عالمی تبدیلی
20 اپریل 2019 2019-04-20

فتنہ دجال قدم بہ قدم آگے بڑھ رہاہے۔ حالات واقعات مسلم دنیا میں ابتری، انتشار پھیلانے، پسِ پردہ سفید فام انتہا پسند، دہشت گرد گروہوں کی تنظیم سازی اور منظم کارروائیاں۔ ٹرمپ کا وقتاً فوقتاً نسل پرستانہ بیانات یا ٹویٹس کی صورت پھٹ پڑنا۔ مسلمانوں کے نظام تعلیم سے ( سامراجی تسلط کے بعد سے ) نسل در نسل اسلامی تاریخ خارج ازنصاب رہی۔ لہٰذا ہم نے دنیا کو گورے ہی کے زبان و بیان کے مطابق جانا اور سمجھا۔ اسی کی لکھی مسنح شدہ تاریخ نے ہماری ذہن سازی کی۔ ہم حق گوئی کی جسارت کریں تو فوراً نفرت انگیزی ( Hate Speech ) کی فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ لیکن ٹرمپ، مودی حق رکھتے ہیں۔ سفید فام برتری کے جیالوں اور بی جے پی کے جنگجوؤں کو بھڑ کانے کا ! تاریخ کے اوراق میں جھانکیے تو نامور برطانوی وزیراعظم چرچل کو خود انہی کے اپنوں نے کٹر سامراجی اور خالص کھرانسل پرست قرار دیا ہے۔ بر صغیر کی آبادی کے لیے نفرت سے بھرا ہوتاتھا۔ 1943 ء میں بنگال کے قحط میں جب 40 لاکھ مارے گئے ، اس وقت خوراک کا رخ بھارتی شہریوں کا نوالہ چھین کر اپنے خوش خوراک برطانوی فوجیوں کی طرف موڑ دیا ۔ حتیٰ کہ یونان و دیگر جگہ سٹاک بھرنے کو بھجوانے کا حکم ہوا۔ جب اس پر اعتراض ہوا تو چرچل نے نخوت سے کہا : ’ قصور ان کا اپنا ہے۔ قحط سے مرتے ہیں۔ آخر کیوں خرگوشوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔‘ ( ڈان بحوالہ واشنگٹن 4- فروری) ایسی ہی نفرت کا اظہار فلسطینیوں بارے بھی ملتا ہے۔ سو سامراجی ذہنیت جو کل تھی سو آج ہے۔ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے پیچھے ایک عالمی تیاری کا سماں منظر عام پر آیا ہے۔ جو آنے والے وقتوں کی خبر دے رہا ہے۔ بلقان کے علاقے میں مسلم کش انتہا پسند قاتل تیار کرنے کی نرسری نما تنظیموں کا فارم ہاؤس تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق 8 نسل پرست انتہا پسند مسلم دشمن بلقانی علاقے میں سرگرم ہیں۔ یہاں انتہا پسند نظریات پروان چڑھانے، منصوبہ بندی کا پورا نظام کار فرما ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں سرب درندوں نے مسلم بوسنیا کو سود میں جو درندگی مچا رکھی تھی۔ یہ وہی علاقہ ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر متوحش یہ تنظیمیں، جرمنی ، فرانس ، بلجیئم، ہالینڈ ، اٹلی، سویڈن اور یونان کی ہیں۔ انتہا پسندوں کی ان سالانہ اجتماعات میں شرکت آسٹریا ، ڈنمارک، سوئٹزر لینڈ، سپین سے بھی رہی۔ نیوزی لینڈ کے قاتل نے بھی یہاں رہ کر تربیت پائی دورے کے دوران جس کا تذکرہ آتا رہا ۔ نیوزی لینڈ میں مساجد میں حملے کے بعد اگرچہ حکومتی سطح پر مسلم دوستی کا اظہار کیا گیا ۔ اس کے با وجود یہ طبقہ اپنے عزائم پر کمر بستر ہے۔ ٹرمپ کی تصویر والی شرٹ پہنے ایک انتہا پسند نے دو مرتبہ النور مسجد کے باہر مغلظات بکیں، لوگوں کو ہراساں کیا جسے بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا ۔ ادھر ٹرمپ وقتاً فوقتاً تعصب کی آگ بھڑ کا کر انتہا پسندوں کو اکسانے کا کام کرتا ہے۔ حال ہی میں ، پہلی مسلمان با حجاب کانگریس وومن، الہان عمر کے ایک جملے کی رائی کا پہاڑ بنا کر امریکہ میں تنازعہ کھڑا کر دیا ۔ سوشل میڈیا، اخبارات میں دھڑا بندی کی فضا بن گئی۔ مقصود بھی اس شر پسند پراپیگنڈے کا یہی ہے کہ ’ اسلامو فوبیا‘ کو ٹھنڈا نہ پڑنے دیا جائے۔ بر سر زمین ناروے میں مسجد کو آگ لگا کر جلا ڈالا ۔ عالمی میڈیا بلقان میں دہکائے جانے والے تنور بارے خاموش ہے۔ یورپی ممالک میں کئی سیاست دان ٹرمپ کی طرح بیانات جملے بڑھکاتے رہتے ہیں۔ نیوزی لینڈ واقعے کے بعد گارڈ ین کی رپورٹ کے مطابق (22 مارچ) برطانیہ میں نفرت آمیز جرائم میں فوری 593 فیصد اضافہ ہوا۔ مسلمانوں کے خلاف آن لائن مغلظاتی دھمکیاں مسلمانوں کے خلاف حملے ایک ہفتے میں 40 اور روبرو واقعات 45 رپورٹ ہوئے۔ 5 مساجد پر حملہ ہوا۔ سویہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں میں مسلم طلباء کو ( بالخصوص پابندِ دینِ نوجوان) کھلم کھلا تعصب اور نفرت کا نشانہ بنانے کی شکایات روز افزوں ہیں۔ زمین ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ مسلم دنیا میں انتہا پسندی کی آڑ میں ملک اجاڑنے آبادیاں در بدر کرنے والے، ہمیں مکالمہ، رواداری ، سافٹ امیج، ترقی پسندی پڑھانے والے جغادری ( عالمی و مقامی دانشور ) عالمی لیڈر اقوام متحدہ کیا فرماتے ہیں ۔ اب سفید فام جنگجوؤں کی انتہا پسندی بارے ؟ ہمارے پیغام پاکستان کی طرح پیغام بلقان ، بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ امن عالم کے لیے ؟ ادھر اسرائیل، امریکہ کی پشت پناہی میں فلسطینی علاقوں ، مساجد کی بربادی، بے حرمتی میں خوب جری ہو چکا ہے۔ مسجد ابراہیمی اور سکول کو بمبوں سے اڑانے کی سازش جو فلسطینیوں نے بر وقت پکڑلی۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے سکولوں کے درجنوں طلباء فائرنگ اور آنسو گیس شیلوں نے زخمی کر دیئے۔ شمالی فلسطیں میں تاریخی مسجد الاحمر ( 13 ویں صدی عیسوی کی) کو اسرائیلیوں نے شراب خانے اور نائٹ کلب میں بدل دیا ہے۔ ایک لا ل مسجد پر ہم نے قہر ڈھایا تھا۔ ایک لال مسجد کی یہودیوں نے بے حرمتی کی انتہا کر دی! یوں بھی مسلم دنیا کو دیکھنے کی فرصت کہاں کہ اقصیٰ کی بیٹیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیبیا، تیونس، الجزائر، یمن کے بعد اب سوڈان میں بحران، تنازعہ، خانہ جنگی تیا ر ہے۔ مصر میں عوام انقلاب کے نتیجے میں مقبول عام مرسی کی جمہوریت کا تختہ کشت و خون سے الٹا گیا ۔ اسلام پسندوں کے بلڈوزوں سے پسندے بنا کر ، جیلیں پھانسیاں دے کر عبد الفتاح الیسی امریکہ اسرائیل نوازی کا شاہکار بن کر مسلط ہوئے۔ اب باری ہے سوڈانی جنرل عبد الفتاح البرہان کی ۔ جس پر یکا یک امریکہ اور امریکہ نواز ممالک سوڈان پر مہربان ہو رہے ہیں۔ سوڈان کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جانا، سیسی کا بغلیں بجانا ،ہوا کا رخ متعین کر رہا ہے۔ پاکستان آج کل امریکہ جیسا ہو رہا ہے۔ موسمی تھپڑوں کے اعتبارسے۔ امریکہ میں موسلا دھار بارشیں، سیلاب، طوفان، بگولے، درخت جڑ سے اکھڑ کر جانی، مالی نقصانات کی لپیٹ میں ۔ ہم امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی، اس حدیث کے مطابق کہ الأر مع من احب۔ معیت تو اسی کو ملتی ہے جس سے محبت کی جاتی ہے۔ سو پاکستان بھی ایسے وقت بارشوں سیلابوں میں نچڑا پڑ رہا ہے۔ جب بارش فصلوں باغات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ امریک دوستی کی سزامل رہی ہے؟ معیشت کو لگے چرکوں کے بیچ اسد عمر سے استعفیٰ اور فواد چوہدری کا بدلا جانا بھی ٹھہر گیا۔ ملکی منظرنامہ عجب افراتفری، پھسوڑی ( Total Chaos ) کا ہے۔ انتشار و افتراق کی جو کیفیت مذکورہ بالا مسلم ممالک نے سہی، اللہ اس سے ہمیں بچائے۔ دنیائے کفر ہمارے لیے کہیں بھی سویلین حکمرانی پسند نہیں کرتی۔ یوں تو اس وقت پوری دنیا ہی ایک عالمگیر اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے! خیبر پختونخواہ سے ایک دلچسپ خبر یہ ہے کہ یہ صوبہ تمام صوبوں پر بازی لے گیا! کیونکر؟ یوں کہ شدید مردانہ شعبوں میں بڑی تعداد میں خواتین بھرتی کر کے ! یہ ضروری بھی تھا۔ فقیر ایپی نے روس امریکہ دونوں کو خون کے آنسو رلایا۔ افغان ، پٹھان نسل ! امریکی ڈرون مار مار بیچارے ادھ موئے ہو گئے۔ یہ صوبہ غیور اور اسلام پسند ہونے کی شہرت رکھتا تھا۔ غیرت مرحومہ کے لیے کسی زمانے میں اقبال نے کہا تھا ۔ غیرت ہے بڑی چیز جہاںِ تگ و دو میں، پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا۔! جہانِ تگ و دو میں اب ڈالر زیادہ بڑی چیز ہے۔ سو اب جبکہ درویش بھی ختم کر دیئے۔ تاج سردارا نے ہیلمٹ کی شکل اختیار کر لی۔ ( جو شہباز شریف پہلے ہی پنجاب میں گلابی سکوٹر خواتین میں بانٹ کر انہیں ہیلمٹ پہنانے کا اعزاز لے چکے۔ لیکن ان کا کمالِ نے نوازی کسی کام نہ آیا ، نیب ان کے پیچھے چھوڑ دی گئی۔) البتہ خواتین کو مردانہ کرسیوں پر بٹھانے کے بعد یہ صوبہ مردوں کی فکر کرے۔ جس تناسب سے خواتین بھرتی ہوئیں، مرد اتنے ہی بے روزگار ہوں گے۔( مرد کاروزن تہی آغوش!) شوہروں کے لیے ڈے کیئر سینٹر کھولے جائیں۔ ( اب بچے تو کیا ہوں گے۔) کئی مردوں کو روزگار میسر آ جائے گا ان سینٹرز کے ذریعے۔ جہاں تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل، والی لوریاں دے کر بہلایا جائے گا۔ سینٹر میں کھوئے موزے تلاش کرنے اور کھانا گرم کرنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ بلکہ پکانے کی بھی۔ تاکہ وہ ہوم کچن سروس، کے ذریعے گھر بیٹھے پردہ نشینی ہی میں کمائی کر سکیں! واقعی کے پی کے بازی لے گیا ! شاید اسی کا نام ’ تبدیلی ‘ ہے۔


ای پیپر