نوواں مہینہ اور چوتھا آئی جی پنجاب!
20 اپریل 2019 2019-04-20

تبدیلیوں کی ہواچل پڑی ہے، میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کوئی افسر نااہلی کا مظاہرہ کرے اُسے فوراً تبدیل کردیا جاتا ہے، مگر وفاقی کابینہ کے کئی ارکان بشمول وزیر خزانہ نااہلی کی آخری حدوں کو چُھورہے ہیں اُنہیں کوئی نہیں پوچھتا، شکر ہے اُن کی باری بھی آئی ، اِس تبدیلی پر اگلے کالم میں عرض کروں گا، فی الحال مجھے آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر بات کرنی ہے جو آٹھ نوماہ میں تیسری بار تبدیل کیا گیا ہے ،موجودہ حکومت کے قیام کے وقت کلیم امام آئی جی پنجاب تھا، اُس کا تبدیل ہونا بنتا تھا، نگران حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کا یہ اختیار ہوتا ہے وہ اپنی مرضی کے افسران خصوصاً آئی جی اور چیف سیکرٹری مرضی کے تعینات کرے، منافقوں کے امام عُرف حکیم امام نے پنجاب میں بطور آئی جی قائم رہنے کی پوری کوشش کی، بعض اطلاعات کے مطابق اُس کی اہم عہدوں پر تقرریاں بحریہ ٹاﺅن کا ڈان کرواتا تھا، پنجاب میں چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی تھی، لہٰذا پنجاب میں اِس ڈان کی سفارش یا کوشش نہ چل سکی، کلیم امام کو پنجاب سے ہٹاکر سندھ کا آئی جی بنادیا گیا، اب سنا ہے منافقوں کے امام کی سندھ کے حکمرانوں سے بھی نہیں بن رہی، مجھے اِس پر خاصی حیرت اِس لیے ہے کہ کلیم امام اور سندھ کے حکمرانوں کی فطرت تقریباً ایک جیسی ہے، ممکن ہے ”مشترکہ مالی مفادات“ کا ٹکراﺅ ہو جِس کے نتیجے میں حکمرانوں سے اُس کی نہ بن رہی ہو، اِس سے پہلے اے ڈی خواجہ سندھ کے آئی جی تھے، اُن کی بھی وہاں حکمرانوں سے نہیں بنی تھی، اُنہوں نے کافی عرصہ ”عدالتی آسرے“ پر نکال لیا، وہ بھی دیانت دار تو پتہ نہیں ہیں یا نہیں مگر اُن کے بارے میں بھی عمومی تاثریہی ہے سازشی وہ پرلے درجے کے ہیں، حتیٰ کہ سازش کے لیے اُنہیں کوئی اور نہ مِل رہا ہو اپنے ہی خلاف سازش شروع کردیتے ہیں جِس کے نتیجے میں بعض اوقات اچھے خاصے عہدے سے محروم ہوجاتے ہیں، چند روز پہلے جب آئی جی امجد جاوید سلیمی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جارہا تھا تو پنجاب میں بطور آئی جی تقرری کے لیے سب سے زیادہ ہاتھ پاﺅں اُنہوں نے مارے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ میں اچھا خاصا عرصہ باقی ہے، لہٰذا اُمید کی جاسکتی ہے اُن کی زندگی اور اُن کے سفارشیوں نے اُن کا ساتھ دیا وہ کبھی نہ کبھی آئی جی پنجاب لگنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ فی الحال وہ موٹروے کے آئی جی ہیں، اُن کی اہلیت زیادہ سے زیادہ اِسی عہدے کی ہے، سنا ہے وہاں وہ ٹھیک کام کررہے ہیں کیونکہ وہاں کام خراب کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، ....کلیم امام کے بعد پنجاب میں محمد طاہر کو لایا گیا ، وہ چند یوم بھی نہ چل سکے کیونکہ اُنہیں کوئی اور چلانا چاہتا تھا، وہ جتنے ایماندار تھے اُتنے مردم بیزار تھے ۔ آئی جی بنتے ہی پہلا حکم اُنہوں نے یہ دیا اُن کے دفتر میں ایک وقت میں صرف ایک افسر آئے، ایک موٹا پولیس افسر اُن کے دفتر میں اکیلا جاتے گھبراتا تھا کہ کہیں آئی جی محمد طاہر اُس کی جسامت کے لحاظ سے اُسے ایک کے بجائے دوافسر نہ سمجھ لیں، اُنہیں شاید اِس لیے تبدیل کرنا پڑا کہ آئی جی پنجاب بننے کے بعد وہ اِس وہم یا اِس زعم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے عہدوں کے اضافی چارج بھی اُنہی کے پاس ہیں، اب اللہ جانے وہ کہاں ہیں مگر ہماری دعا ہے پنجاب سے دُور وہ جہاں رہیں خوش رہیں، .... اُن کے بعد امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا، اُن کی ریٹائرمنٹ میں چند مہینے باقی تھے، ہماری خواہش اور کوشش تھی وہ بطور آئی جی پنجاب ہی ریٹائرڈ ہوں، افسوس ہماری یہ خواہش پوری نہ ہوسکی، وہ موجودہ حکومت کی ہرطرح سے خدمت کررہے تھے، حتیٰ کہ وزیر اعظم نے جب اُنہیں کرپٹ ڈی ایس پیز کو محکمے سے نکالنے کا حکم دیا وہ اُسے فوراً بجا لائے، حالانکہ اُن کی عمومی شہرت یہ ہے وہ کسی ماتحت کو نقصان پہنچا کر ذرا خوش نہیں ہوتے۔ میں اُنہیں ہٹائے جانے کی اصل وجوہات سے آگاہ ہوں، بظاہر اُن کو ہٹائے جانے کی وجہ یہ ہے پر یہ الزام لگانیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے اُس کے گھر چھاپہ مارا تو پولیس نے حمزے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے نیب کی مدد نہیں کی، میرے خیال میں اِس کا اصل قصور وار سی سی پی او لاہور بشیر احمد ناصر ہے جس کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں وہ نون لیگ کا خاص چمچہ ہے

اور شریف برادران کے ساتھ اب بھی رابطے میں ہے کیونکہ وہ بُری طرح اِس یقین بلکہ غلط یقین میں مبتلا ہے کہ پنجاب میں جلدی دوبارہ نون لیگ کی حکومت بننے والی ہے جس کے نتیجے میں اُسے آئی جی پنجاب بنادیا جائے گا، اُس کی ساری باتیں برداشت کی جاسکتی ہیں مگر بطور سی سی پی او لاہور جِس نکمے پن کا اُس نے مظاہرہ کیا جِس کے نتیجے میں کرائم آسمانوں کو چُھونے لگا، اِس کے نتیجے میں اُس کی پرسنل فائل پر لِکھ دیا جانا چاہیے آئندہ کبھی اُسے فیلڈ میں تعینات نہیں کیا جائے گا، لاہور میں اتنے ماہ سے وہ تعینات ہے۔ کوئی ایک شخص ایسا نہیں ہوگا جو کہہ سکے وہ اُس کے دفتر میں گیا اور اُس نے اُسے انصاف فراہم کیا۔ ایسی ایمانداری کا کسی نے اچار ڈالنا ہے جو لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہو، .... نئے آئی جی پنجاب کو پہلی فرصت میں پنجاب میں فیلڈ میں تعینات ایسے تمام مردم بیزار پولیس افسروں کو فوری طورپر ہٹا دینا چاہیے جو اپنی مردم بیزاری کے باعث موجودہ حکومت کے لیے مسلسل بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ....اب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے، وہ پہلے بھی آئی جی پنجاب رہ چکے ہیں، بطور آئی جی پنجاب اِس عہدے کی گریس بحال کرنے کی اُنہوں نے پوری کوشش کی تھی، یہ کوشش اب اُنہیں نئے سرے سے کرنی پڑے گی، وہ ایک ماتحت پروراور مہربان انسان ہیں، اُن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں، اپنے کام سے کام رکھتے ہیں صِرف کام کرتے ہیں اور کام کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں، کوئی نکما، بے ایمان یابداخلاق اُن کی ٹیم میں رہ ہی نہیں سکتا، ایسے تمام ماتحت پولیس افسروں کو چاہیے وہ طویل رخصت پر چلے جائیں ”طویل رخصت“ کے لیے میں نے اِس لیے کہا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کی ریٹائرمنٹ میں دوبرس باقی ہیں۔ وہ چونکہ جھوٹ نہیں بولتے، منافقت نہیں کرتے، کرپٹ ماتحتوں کو خود سے ہرممکن حدتک پرے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کوئی ذاتی ایجنڈہ نہیں رکھتے، تو اُن کی اِن خصوصیات کی بناءپر میں اُمید کرسکتا ہوں وہ بطور آئی جی پنجاب ہی ریٹائرڈ ہوں گے۔ اگلے روز اُنہوں نے مجھے اپنے گھر چائے پر مدعو کیا۔ اڑھائی گھنٹے کی اِس طویل نشست میں جن جذبوں کا اظہار اُنہوں نے کیا، خصوصاً اچھے اخلاقیات کے حوالے سے ماتحت افسروں کی تربیت کا جوپلان اُن کے دل میں ہے اُس کی بنیاد پر میں یہ توقع کرتا ہوں وہ ایک مختلف اور منفرد آئی جی ثابت ہوں گے !!


ای پیپر