پھر وہی رونا دھونا…
20 اپریل 2020 (20:42) 2020-04-20

ہم مر گئے، ہم لٹ گئے،ہم رڑ گئے،ہمارے پاس کچھ نہیں رہا،لوگوں کو کھانے کو نہیں دے سکتے، ہمارے پاس پیسہ نہیں،عالمی ادارے ہمارا کشکول بھریں،یہ الفاظ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کے تھے جو انہوں نے عالمی برادری سے ایک ویڈیو پیغام میں کہے حسب معمول عمران خان نے کوئی نئی بات نہیں کی ،ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ کرونا وائرس پوری دنیا کے لیے چیلنج ہے جو کہ دنیا بھر میں پھیل چکا ہے امریکہ نے اپنے عوام کے لیے 2 اعشاریہ 2 ٹریلین ڈالرکا پیکیج دیا، جاپان اپنے عوام کے لیے ایک ٹریلین ڈالرخرچ کر رہا ہے، جرمنی نے اپنے عوام کے لیے ایک ٹریلین یورو کا پیکیج دیا ہے، ترقی یافتہ دنیا کرونا کی روک تھام کے لیے لاک ڈائون کے ساتھ معاشی اثرات سے نمٹ رہی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے وہ اپنے عوام کو ایک طرف وائرس اور دوسری طرف بھوک سے بچا رہے ہیں، پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے ہم صرف 8 ارب ڈالر خرچ کررہے ہیں، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ صحت پر زیادہ خرچ کرسکیں، لوگوں کو بھوک سے موثر طور پر بچانے کے لیے بھی وسائل کی کمی ہے اس صورت میں عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کے اس مسئلے کی طرف بھی توجہ دیں جبکہ وزیر اعظم نے چند روز قبل کہا تھاکہ کرونا بمقابلہ ایمان ہے اب بتائیں وزیر اعظم کاایمان کہاں گیا؟

انہیں یہ پتہ نہیں کہ جن کا ایمان کامل ہوتا ہے وہ طوفانوں سے نہیں گھبراتے ایک جنگ میں ایک صحابیؓ کا بازو کٹ کرلٹکنے لگا جو لڑنے میں رکاوٹ ڈال رہا تھا تو اس صحابیؓ نے وہ بازو کھینچ ڈالا ،یہ ہوتا ہے ایمان،اکثر ہم کہتے ہیں کہ پیر کامل ہے یا یقین کامل،پیر کامل نہیں ہوتا یقین ہی کامل ہوتا ہے کیونکہ اگریقین ہی پکا نہ ہو تو پیر کیا کرے گا اللہ والوں کا یقین ہی کامل تھا تبھی تو وہ اندھیروں میں اجالا کر دیتے تھے آج ہمارا یقین کامل نہیں ہم ا جالوں میں تاریکیاں بڑھا رہے ہیں جبھی تو آج مانگت قوم بنے ہوئے ہیں اورساتھ وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ 25ہزار سے زائد مریض ہو گئے تو مشکلات بڑھ جائینگی کبھی موصوف کہتے ہیں کہ ہم غریب ملک کے باسی ہیں تو کس نے کہا تھا کہ غریب ملک کے وزیر اعظم بنو،آپ جناب کا توبس نہیں چلتا تھا کہ 126 دن کے برائے نام دھرنے میں ہی نواز حکومت کا خاتمہ کروا دیتے حالانکہ روزآپ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا اشارہ کرتے تھے۔

انگلی نہ اٹھی کیونکہ انگلی والوں کو پتہ تھا کہ منتخب حکومت کیخلاف انگلی اٹھانا ملک اور قوم کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا غزوہ بدر میں ایک طرف 313 جاں نثار تھے اور دوسری طرف ایک ہزار(ایک روائت میں تین ہزار ہیں) اورلڑائی کا سازوسامان الگ پھر بھی وہ شکست کھا گئے اور عاشقان رسولؐ دنیا میں بھی سرخرو ہوئے اور آخرت میں بھی،ہوتے بھی کیوں نہ ان کے سینے احکام الہی اور محبت رسولؐ سے سر شار تھے اور صحبت رسولؐ میں رہ کر صحابہ نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا یہ سب ایمان کی مضبوطی کاہی کمال تھا کہ غزوہ بدر میں مالک کائنات نے کفار کو شکست دی،عمران خان ریاست مدینہ بنانے چلے تھے لیکن اب وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں یہ سب ایمان کی کمزوری کی علامت ہے ورنہ

کافر ہے توشمشیرپہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

حضرت اقبال کا مرد مومن تو انسانیت کے لئے خیر وبرکت اور رحمت خداوندی کا مظہر ہے اور جب مومن اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے میدان میں اترتا ہے تو قیامت برپا کر دیتا ہے ’’شر‘‘ کی قوتوں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔

اقبال نے اگرچہ اپنی شاعری میں مومن کا اس طرح تجزیہ کیا ہے کہ اس میں اللہ کریم کو ماننے کی تمام خصوصیات جمع کردیں اور اقبال کا پیغام ضبط نفس اور اطاعت کے مراحل سے گزر کر آخری درجے پر فائز ہوتا ہے کیونکہ ان کے بقول اللہ کی وحدانیت ہی سب کچھ ہے اور کسی موقع پرجھول نہیں، عمران خان کا پرابلم یہ ہے کہ وہ 300 کنال کے گھر میں رہ کر ریا ست مدینہ بنانے کی بات کرتے ہیں انہیں شائد یہ نہیں پتہ کہ تاجدارمدینہ کا سرہانہ اینٹ کا تھا پانی کیلئے ایک برتن مٹی کا، تن ڈھاپنے کیلئے پیوند لگے کپڑے اور بس، اورہم عیش وعشرت کی زندگی بسر کرتے ہوئے ریاست مدینہ بنانے کے صرف دعویدارہیں،آئیں پیر نہیں یقین کامل کرلیں تو پھر کسی دنیاوی آقا کی طرف دیکھنا نہیں پڑے گا رونا دھونا ختم ہو جائے گا اللہ ہماری مشکلیں آسان کردے گا کرونا کے باعث آج ڈاکٹرتو بار بار ہاتھ دھونے کا کہہ رہے ہیں وہ کیا جانیںہم تو پانچ وقت ناک،منہ کان، سمیت ہاتھ منہ پائوں دھونے والے لوگ ہیں ہمیں کرونا کیا کہے گابات صرف ایمان کی مضبوطی کی ہے جن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اللہ ان کی مدد کرتا ہے اور جن کے ایمان کمزور ہوں وہ امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں آئیں فیصلہ کرلیں کہ ہم نے کامیاب ہونا ہے یا ناکام؟ اگرکامیاب ہونا ہے تو اللہ کے حضورپیش ہو جائیں اور اگرناکام ہونا ہے توپھر امریکہ کے سامنے جھک جائیں کاش ہمارے وزیر اعظم کو یہ بات سمجھ میں آجائے۔


ای پیپر