کرونا ۔۔۔ کچھ اور سماجی پہلو
20 اپریل 2020 2020-04-20

خوش قسمتی سے ہم مسلمان ہیں۔ ہمارا اللہ پر پختہ ایمان ہے۔ ہمارے قرآن کی تعلیمات بڑی واضح ہیں اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کے فرمودات بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی وبا ءہو یا طبی مسئلہ، ہمیں اس کے بارے میں وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو متعلقہ ماہرین کہتے ہیں۔ ان کی سائنسی تحقیقات ہم سب کے لئے روشنی فراہم کرتی ہیں۔لیکن بطور مسلمان ان تمام سائنسی تحقیقات یا ادویات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ تو اپنے ایمان کو کمزور ہونے دینا چاہیے اور نہ ہی اس طرح کی ہنگامی صورتحال میں ان اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کو فراموش کرنا چاہیے جو ہمارا دین ہمیں سیکھاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں بھی ذکر کیا تھا ، کرونا اب صرف طبی معاملہ نہیں رہا۔ اس کے لا محدود اثرات ہماری معیشت ، ہماری خاندانی زندگی ، ہماری اخلاقی اقدار اور ہماری تہذیبی روایات پر پڑ رہے ہیں۔ طلاق اور گھریلو تشددجیسے معاملات سامنے آرہے ہیں۔ ذہنی اور نفسیاتی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ توڑ پھوڑ کرونا کے طبی اثرات سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔ ان اثرات کو جانچنے کیلئے نہ تو ابھی تک کوئی تشخیصی کٹ ایجاد ہوئی ہے، نہ ایسے ماسک بنے ہیں کہ ان اثرات سے محفوظ رہا جا سکے، اور نہ ہی ان سے بچاو¿ کیلئے کوئی قرنطینہ ممکن ہے۔

مشکل یہ ہے ایک طرف تو ہم ملکی سیاست کا نوحہ پڑھتے ہیں کہ وہاں صبر وتحمل اور اتفاق رائے جیسے عوامل کا انتہائی فقدان ہے۔ جبکہ دوسری طرف گھروں اور دفاتر کے حالات بھی کچھ خاص مختلف نہیں ہیں۔ اس وبائی صورتحال میں بھی گھریلو اور خاندانی جھگڑے اور رقابتیں برقرار ہیں۔ دفتروں میں بھی یہی حالت ہے۔ گھر بیٹھے کام (work from home) کے ساتھ ساتھ دیگر اشغال بھی جاری ہیں۔ دفتری سیاست ، الزام تراشی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ٹانگ کھینچنے کا عمل حسب معمول ہے۔اس وبائی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سب اپنے باہمی اختلافات کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے۔ اپنے اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لاتے۔ مگر لگتا ہے کہ کرونا وائرس نے انسان کو معمول سے زیادہ تلخ اور غیر متحمل مزاج بنا دیا ہے۔ اس ٹوٹ پھوٹ، خاندانی نظام کے اندر رخنوں ، سماجی رابطوں میں کمزوریوں، اور باہمی تلخیوں کا ہمارے پاس واحد علاج یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی تعلیمات سے مدد لیں۔ خود اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے آپ کو "ٹیسٹ " کریں کہ اس طرح کی صورتحال میں اللہ کیا کہتا ہے؟ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اور یہ بھی کہ صبر کسے کہتے ہیں؟ تحمل اور اعتدال کس چیز کا نام ہے؟معاف کر دینے میں کیا مصلحت چھپی ہے۔غریبوں اور ناداروں کی مدد کرنے کے بارے میں ہمیں کیا حکم ملا ہے؟ پڑوسیوں اور ماتحتوں کے بارے میں کیا تلقین کی گئی ہے؟۔

ا للہ پاک ہم سب کو اس وباءکے شر سے محفوظ رکھے۔ انسان کی بے بسی کا اندازہ کیجیے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات میں لوگ اپنے پیاروں کا آخری دیدار کرنے، انہیں چھونے اور اپنے ہاتھوں سے انکی تدفین سے محروم رہتے ہیں۔ وہ اموات جو اس وبا ءکے بجائے ، دیگر وجوہات کے باعث ہورہی ہیں، ان میں بھی یہی کیفیت ہے۔اگلے دن گھر میں بات چل رہی تھی کہ خدانخواستہ کوئی موت واقع ہو جائے تو باہر کے ملک سے کوئی عزیز پاکستان نہیں آسکتا۔جب سے یہ لاک ڈاو¿ن ہوا ہے، بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانیوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے اور دیگر وجوہات کے باعث بھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بیشتر کی تدفین انہی ممالک میں کر دی گئی۔ اب بھی بہت سی میتیں اس امید پر سرد خانوں میں محفوظ کر دی گئی ہیں، کہ حکومت پاکستان ان کو وطن واپس لانے کا کوئی انتظام کرئے گی۔ خدانخواستہ اگرکوئی راستہ نہیں نکلتا، تب ایک خاص مدت گزرنے کے بعد ان میتوں کی تدفین انہی ممالک میں کرنا پڑے گی ۔

باہر سے کیا خود اپنے ملک میں بسنے والوں کو لاتعداد مشکلات درپیش ہیں۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے شہری ایک جگہ سے دوسری جگہ، یا ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جا سکتے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک نہیں ہو سکتے۔ایک دوسرے کی ڈھارس نہیں بندھوا سکتے۔ میری نظر سے ایک ٹیکسٹ میسج گزرا ، جس میں گھر والوں نے اپنے کسی عزیزکی موت کی خبر دی تھی اور ساتھ ہی تلقین کی تھی کہ براہ کرم جنازے کیلئے تشریف نہ لائیں۔ بس ان کے لئے دعا فرمائیں۔

ان مشکل حالات میں بھی ہمارے ہاں کچھ غیر ضروری مباحث چل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ بحث جیسے کرونا اور مذہب میں کوئی جنگ ہے۔ اور مذہب کی بات کرنے والا طب اور سائنس کو جھٹلاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انسان کے نظام مدافعت کا بڑا تعلق اس کے یقین، بیماری سے لڑنے کے عزم اور اللہ تعالیٰ پر یقین کامل سے بھی ہے۔ پاکستان میں کچھ اس طرح کی بحث بھی چل نکلی ہے کہ یہ کرونا وائرس میڈیا اور کچھ طاقتور ملکوں کا پروپیگنڈا ہے۔ ضرورت سے زیادہ شور ڈال کر ہمیں خوف میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔لہٰذا ہمیں خوفزدہ ہو کر گھر نہیں بیٹھے رہنا چاہیے۔ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی ان خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ معاملہ اسقدر سادہ نہیں ہے۔ نہایت ترقی یافتہ اور معاشی طور پر انتہائی مستحکم ممالک بھی اس وبا ءکے آگے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔علم و تحقیق، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں یہ ممالک ہم سے کہیں آگے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ ممالک محض پروپیگنڈہ کے زیر اثر اپنے شہریوں کو لاک ڈاون میں رکھ کر کھربوں ڈالر کا نقصان برداشت کر رہے ہیں؟ ۔

پاکستا نی معیشت بھی اس وقت نہایت مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ ان مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ کاروبار بند ہیں اور بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ معاشی ماہرین بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید لاکھوں افراد بے روزگار ہونگے اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح کئی فیصد بڑھ جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ملک میں عطیات اور امداد بھجوائیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اس وقت بیرون مقیم پاکستانی خود انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ ہزاروں پاکستانیوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ جو بچے ہیں وہ بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں کہ نجانے کب دیس نکالا مل جائے۔بے روزگار اورپریشان حال اوورسیز پاکستانیوں سے امداد کی امید رکھنا دانشمندی نہیں۔

جا بجا بکھری ان مشکلات اور پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے لازم ہے کہ ہم سب غیر ضروری مباحث اور منفی اشغال میں الجھنے کے بجائے ، مثبت خیالات اور رویوں کو فروغ دیں۔ اپنے ارد گرد بسنے والے غریبوں اور ناداروں کی خبر گیری کریں۔ غیر ضروری اخراجات کم کر کے ، انکی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا اہتمام کریں۔ ضرورت مندوں کی مالی امداد کیساتھ ساتھ، گھرو ں، خاندانوں اور دفتروں میں بھی اپنے طرز عمل پر نگاہ ڈالیں اور مثبت رویوں کو فروغ دینے میں حصہ ڈالیں۔


ای پیپر