بھارتی سرکار ہندومسلم کشیدگی پھیلا رہی ہے
20 اپریل 2020 (20:41) 2020-04-20

معروف بھارتی ناول نگار اور سیاسی کارکن ارون دھتی رائے نے ایک بار پھر مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈوں کا پول کھولتے ہوئے بی جے پی حکومت کا موازنہ نازی ازم سے کیا اور کہا کہ مودی حکومت کرونا وائرس کے پھیلاو کی آڑ میں ہندو مسلمان کشیدگی پھیلانا چاہتی ہے ۔

ارون دھتی رائے نے کرونا کی موجودہ صورتحال میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے راز فاش کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس تنظیم سے وزیراعظم مودی کا بھی تعلق ہے اور یہی آر ایس ایس حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے پیچھے فعال اصل طاقت ہے ۔ آرایس ایس عرصے سے بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کی خواہشمند ہے ۔اسی لیے اس تنظیم کے نظریہ ساز بھارتی مسلمانوں کو ماضی کے جرمنی میں یہودیوں سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ جس طرح بھارت میں کووِڈ نائنٹین کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ طریقہ کار ٹائیفائیڈ کے اس مرض جیسا ہے ، جسے استعمال کرتے ہوئے نازیوں نے یہودیوں کو ان کے مخصوص علاقوں میں ہی محصور کردیا تھا۔ کرونا وائرس کو بہانہ بناکر بھارتی حکومت نوجوان طلبہ کی گرفتار یوں میں مصروف ہے ۔ وکلاء، سینیئر مدیران، سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ متعدد کو جیلوں میں ڈالا جاچکا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کووِڈ نائنٹین اب تک کسی حقیقی بحران کی وجہ نہیں بنا۔ بھارت میں اصل بحران تو نفرت اور بھوک کا ہے ۔ بی جے پی کی وجہ سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک بحران ہے ۔اس سے قبل دہلی میں بھی مسلمان مخالف شہریت کے قانون کیخلاف احتجاج کرنے پر مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ بھارتی مسلمانوں کیلئے صورتحال نسل کشی کی جانب بڑھ رہی ہے کیونکہ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہی ایجنڈا رہا ہے ۔مسلمانوں کو جلایا گیا تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب کرونا وبا کے ساتھ حکومتی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ شدید تشدد اور خونریزی کا خطرہ بھی ہے ۔ شہریت ترمیمی قانون کا نام لے کر حراستی مراکز کی تعمیر شروع کردی گئی ہے ۔

اس وقت پوری دنیا میں عالمی وبا کرونا وائرس پھیل چکی ہے ۔ بھارت میں اس وبا کی آڑ میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے اس پر پوری دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ بھارتی بھی اس صورتحال کو معمولی نہ سمجھیں۔بھارت میں کرونا وائرس سے چار سو اٹھاسی افراد ہلاک اور چودہ ہزار چار سو پچیس متاثر ہیں۔بھارت میں کورونا سے متاثرہ مسلمانوں کو ہندو مریضوں سے علیحدہ کردیا گیاحال ہی میں جب تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی تو بھارت کے متعصب میڈیا نے آسمان سرپر اٹھاتے ہوئے ملک میں کورونا پھیلنے کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کردی تھی۔بھارت میں مسلمانوں سے نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں کورونا وائرس کے 40 مسلمان مریضوں کو وبا کے شکار 110 ہندوؤں سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔احمد آباد سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایسا کرنے کی ہدایات ملی ہیں۔

بھارت میں مسلم دشمنی کی ایک تازہ مثال سامنے آئی کہ پولیس نے کرونا وائرس کے پھیلا ؤکی وجہ بننے کے الزام میں تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف قتل خطا کا مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ مولانا سعد کاندھلوی نے2مرتبہ نوٹس بھجوانے کے باوجود کرونا کے پھیلاؤکے پیش نظر نئی دہلی میں نظام الدین ایریا کے تبلیغی مرکز میں ہونے والا اجتماع منسوخ نہ کیا۔ 13مارچ کوشروع ہونے والا اجتماع 24 مارچ کو ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود بھی ختم نہیں ہوا۔ 17ریاستوں میں سامنے آنے والے ایک ہزار سے زائد کرونا کے کیسز کا تعلق اس اجتماع سے بنتا ہے اور یہ سب مبینہ طور پر بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی ارکان سے متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی اور تبلیغی جماعت نے تمام الزامات کی تردید کردی۔تبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 22 مارچ کو ملک گیر کرفیو کے اعلان کے فوری بعد مرکز میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں اور تمام افراد کو گھروں کو چلے جانے کا کہہ دیا گیا تھا۔تبلیغی جماعت کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے 2 دن بعد اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اور ریاستی سرحدیں بند ہونے سے بیشتر لوگ پھنس کر رہ گئے۔ ایسے میں مرکز کے پاس ان افراد کو پناہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا البتہ ان سب کو تمام حفاظتی اقدامات کے تحت ٹھہرایا گیا تھا۔مرکز نظام الدین کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے جبکہ یہاں آنے والے طبی عملے کے ساتھ بھی مکمل تعاون کیا گیا تھا۔

جھوٹے دعوؤں سے بھارت کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے ۔ اقلیت مخالف کارروائیوں سے مودی کی ذہنیت عیاں ہو چکی ہے ۔ بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اقلیتی اسٹیٹ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔ لاکھوں لوگوں کی دلی سے نقل مکانی دیکھی گئی تھی۔ بھارت میں لاک ڈاؤن پر توجہ نہیں۔ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے۔ کورونا اور معاشی چیلنجز کے باوجود بھارت اقلیتوں کو دبانے میں مصروف ہے ۔ گزشتہ 5 سال کے دوران بھارتی اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہوا۔ مودی سرکار ہندو توا کے نظریے پر گامزن ہے ۔

ریاستی انتخابات میں بھارتی عوام نے مودی کے انتہا پسندانہ رویے ، طرز حکومت اور نام نہاد پالیسیوں کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب مذہبی جھانسے میں آنے والے نہیں۔نئی دہلی انتخابات میں مودی حکومت کو جس بری طرح شکست ہوئی ہے وہ اس کیلئے آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔مودی کی شکست کی بڑی وجہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور کشمیریوں کو8 ماہ سے مسلسل کرفیو میں رکھنا بھی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کے اقدامات سے بھارت میں تقسیم نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اقلیتیں خود کو زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں اور علیحدگی کی تحریکیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہورہی ہیں۔ بھارت کے سنجیدہ اور لبرل حلقے پریشان ہیں کہ آخر مودی انتظامیہ ملک کو کہاں لے جارہی ہے ۔


ای پیپر