تبدیلی آئی رے۔۔۔
20 اپریل 2019 2019-04-20

دوستو،انسانی زندگی میں ہر گزرتا دن ایک تبدیلی لاتا ہے، کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں لیکن ہمارے اندرکا سسٹم متواتر تبدیلی کا شکار ہوتا رہتا ہے،اسی طرح ہمارے معاشرتی سسٹم میں بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کچھ تبدیلیاں ہم جلد محسوس کرلیتے ہیں اور کچھ تبدیلیاں ہمیں کافی تاخیر سے پتہ لگتی ہیں۔۔جیساکہ بچپن میں جن چیزوں کو ہم آنکھیں پھاڑپھاڑ کر دیکھا کرتے تھے آج کل کے بچے ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔۔ہم اپنے بڑوں کے ساتھ بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتے تھے آج کل کے بچے بے دھڑک ہر بات کہہ ڈالتے ہیں۔۔ اسی طرح کی درجنوں تبدیلیاں ہمارے پاس نمودار ہوچکیں لیکن ہم اپنی روٹین لائف میں اتنے مصروف ہوگئے ہیں کہ ہمارا دھیان ان چیزوں کی طرف نہیں جاتا۔۔ چلیں پھر آج کچھ سیاسی تبدیلیوں کی باتیں کرلیتے ہیں۔۔ کیوں کہ تبدیلیاں بھی وہی لارہے ہیں جو کبھی کہتے تھے کہ تبدیلی آئی رے ۔۔

جب میٹرک میں تھے تو مطالعہ پاکستان کے مضمون میں قائد اعظم کے چودہ نکات کو رٹے مارمارکریادکرتے تھے کیونکہ یہ سوال امتحان میں لازمی آتا تھا،اب حال یہ ہے کہ آپ ہم سے قائد اعظم کا کوئی ایک نکتہ بھی سن لیں مجال جو یاد رہ گیا ہو۔۔ تبدیلی لانے والوں نے بھی الیکشن سے پہلے چودہ نکات دیئے تھے، یادآیا۔۔ چلیں ہم آپ کو وہ چودہ نکات یاددلاتے ہیں۔۔نمبرایک قرضہ نہیں لوں گا۔۔نمبردو، پیٹرول گیس بجلی سستی کروں گا۔۔ میٹرو بس نہیں بناؤں گا۔۔ ڈالر مہنگا نہیں کروں گا۔۔ ہندوستان سے دوستی نہیں کروں گا۔۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں دوں گا۔۔ آزاد امیدوار نہیں لوں گا۔۔ سیکیورٹی اور پروٹوکول نہیں لوں گا۔۔وزیراعظم ہاؤس کو لائیبریری بناؤں گا، گورنر ہاؤسز گرا دوں گا۔۔. بیرون ملک دورے نہیں کروں گا، عام کمرشل پرواز سے سفر کروں گا۔۔ ہیلی کاپٹر کی بجائے سائیکل استعمال کروں گا۔۔ مختصر ترین کابینہ رکھوں گا۔۔ جس پر الزام ہو گا اسے عہدہ نہیں دوں گا۔۔ جو حلقہ کہیں گے کھول دوں گا۔۔۔آٹھ ماہ ہوچکے اب تک کسی ایک پر عمل درآمد نظر نہیں آرہا۔۔آگے سن لیجئے تبدیلی والوں کی۔۔آٹھ ماہ میں میں چار بجٹ پیش کرنے والے 3489 ارب کا نیا قرضہ لے کر 2500 ارب کا خسارہ چھوڑ کر اسٹاک ایکسچینج کو 52000 سے 34000 پوائنٹس پر پہنچا کر ترقی کی شرح کو 6 سے 3 پر پہنچا کر ملک میں تاریخ کی سب سیے زیادہ مہنگا کرا کر ڈالر کو 144 پر پہنچا کر پیٹرول ڈیزل کو 100 اور 120 پر پہنچا کر IMF سے 8 ارب ڈالر کا نئے قرضہ کے معاہدے کر کے پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو کر معاشی طور پر برباد کر کے، نئے پاکستان بنانے والے ارسطونے استعفا دے دیا۔۔

ایک دفعہ ایک گاوں کے چوہدری نے ایک مستری کے ذمہ ایک دیوار بنانے کا کام لگ گیا۔ مستری نے چودھری سے کہا، جی تسی آرام کرو میں شام تک بنا دواں گا تے رات نوں مزدوری لے جاواں گا۔ چودھری سکون سے اپنے کام کو نکل گیا۔ رات کو جب دیوار کے پاس پہنچا تو دیوار تو مکمل تھی مگر بالکل ٹیڑھی۔ چوہدری نے اپنے ملازم کو کہا، مستری بلا لاؤ اور گاوں والوں کو بھی ۔۔گاؤں کا’’ کٹھ‘‘ ہو گیا اور مستری بھی آ گیا ۔

سارے پنڈ نے کہا کہ اوے مستری اے کی چول ماری وا۔ مستری نے جب دیکھا کہ مزدوری تو دور کی بات یہاں تو جوتیوں سے خدمت کے بہت چانسز ہیں۔ وہ اٹھا دیوار کو دھکا دے کر گرادیااور بولا۔۔لو جی تہاڈی دیوار گئی،ساڈی مزدوری گئی۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ اسی سال کے آخر تک یا پہلے ہی ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر کے اسمبلیاں توڑ کر کہا جائے گا۔ تہاڈی معیشت گئی ،ساڈی حکومت گئی۔۔

یہ تو تھی تبدیلی والوں کی باتیں، اب ذرا اپوزیشن کی بھی سن لیجئے۔۔۔حمزہ شہبازکہتے ہیں،میری بیٹی بیمار ہے اور مجھے گرفتار کرنے آگئے۔۔خواجہ سعدرفیق فرماتے ہیں، میری کمر میں درد ہے اور مجھے پولیس موبائل میں بٹھایاگیا۔۔شہبازشریف نے کہا۔مجھے کینسر ہے مجھے چیک اپ کے لئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔۔مریم نوازکہتی رہیں، میری امی بہت بیمار ہیں انہیں ووٹ دو۔۔نوازشریف نے کہا ،میرے گردے میں پتھری ہے عدالت مجھے ضمانت دے۔۔ مریم نواز نے بھی حمایت کی کہا،میرے ابو کو ایک رات میں تین ہارٹ اٹیک آئے ہیں،انہیں ضمانت دی جائے۔حمزہ شہباز بولے،گورنمنٹ نے میرے بوڑھے تایا کو گرفتار کیا ہے کہ جن کو سات اسٹنٹ پڑ چکے ہیں۔۔اسحاق ڈار کہتے ہیں،بہت بیمارہوں اس لئے وطن واپس نہیں آسکتا۔۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے۔۔میری ماما اور نانا کو ماردیا گیا،مجھے ووٹ دو۔۔آصف زرداری کہتے ہیں میری بیوی اور سسر کو ماردیاگیا،جئے بھٹو۔۔فریال تالپور کہتی ہیں، میرے بھائی کی بیوی اور سسرکو ماردیاگیا ۔۔یہ ہے اپوزیشن کی پچھلی دس سالہ پرفارمنس۔۔

اب ذرا تحقیق و تفتیش کے معاملے پر بھی بات کرلی جائے۔۔ نیب سرگرم ہے، جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے سر’’گرم‘‘ ہیں۔۔نیب کی ٹیم نے سندھ کے سائیں سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے بھی تفتیش کا ارادہ ظاہر کیا تو سوال نامہ کچھ اس طرح سے مرتب کیا تھا۔۔ نوح کی کشتی کی لمبائی اور چوڑائی کتنی تھی؟۔۔محمد بن قاسم کس راستے سے سندھ آیا اوراس کے ساتھ آنے والے سپاہیوں کی تعداد بتاؤ۔۔سقرا ط اور بقراط کی آپس میں کیا رشتہ داری تھی؟۔۔ افلاطون کے پاس کس شہر کا ڈومیسائل اور پی آر سی تھا؟؟۔۔ فرعون کے دور میں پیغام رسانی کبوتر کے علاوہ کن کن ذرائع سے کی جاتی تھی؟۔۔ محمود غزنوی کے سومنات پر اٹھارہ حملوں کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرو۔۔ سکندر جب دنیا گیا دونوں ہاتھ خالی تھے، اس کی جیبوں میں کیا تھا؟؟۔۔ برفانی ریچھ کون کون سے رنگوں میں دستیاب ہے؟۔۔ ڈائنوسارز کی نسل کیوں ختم ہوئی اور اب یہ جانور کرہ ارض پر موجود کیوں نہیں؟؟راجہ داہر نے میٹرک کس سن میں اور سندھ کے کون سے بورڈ سے اور کتنے نمبروں سے پاس کیا؟۔۔ موہن جو داڑو کے موہن اور سوہن حلوے کے سوہن کیا آپس میں باپ بیٹے تھے؟؟ سنا ہے نیب اگلی پیشی پر ،کچھ اسی طرح کے سوا ل پوچھے گی تاکہ یہ کیس جلد سے جلد نمٹایا جاسکے۔۔ ایک شخص ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور گڑگڑاتے ہوئے عرض کیا ۔۔ باباجی دنیا کا ہر گناہ کر چکا ہوں ،کیا میرے لیے اب بھی کوئی راستہ ہے ۔۔بابا جی نے انتہائی شفقت بھری نظروں سے اس شخص کو دیکھا اور دھیمے لہجے میں فرمایا۔ لاہور ہائی کورٹ ٹر جا پّتر ۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ہر شخص اتنا عقلمند نہیں ہوتا جتنا کہ اس کی ماں سمجھتی ہے، اور ہر شخص اتنا بیوقوف نہیں ہوتا جتنا حکومت سمجھتی ہے۔۔حکومت کی جگہ بیوی بھی ہوسکتی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر