او آئی سی کا بھارت سے مسلم کش اقدامات فوری روکنے کا مطالبہ
20 اپریل 2020 (09:42) 2020-04-20

نیو دہلی: مودی سرکار کے دور میں ناصرف مسلمان غیر محفوظ ہیں، بلکہ تہم پرستی، تعصب اور انتہاپسندی کے ایجنڈے پر کام کرتی بی جے پی حکومت کے ہاتھوں مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ او آئی سی انسانی حقوق کے کمیشن نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی اقدامات کی شدید مذمت کی اور بھارتی حکومت سے مسلم کش اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت میں کرونا کی آڑ میں مسلمانوں پر وار جاری ہیں، ہندوتوا کے پیروکاروں کی حکومت میں خورا ک خریدنے کے لئے مذہب بتانا لازم، مسلمان کے لیے علاج کی سہولت ممکن نہیں، اسلامی نام ہو تو انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے کاروبار کی اجازت نہیں، کبھی گاؤ رکشکوں کے حملے، تو کبھی مودی کے وزیروں کی ہرزہ سرائی کا سامنا، عالمی سطح پر بھی بھارت کا چہرا، مودی سرکار نے خراب کر دیا۔

او آئی سی کے ذیلی ادارے نے بھی بھارتی حکومت سے مسلم کش اقدامات فوری روکنے کا مطالبہ کر دیا۔ بالی ووڈ اداکار اعجاز خان کو مسلمانوں کے حق میں بات کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے بھی مودی کی مسلم مخالف پالیسیوں پر کئی مرتبہ آواز اٹھا چکیں ہیں۔

ادھر بھارتی ریاستوں جھارکھنڈ اور راجھستان میں دو حاملہ خواتین کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر ہسپتال میں داخلہ روک دیا گیا دونوں خواتین کے بچے، بچ نہ سکے۔


ای پیپر