف ہو، تاریخ میں اس کی ابتداء ریاست مدینہ سے ہوتی ہے۔

یونانی، رومن، جاگیردارانہ ، پاپائیت جتنی بھی ریاستیں عہد جدید سے پہلے معرض وجود میں آئیں انکا نظام ظلم، جبر اور غلامی پر مبنی تھا، ارسطو نے اس لئے ہی طاقتور کے سامنے قانون کو مکڑی کا جالا قرار دیا تھا۔ ریاست کا جو تصور یونان کے مفکرین کے ہاں ملتا ہے اس جانب پیش رفت نے سیاسی نظام کی طرح ڈالی اوراس کے لئے سیاسی پارٹیوں کے وجود کو لازم جانا گیا،اٹھارویں صدی میںاسکی داغ بیل ڈالی گئی، انیسوی صدی میں یورپ اور امریکہ میں انکا قیام عمل میں لایا گیا،بیسوی صدی میں ایشیاء، افریقہ میںبھی انکی سرگرمی کا آغاز ہوگیا،جمہوری انتخابی نظام متعارف کرانے کا مقصد ہی سامراجی طاقت سے نجات تھا،لیکن افریقی ممالک اور برصغیر میں سیاسی جماعتیں قبائلی سردار،ذات پات، برادری اور شخصیات کے سحرسے تاحال آزاد نہیں ہو سکی ہیں۔یورپ اور امریکہ میں مسلسل انتخابات نے دو پارٹی سسٹم کو مضبوط کردیا،دو میں ایک قدامت پسند پارٹی انتخاب میں شریک ضرور ہوتی ہے، تیسری دینا ابھی ناپختگی اور سیاسی تجربات کے دور سے گذر رہی ہے۔

ڈاکٹر لی کاک کہتے ہیںکہ سیاسی پارٹی ایک سٹاک کمپنی کی مانند ہوتی ہے، جس میں تنظیم،اتحاد، اور نظم وضبط اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے،ماہرین ،سیاسی پارٹی کے لئے چند عناصر کو لازم قرار دیتے ہیں، ان میں قیادت، ممبر سازی،پروگرام ،دستور،اصول شامل ہیں، انکی اولین ترجیح قومی مفادات ہوتے ہیں۔

ہندوستان کی تاریخ میں ہمیں ایک سیاسی پارٹی ملتی جس کی تشکیل مقامی افراد نے کی، یہ خالصتا مذہب کی بنیاد پر سب سے پہلے وجود میں آئی، اس کے پلیٹ فارم سے قیام پاکستان کی راہ ہموار ہوئی، یہ جماعت مسلم لیگ تھی، جب قائد اعظم نے اس میں شمولیت اختیار کی تو انھوں نے بھی اسکو مروجہ اصولوں کی بنیاد پر چلایا، انکی سیاسی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو تنظیم،نظم وضبط،دستور واضع دکھائی دیتا ہے،لائق تحسین یہ کہ برطانوی قوانین ہی سے دلائل کے ساتھ سیاسی جدوجہد کے ذریعہ نئی مملکت قائم کردی،نہ لاقانونیت کا سہارا لیا، نہ کسی کو تعصب پر ابھارا، نہ ہی سیاسی مخالف کو دھوکہ میں رکھا، وقار، متانت،سنجیدگی سے قوم کی منزل حاصل کرلی ، اور تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔

قوم کی بدقسمتی ،کہ انکی زندگی نے وفا نہ کی، اسکے بعد انکے درینہ ساتھی بھی نوزائیدہ مملکت میں قتل ہوگئے اور پھر بانی جماعت کی باگ ڈور مفاد پرست طبقہ کے ہاتھ لگ گئی،پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی جداگانہ انتخابات کے تحت وجود میں آئی،خالق جماعت اسکی علمبردار تھی،مگر دیگر جماعتوں نے اسکی مخالفت شروع کردی،1956 کے آئین تک طریقہ انتخاب ہی نہ طے ہوسکا،کہا جاتا ہے کہ سکندر مرزا،غلام محمد جب اقتدارکے گھوڑے پر سوار ہوئے تو انھوں نے جمہوریت کو غلط راہ پر ڈال دیا، اس دور کے کینہ

پرورسیاست دانوں نے ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور ملک سیاسی نظام سے محروم ہوگیا، مرزا نے اس وقت کے چیف جسٹس محمد منیر،کمانڈر انچیف محمد ایوب خان کے ساتھ ملکرفوجی انقلاب کا منصوبہ بنایا تھا،بانی جماعت اسلامی سید مودودی نے مرزا ’’کو سفید ہاتھی‘‘ قرار دیا، نظام اسلام پارٹی نے جمہوریت کا قاتل کہا۔ شیر بنگال مولوی فضل الحق نے مسلم لیگ کے خلاف مشرقی پاکستان میں ’’ جگتوفرنٹ‘‘ قائم کرلیا،عوامی لیگ اورکرشک سرامک پارٹی ایک دوسرے کے مدمقابل غیر آئینی ہتھکنڈے دکھانے لگی،سکندر مرزا نے مسلم لیگ کا زور توڑنے کے لیے ری پبلکن پارٹی قائم کرلی، اس کھینچا تانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی جماعتوں نے عوام کو صوبائیت کا شکار کردیا،اس سیاسی ابتری نے مارشل لاء کی ہموار کی،ایوب خان نے دس سالہ عہد میں پارلیمانی جمہوریت سے بچنے کے کئی حربے استعمال کئے،بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا، نئے سیاستدان تلاش کئے،معاہدہ تاشقند میں ملکی دفاع کرنے میں ناکام ہوئے، رخصت ہوتے ہوئے اقتدار دوسرے آمر کے حوالہ کرگئے،مضبوط

ساسی نظام کی عدم موجودگی نے سقوط ڈھاکہ کا زخم دیا، بھٹو وارد ہوئے،تعمیر نو کا آغاز کیا،خارجہ پالیسی کے ذریعہ عوام کو مطمئن کرنے کی کاوش کی، ناکام ہوئے،تیسرا مارشل لاء مقدر ٹھرا ،اسکی کھوکھ سے غیر جماعتی انتخابات نے وہ قیادت فراہم کی جو تاحال وہی کردار ادا کر رہی جو ابتدائی دور میں اس وقت کے سیاستدان فریضہ انجام دے رہے تھے۔ ہر طالع آزماء نے بانی جماعت ہی کو اقتدرا کی سیڑھی بنایا۔

کسی بھی جمہوری نظا م میںسیا سی جماعت کی فرضیت، اہمیت اور مقاصد ،ملک میں سیاسی بد امنی بیان کرنے کا مقصد ایک تو تجزیہ کرنا تھا دوسرا نسل نو کو بتانا اور تیسرا حال ہی میں رہائی پانے والے سابق وزیر ریلوے کا سیاسی قائدین کے نام پیغام کو واضع کرنا تھا، موصوف نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں ادارے قائم نہیں کرتیں تو انھیں قوم کا وقت ضائع نہیں کرنا چائیے انکی بات میں بڑا وزن ہے، اور توجہ طلب ہے،ابھی حالیہ آزمائش میں سیاسی جماعتوں کی تنظیم سازی عیاں ہوگئی،حکمران جماعت کے پاس افرادی قوت اتنی بھی نہیں تھی کہ عوام کے درمیان ہوتی، طویل عرصہ اقتدار انجوائے کرنی والی جماعتوں کے پاس ممبران کا ڈیٹا تک نہیں ہے۔ جو سیاسی جماعت کا بنیادی عنصرہے، بڑی پارٹیوں کے دفاتر محلات اور گھروں میں قائم ہیں جہاں عام ورکر جانے سے گریز کرتا ہے، ماسوائے جماعت اسلامی کے کوئی قومی ،علاقائی پارٹی اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اس کے پاس اس کے ممبران کا ریکارڈ ہی ہو، لاک ڈائون میں اس کے ورکرز ہر جگہ موجود تھے جو وہ فلاحی خدمت انجام دینے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے،ایماندار قیادت کی بدولت لوگ اس پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔

ہماری بیشتر سیاسی جماعتوں کی حیثیت پریشر گروپس کی سی ہے جنگی قیادت ہنگامی ہے اور وہ محض عارضی ایجنڈا اور ریلیف چاہتے ہیں،ہماری قومی سیاست شخصیات کے گرد گھومتی ہے، اگر یہ مائینس ہو جائے تو پارٹی بھی وجود کھودیتی ہے، شخصیات طاقتور اور ادارے کمزرو ہوتے جارہے ہیں، سیاسی جماعتیںاہل، ماہر افراد تیار کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس لئے ہرطرح کی افسر شاہی ان پرحاوی ہو جاتی ہے،بانی پاکستان نے ساتھیوں کی سیاسی تربیت کی اور برطانوی افسر شاہی کو مات دے دی۔ گمان ہے جو پارٹی ورکر مقامی سطح سے دریاں بچھانے سے سیاسی کیرئر کا آغاز کرتے ہوئے قومی قیادت کے منصب تک پہنچے گا ،وہ نہ تو کسی کے کندھے پر سوارہو کر اقتدار میں آنے کو’’ثواب‘‘ سمجھے گانہ ہی وہ ایک دھمکی پر ڈھیر ہو گا،کوئی اس سے استعفیٰ طلب کرنے کی حماقت بھی نہیں کرے گا،آزمائش شرط ہے۔


ای پیپر