A House Divided: A Faith Shattered
20 اپریل 2019 2019-04-20

اگر پچھلی حکومت کا قصور اس کی حقیقی یا الزامات کی بوچھاڑ والی کرپشن تھی اور اس کے مقابلے میں اس کی کارکردگی کو جس کے آثار مٹائے نہیں مٹ پا رہے کوئی وقعت یا اہمیت حاصل نہیں۔۔۔ تو بے چارے اسد عمر کے دامن پر تو کرپشن کی ایک پائی کا داغ نہ تھا۔۔۔ اسے ناقص کارکردگی پر کیوں نکالا گیا۔۔۔ اور کیا یہ اس اکیلے کی ذمہ داری تھی۔۔۔ مرکزی وزیر خزانہ وہ یقیناًتھا۔۔۔ پالیسی سازی کے کچھ اختیار بھی اس کے پاس تھے۔۔۔ لیکن جس ویژن، جو نسی اعلیٰ درجے کی حکمت عملی اور بصیرت کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر وہ ذمہ داری ادا کر رہا تھا وہ سب کچھ تو عمران خان کا عطا کردہ تھا۔۔۔ اگر اسد عمر ناکام ہوا ہے تو کامیابی کی سند کسے عطا کی جانی چاہیے۔۔۔ اب جو معیشت کو سنوارنے کی خاطر تمام معاملات جناب حفیظ شیخ جیسے ٹیکنوکریٹ کو دوبئی سے بلا کر ان کے سپرد کر دیئے گئے ہیں۔۔۔ جن کی اقتصادی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے نمٹنے کی اہلیت و قابلیت سے انکار نہیں۔۔۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں یہی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔۔۔ اور اس سے قبل مشرف عہد کے مشیران میں شامل تھے تب ان کے ہاتھوں کونسا انقلاب رونما ہوا سب کے علم میں ہے۔۔۔ سوال مگر یہ ہے کہ جس شخص نے ایک دن بھی تحریک انصاف یا عمران خان کی قربت میں نہ گزارا ہواس کی کرائے کے آدمی کے طور پر خدمات حاصل کر کے آپ کون سا معرکہ سر کر ڈالیں گے۔۔۔ خان بہادر نے کہا ہے کہ بطور کیپٹن میرا فرض ہے ہر لمحہ اپنی ٹیم کی کارکردگی پر نگاہ رکھوں۔۔۔جو نااہل ثابت ہو اسے نکال باہر پھینکوں۔۔۔ بات درست ہے۔۔۔ مگر آپ کی قیادت میں جو ٹیم ناکام ہوئی ہے اسے بقول شخصے مقابلے ٹیم کی جارحانہ باؤلنگ نے تو ناکارہ بنا کر نہیں رکھ دیا۔۔۔ ٹیم کے افراد کو کپتان بہادر کی سربراہی ہی میں کچھ ایسے عوارض لاحق تھے جو زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے تھے گاڑی چلنے والی نہیں۔۔۔ کرکٹ کا ورلڈ کپ آپ نے یقیناًجیت دکھایا مگر کار حکومت چیز دگر است وہاں آپ نے پوری ٹیم کو پیچھے دھکیل کر سارا کریڈٹ اپنے نام کر لیا تھا۔۔۔ اسی کا دیا اب تک کھا رہے ہیں اب آپ کی حکومت سے کچھ بن نہیں پا رہا۔۔۔ ذمہ دار روز اول سے ساتھ دینے والے کچھ وزراء کو ٹھہرا دیا ہے۔۔۔ انہیں نکال باہر پھینکا ہے ۔۔۔ مگر ان کی جگہ جن سورماؤں کو مقرر کیا گیا ہے سب نامزد اور غیر منتخب ہیں عوامی مینڈیٹ نام کی چیز سے محروم ہیں یا مشرف آمریت کی باقیات اور پیپلزپارٹی کے پس ماندگان ہیں۔۔۔ ٹیکنو کریٹس نامی مخلوق کے لوگ اپنے اپنے شعبے کے یقیناًکاریگر ہوں گے۔۔۔ جانے پہچانے مستری ہیں ۔۔۔ اور یہ نئے پرانے ملا کر 47 کی کابینہ میں کم از کم 16 ہیں۔۔۔ ان کے ہاتھوں ملک کی گاڑی جس منزل کی جانب لے جائی جائے گی اس راستے میں چند پیشہ وارانہ اقدامات یقیناًہوں گے۔۔۔ آئی ایم ایف کی شرائط بڑھ چڑھ کر مانی جائیں گی۔۔۔ حکمران ایک کے بعد دوسرے قرضے کے طالب رہیں گے۔۔۔ ویژن ہو گا نہ کوئی بڑے درجے کی حکمت عملی۔۔۔ عام آدمی کو حقیقی اور پائیدار سہولتیں ملنا تو درکنار اشرافیہ کی معیشت جس کے حفیظ شیخ صاحب بڑے ماہر ہیں ہمارے سروں پر مسلط رہے گی۔۔۔ ڈاکٹر عشرت حسین اور عبدالرزاق داؤد جیسے عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کے کل پرزے ان کے مددگار ہوں گے۔۔۔ اور عمران خان اور ان کے دوچار قریبی ساتھیوں کے پاس گزشتہ حکومتوں کو بڑھ چڑھ کر صلواتیں سنانے کے علاوہ کوئی کام نہ ہو گا۔۔۔ یہ شغل ان کے ہاں روزاوّل سے جاری ہے تمام تر توجہات سیاسی حریفوں کو مطعون کرنے پر مرکوز چلی آ رہی ہیں۔۔۔ ابھی تک کنٹینر پر چڑھے ہوئے ہیں۔۔۔ پارلیمنٹ کے اندر جانا تو درکنار جھانک کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔۔۔ قانون سازی کی جانب ایک قدم نہیں اٹھ پایا۔۔۔ معیشت کی اصلاح کے لئے جس کے بہت دعوے کئے گئے تھے اس کے تمام عشاریے تنزل کی جانب لڑھک گئے ہیں۔۔۔ اور اب ایک دیرینہ ساتھی اسد عمر کو قربانی کا بکرا بنا کر دل کو تسلی اور عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔۔۔ کہ میری اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہر وقت نگاہ رہتی ہے۔۔۔ جو معیار پر پورا نہ اترا اُڑا کر رکھ دوں گا۔۔۔

آپ نے صرف پرانے ساتھیوں کو فارغ نہیں کیا۔۔۔ منتخب پارلیمنٹ سے بھی جس نے بظاہر آپ کو وزیراعظم بنایا تھامنہ موڑ لیا ہے۔۔۔ 47 اراکین کابینہ میں وہ 16 اور فیصلہ کن وزارتوں کے مالک افراد جو ماشاء اللہ غیرمنتخب ہیں۔۔۔ جو وزیراعظم کی ذات کے سوا نہ کسی جمہوری عوامی ادارے کے سامنے جواب دہ ہو ں گے نہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہو گا۔۔۔ ٹیکنوکریٹ کہلوائیں گے۔۔۔ ان نامی گرامی لوگ پیشہ وروں سے مشرف کے دور اور زرداری صاحب کے عہد میں بھی منجی پیڑھی ٹھکوانے کی خدمات لی جاتی تھیں۔۔۔ یہ وقت ٹپاؤ یعنی Adhocism کی تنخواہیں کھانے والے پروفیشنلز ہیں۔۔۔ اگر ٹیکنوکریٹس کی یلغار اسی طرح جاری رہی تو خواب ان قوتوں کا پورا ہو گا جو عوام کے منتخب نمائندوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کاریگرحضرات کو حکومتی عہدے دے کر اپنی مرضی کا نیم آمرانہ نظام ملک و قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ عمران خان کے بارے میں ابھی تک یہ بحث جاری ہے اسے کون لے کر آیا۔۔۔ یہ انتخابی جیت تھی یا اوپر والوں کی کرشمہ سازی۔۔۔ لیکن یہ حقیقت تو ننگی آنکھ کو بھی نظر آتی ہے کہ وفاق اور پنجاب جیسے سب سے بڑے اور سیاسی لحاظ سے اہم تر صوبے میں دونوں جگہ آپ کی حکومت مانگے تانگے کے چند ووٹوں کے سہارے پر کھڑی ہے۔۔۔ ہوا کے ایک جھونکے کی مار نہیں۔۔۔ یار لوگوں کو جب بھی منظورِ خاطر ہوا ان کے ایک اشارۂ اَبرو پر ملکِ عدم روانہ کی جا سکتی ہے۔۔۔ ایسی حکومت کو چلانے والے لیڈر کی سیاسی بصیرت ملاحظہ کیجئے ۔۔۔ کابینہ کے اراکین میں نامزد افراد کا روزافزوں اضافہ کر کے اپنے آپ کو پارلیمنٹ سے جو اس کا سب سے بڑا سہارا بن سکتی تھی دور کرتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ ان نامزد افراد یا ٹیکنوکریٹس کی وفاداری کا مرکز ہمیشہ سے جو بھی رہا ہے وہ بہرصورت وزیراعظم کی ذات یا منتخب پارلیمنٹ کا ادارہ نہیں ہوتا۔۔۔ انہوں نے مارکیٹ کے اندر اپنے ناموں کی دکانیں سجا رکھی ہیں۔۔۔ ہر حکومت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔۔۔ طاقت کہیں اور سے حاصل کرتے ہیں۔۔۔ اُنہی کی سفارش پر آتے ہیں اور اُنہی کی خوشنودی کے طالب رہتے ہیں۔۔۔ یہ جو کارکردگی دکھائیں گے سو دکھائیں گے ثقہ مبصرین کا البتہ یہ کہنا ہے حالات کو صدارتی نظام کی جانب لے جائیں گے۔۔۔ وہ صدارتی نظام جسے ملک کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب نے ایجاد کیا تھا۔۔۔ ضیاء الحق نے اجتہادی اضافہ کیااور مشرف کی آمریت کے دوران اس کی بدولت ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو ڈکٹیٹر کے پاؤں تلے روند کر رکھ دیا گیا۔۔۔ ایسے نظام کو ملک کے اندر جاری و ساری ہونے کے لئے ڈنڈے کی جس براہ راست طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ڈنڈا بہرصورت عمران خان کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔۔۔ کسی اور کے پاس ہے جس کی یہ بے چارا ایک مار بھی نہیں سہہ سکے گا۔۔۔ ملک و قوم کو تو خیر چھوڑیئے خان بہادر کے لئے سوچنے کا وقت یہ ہے کہ وہ اپنی حکومت کو کس انجام کی جانب لے جا رہے ہیں۔۔۔ حریف سیاستدانوں یا پارلیمانی حزب اختلاف کے نمائندوں سے ہاتھ ملانا گوارا نہیں مگر جن قوتوں کے آگے بچھے چلے جا رہے ہیں وہ بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے سنوارے بتوں کی کارکردگی پر اسی طرح نگاہ رکھتے ہیں جیسی کپتان کی اپنی ٹیم پر ہے۔۔۔ بیک گونی و دوگوش نکال باہر پھینکنا انہیں بھی بہت آتا ہے۔۔۔ اور خان کے مقابلے میں اس کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔۔۔

وفاقی وزیروں کی اکھاڑ پچھاڑ سے قطع نظر عمران حکومت جسے برسراقتدار آئے 9 ماہ نہیں گزرے A House devided, A Faith Shattereed کا منظر پیش کر رہی ہے۔۔۔ بقیۃ السیف، یعنی جو باقی رہ گئے ہیں انہیں اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہے کہ خان بہادر اپنی تمام تر مجموعی ناکامیوں کا ملبہ ان میں سے کسی نہ کسی سر پر ڈالتے رہیں گے۔۔۔ فارغ خطی دیتے رہیں گے۔۔۔ اور اعلان کریں گے کپتان اپنی ٹیم جتوانے کی خاطر ایک ایک کھلاڑی کا بنظرِغائر جائزہ لیتا ہے۔۔۔ اس عالم اور اس کیفیت میں کسی کے اندر جرأت مندانہ پیش قدمی یا خطرہ (رسک) لینے کا جذبہ باقی نہیں رہے گا۔۔۔ نیب نے جو حشر ملک اور خاص طور پر پنجاب کی بیوروکریسی کا کیا ہے وہی سلوک کپتان اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ کرے گا۔۔۔ یہ ماشاء اللہ وہ ٹیم ہے جس کے اندر سرپھٹول اگرچہ پہلے دن سے جاری ہے لیکن اب اتنی نمایاں ہو چکی ہے کہ اخبارات یا ٹیلی ویژن کے خبر نامے اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔۔۔ اسد عمر کی برطرفی کو اگرچہ ان کی عدم کارکردگی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے مگر درونِ مے خانہ واقفیت رکھنے والے اسے دو بڑے گروہوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔۔۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی صاحب کی رقابت اور باہمی چپقلش سے کون واقف نہیں جو کھلے عام خبروں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔۔۔ اسد عمر اسی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔۔۔ جہانگیر ترین کو اگرچہ سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا ہے مگر کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے بعد اگر موجودہ حکومت کی گاڑی کو کوئی چلا رہا ہے تو وہ موصوف ہیں۔۔۔ مگر اکیلے اسد عمر تو برطرف نہیں ہوئے۔۔۔ اپنے ساتھ فواد چوہدری جیسے حکومت کا جارحانہ دفاع کرنے والے ترجمان جن کی طعنہ زنی پر مبنی بیانات سن سن کر اہلِ وطن کے کان پک چکے تھے اور راولپنڈی میں دو نشستوں پر چوہدری نثار علی کو شکست دینے والے غلام سرور اور ادویات کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچانے والے عامر کیانی کو بھی لے ڈوبے ہیں۔۔۔ ان کی وزارتیں تبدیل کر کے کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔۔۔ کل ہفتہ کے روز بنی گالا میں ہونے والے اجلاس میں انہیں بلایا نہیں گیا یا خود دور رہے۔۔۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔۔۔ اسی تناظر میں موجودہ وزیر دفاع اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو برملا کہنا پڑا نئی ٹیم سے بھی کچھ بن نہ پائے گا۔۔۔ مگر معاملہ صرف وفاق تک محدود نہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا جیسے دو بڑے صوبوں میں بھی جہاں تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہیں گروہ بندی اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔۔۔ ہر جانب خاک اڑتی نظر آئے گی۔۔۔ پنجاب میں گورنر چوہدری سرور، سپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور نیب کی جیل میں مقیدجہانگیر ترین کے بعد وزیراعظم کی سب سے بڑی اے ٹی ایم عبدالعلیم خان سب کے درمیان کھینچا تانی جاری ہے۔۔۔ کم و بیش یہی صورت حال خیبر پختونخوا کی ہے۔۔۔ ان حالات میں دونوں وزرائے اعلیٰ یعنی عثمان بزدار اور محمود احمد خان کو رگڑے میں آتے دیر نہ لگے گی۔۔۔ وہ حسین خواب جو کبھی تحریک انصاف کے پُرجوش کارکنوں کو دکھایا گیا تھا تیزی سے پریشان ہوتا نظر آ رہا ہے۔۔۔ منزل کھوٹی ہوئی جا رہی ہے۔۔۔ انجامِ گلستاں کیا ہو گا۔


ای پیپر