بزئی ٹاپ دہشت گردی میں ایران کا ہاتھ ہے : شاہ محمود قریشی
20 اپریل 2019 (22:20) 2019-04-20

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ بزئی ٹاپ واقعہ کے شہدامیں10جوانوں کاتعلق پاک نیوی،3 کافضائیہ، ایک کاکوسٹل گارڈسے تھا، بلوچ دہشتگرد تنظیم بی آر آئی اے نے سانحے کی ذمے داری قبول کی ہے،بی آر آئی اے کے ٹریننگ ،لاجسٹکس کیمپ ایران کی سرحد کے پار واقع ہیں،بی آر اے کے کیمپس کی نشاندہی بھی کردی ہے ایران کاروائی کرے،اس واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کو نظرانداز نہیں کر سکتے،پاکستان نے مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے 6اقدامات کیے ہیں، افغانستان کی طرح ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کافیصلہ کیا ہے ،بلوچستان میں سوچی سمجھی سازش کے تحت دراندازی کی جاتی ہے،پاکستان کی خواہش اور پالیسی ہے چاروں پڑوسیوں سے تعلقات اچھے ہوں،بھارت الیکشن میں جو جماعت بھی حکومت میں آئے گی مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بزئی ٹاپ واقعہ میں لوگوں کو شناخت کر کے قتل کیا گیا، شہداء میں 10پاک بحریہ،3پاک فضائیہ اور ایک شہید کا تعلق کوسٹ گارڈز سے تھا، پوری قوم اس واقعہ پر حقائق جاننا چاہتی ہے، اس واقعہ پر ہمیں تکلیف ہے کہ ہمارے سپاہیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، بی آر اے کے نام سے ایک اتحاد سامنے آیا ہے جس میں کئی بلوچ دہشت گرد تنظیمیں حصہ دار ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی، بی آر اے کے ٹریننگ کیمپس ایران کی سرحد کے اندر واقعہ ہیں، تصدیق کے بعد شواہد ایرانی حکام کے حوالے کر دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ایران کو کیمپس کی جگہ کا بھی بتایا ہے توقع کرتے ہیں کہ ایران ان شواہد پر ایکشن لے گا، افغان بھائیوں سے بھی ایکشن کی توقع کرتے ہیں کیونکہ بی آر اے کی قیادت کی افغانستان میں بھی نشاندہی ہوئی ہے، ہم نیک نیتی سے افغانستان میں امن کیلئے کر دار ادا کر رہے ہیں اور افغانستان سے بھی اس کی امید کرتے ہیں، پاکستانی قوم کے جذبات ایرانی سفیر کے سامنے رکھے ہیں جس پر انہوں نے کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، اس بارڈر کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں، پاکستان نے ایک نئی سدرن کمانڈ تشکیل دی ہے جو فوری ایکشن لے گی، ایک نئی فرنٹیئر کور بنائی ہے بارڈر پر کاروائیاں روکنے کیلئے، طے کیا ہے کہ بارڈر پرامن کیلئے جوائنٹ بارڈر سینٹرز بنائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  ایران میں جب بھی کوئی واقعہ ہوا پاکستان نے ایران کو مایوس نہیں کیا، اب ایران سے بھی ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہیں تا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکیں، ایسے عناصر ہیں جو پاک ایران تعلقات میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں، پاک ایران تعلقات چاہتے ہیں کہ بہترین ہوں، چاروں ہمسائیوں کے ساتھ مثالی تعلقات کی خواہش ہے تا کہ اپنے مسائل پر پوری توجہ دے سکیں، بلوچستان میں سوچی سمجھی سازش کے تحت دراندازی کی جاتی ہے اور پاکستان میں عدم استحکام کی صورتحال پیش کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔


ای پیپر