File Photo

خبردار ہوشیار ،گوگل کا جاسوسی مشن!
20 اپریل 2018 (20:21) 2018-04-20

عثمان یوسف قصوری:انٹر نیٹ نے دنیا کو گلوبل ویلج بنایاتو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے دنیا کے مختلف خطوں اورممالک میں بسنے والے عوام کو ایک دوسرے سے باہمی روابط قائم کرنے میں مدد دی۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے اربوں افراد سوشل میڈیا سائٹس فیس بک،ٹوئٹرو دیگر استعمال کر رہے ہیں،انٹر نیٹ اور ویب سائٹس کے درمیان جو چیز پل کا کردار ادا کرتی ہے اسے انٹر نیٹ صارفین سرچ انجن کے نام سے جانتے ہیں ۔ صارفین انٹر نیٹ پر جو بھی مواد سرچ کرتے ہیں وہ بغیر کسی سرچ انجن کے ممکن نہیں ہوتا،اسی لئے ٹیکنالوجی کمپنیز نے مختلف ناموں سے سرچ انجن بنا رکھے ہیں،جن میںGoogle,Yahoo,Bing,Ask.com قابل ذکر ہیں۔مقبولیت کے لحاظ سے سر فہرست سرچ انجن Google پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے انٹر نیٹ صارفین اور عوام کو حیران و پریشان کیے رکھا کہ آیا یہ سوشل میڈیا سائٹس اور سرچ انجن بغیر کسی فیس کے اپنی سروسز کیوں مہیا کرتی ہیں؟کیونکہ قومی سطح پر ایسی کسی سروس کو چلانے کے لئے وسیع پیمانے پر فنڈز اور ریونیو درکار ہوتا ہے تو پھر یہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بین الاقوامی سطح پر کس طرح اپنے وسیع پیمانے پر آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں ؟


قارئین اب آپ اپنے دل کو ذرامضبوطی سے تھام لیجیے گا کیونکہ ہم نہایت چشم کشا اور چونکا دینے والی معلومات سے آپ کو آگاہ کرنے جا رہے ہیں ، آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں ہم فیس بک کی تاریخ کے بدترین سکینڈل سے آپ کو آگا ہ کر چکے ہیں کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے کس طرح اپنے صارفین کے قیمتی ڈیٹا کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں استعمال ہونے دیا۔ جس پر کمپنی کو نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اُس کے صارفین نے اس پر اعتماد کرنا بھی کم کر دیا۔جس کے باعث فیس بک کو زبردست خسارہ برداشت کرنا پڑا اور اس کے شیئرز کی قیمتیں بھی گر گئیں۔ یہ معاملہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو عوام سے باقاعدہ معافی مانگنا پڑی،اب یہ اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ فیس بک اپنے صارفین کے ڈیٹا کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے ،پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں2018 میں ہونے والے انتخابات کو فری اینڈ فیئر بنانے کےلئے حفاظتی عملہ کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ابھی اس سکینڈل کی بازگشت تھمی نہ تھی کہ اب معروف سرچ انجن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے صارفین کی ہرایک ایکٹیویٹی کا ریکارڈ جمع کرتا ہے بلکہ امریکی فوج کو کارروائیوں کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کےلئے بھی اس کی معاونت کر رہا ہے اس مقصد کےلئے وہ امریکی فوج کو اپنی ٹیکنالوجی بھی استعمال کرنے دے رہا ہے۔


امریکی فوج کے خفیہ پراجیکٹ ماوین پر معاونت کرنے پر گوگل کے ملازمین کا احتجاج
پر اسرار سرگرمیوں کے باعث گزشتہ دنوں گوگل کے ملازمین نے کمپنی کے سی ای او کے نام خط لکھا جس میں کہا گیا کہ ہم اس خط کے ذریعے کمپنی انتظامیہ اور مالکان تک اپنے جذبات پہنچا نا اور اُنہیں بتانا چاہتے ہیں کہ گوگل کو انسانیت کی تباہی کا باعث بننے والی جنگ کے کاروبار کا حصہ نہیں بننا چاہیئے ۔ تشویش میں مبتلا ہونے والے ہزاروں ملازمین نے کھلے خط میں کمپنی سے استدعا کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے خصوصی پروجیکٹ پر کام نہ کریں۔ واضح رہے کہ اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ ماوین ہے ،جس کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ڈرون حملوں کے نشانے کو بہتر بنانا ہے۔ گوگل ملازمین کے اس اقدام کی دو وجوہات ہیں ،اول و ہ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ اس کی خیر خواہی چاہتے ہیں کیونکہ یہ پروجیکٹ کمپنی کی ساکھ کو برباد کرنے کا باعث بنے گا۔ دوسری جانب ان کی رائے یہ ہے کہ گوگل کو انسانیت کو تباہی و بربادی سے دو چار کرنے والی بری چیز جنگ کے کاروبار سے منسلک نہیں ہونا چاہیئے۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پروجیکٹ ماوین کو فوری ختم کیا جائے ۔ گوگل واضح پالیسی کا اعلان کرکے اس پر عمل کرے کہ گوگل یا اس کا کوئی بھی کنٹریکٹر جنگی ٹیکنالوجی تیار نہیں کرے گا۔اس خط پر3100 ملازمین کے دستخط ہیں جن میں درجنوں سینئر انجینئرز بھی شامل ہیں ۔ اس وقت دنیا بھر میں گوگل کے 88000 ملازمین کام کر رہے ہیں۔گوگل کی کلاو¿ڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے اس خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی استعمال کی اجازت دی گئی ہے وہ انسانی چہرے کے بجائے دیگر چیزوں کی شناخت کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جن میں کاریں، پرندے اور درخت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہتھیار لانچ کرنے اور ڈرون چلانے یا اُڑانے میں استعمال نہیں ہوگی۔ دوسری جانب خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال کر اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے۔گوگل کی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ہر صارف ہم پر اعتماد کر تا ہے، اس لیے ہم کبھی بھی اُسے خطرے میں نہیں ڈالیں گے، لیکن اب کمپنی اپنی پالیسی کی خود ہی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ آخر کمپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی حکومت کو عسکری نگرانی میں مدد کیوں کرنا چاہتی ہے اور جس کے جا ن لیوا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔درحقیقت گوگل کے ملازمین کو اس بارے گزشتہ ہفتے دفتری ای میلز کے ذریعے علم ہوا ۔جس پر وہ اپنی کمپنی انتظامیہ اور مالکان سے ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماضی میں پینٹاگون کی زیراہتمام ایک روبوٹس کے مقابلے میں گوگل نے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

سرچ انجن گوگل کا اعتراف
دوسری جانب گوگل کمپنی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی محکمہِ دفاع کو اپنی امیج ریکگنیشن(تصویری شناخت) ٹیکنالوجی استعمال کرنے دے رہا ہے۔گوگل کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پروجیکٹ ماوین وزارتِ دفاع کا ایک معروف منصوبہ ہے اور گوگل اس کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے۔یہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ڈرون سے بنائی گئی فوٹیج کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔گوگل کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں امریکہ کے محکمہ دفاع کو سافٹ ویئر ٹولز کی فراہمی بھی شامل ہیں، جس سے وہ اپنے مخصوص کوڈ تیا رکر سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی تجزیوں اور غیر جنگی مقاصد کے استعمال کے لیے ہے۔مشینوں کے فوجی استعمال پر خدشات تو ہوں گے، ہم اس موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں ۔ اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال اور تیاری سے متعلق پالیسیاں اور حفاظتی اقدام بھی تیار کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گوگل کے سابق چیئرمین ایرک شمڈ 2016 میں پینٹاگون کے مشیر بن گئے تھے ۔جس کے بعد یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ گوگل اور پینٹا گون میں راہ و رسم کس نوعیت کے ہو سکتے ہیں؟


گوگل اپنے صارفین کی ہر ایکٹیویٹی کا ڈیٹا محفوظ رکھتا ہے
صارفین جب گوگل استعمال کرتے ہیں تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سرچ انجن کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیتے ہیں کہ آپ اس کے ذریعے جو بھی سرچنگ یا براﺅزنگ کریں گے ، اس کے بدلے وہ اپنی تمام بارے میں معلومات اس سرچ انجن کو فراہم کریں گے۔گوگل اس معلومات کو اشتہاری کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے تاکہ آمدنی حاصل کرسکے اور کمپنیاں اسے اپنی مصنوعات کی فروخت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔گوگل صارفین کے بارے میں جاننے کے لیے متعدد طریقے استعمال کرتا ہے۔ جب صارفین اپنے اینڈرائیڈ فون کے ذریعے گوگل استعمال کرتے ہیں تو اُن کا نام، فون نمبر، جگہ اور سب کچھ اس کو معلوم ہوجاتا ہے۔اوریہ سرچ انجن انٹرنیٹ پر بھی آپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر صارفین کی دلچسپیوں کا تعین انٹرنیٹ سرچز سے کرتا ہے، یعنی صارفین کیا سرچ کررہے ہیں، کس پر کلک کرہے ہیں اور یہ کام گوگل اپنی سروسز یا کسی بھی ویب سائٹ پر وزٹ کے دوران جاری رکھتا ہے ہے۔صارفین "Web & App Activity" پر خود جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ گوگل ان کے بارے میں کیا کچھ دیکھتا ہے؟ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ گوگل کے خیال میں آپ کے سامنے کس طرح کے اشتہارات کو دکھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ گوگل سیٹنگ میں جاکر آپ کو معلوم ہوگا کہ گوگل کے خیال میں آپ کو کن چیزوں میں دلچسپی ہے،؟جن میں سے کچھ بالکل ٹھیک ہوسکتی ہے اور کچھ بالکل ہی غلط بھی ہو سکتی ہیں۔


سرچ انجن اور سوشل میڈیا سائٹس اپنے صارفین کی جاسوسی کرتے ہیں
2015 میں بھی اس طرح کا اسکینڈل سامنے آیا ،دراصل کیمبرج یونیورسٹی میں سائیکالوجی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر کوگن نے فیس بک پر کیمبرج انالیٹیکا کی ایک خاص ایپلی کیشن جس کا نام 'دس از یور ڈیجیٹل لائف' تھا ،اسے بنیادی طور پر نفیسات میں معاونت کرنے والی ایپلیکیشن کے طور پر بنایا گیا ۔جس کے ذریعے شخصیات کی نفسیات کے متعلق پیش گوئی کی جاتی تھی۔ آج فیس بک پر ایسی ایپلیکیشنز کی بھرمار ہے جو فیس بک لاگ ان کے ذریعے صارفین کی ذاتی پروفائل، تصاویر، اسٹیٹس اور دیگر ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر کے صارفین کا ریکارڈ رکھتی ہیں، خاص ایلگورتھم پر بنائی گئی ایسی زیادہ تر ایپلیکیشنز جعلی ہوتی ہیں اور ان کا اصل ہدف صارفین کی ذاتی معلومات چوری کرکے انہیں سروے اور شماریات کی لیے فروخت کرنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر کوگن کی ایپلیکیشن سے لاگ ان کرنے والے صارفین کی تعداد 5 کروڑ تھی،جبکہ 3 کروڑ سے زائد افراد کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے ان کی سائیکو گرافک پروفائلز بھی بنائی گئیں۔ اب ہم اپنے صارفین کو بتاتے ہیں کہ وہ اور ان کا قیمتی ڈیٹا کس طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہیں اور کس طرح ان کی قیمتی معلومات کو اشتہاری کمپنیوں فروخت کرکے اربوں ڈالرز کمائے جا رہے ہیں؟اب تو یہ کمپنیاں پیسے کے حصول کے چکر میںخود اپنی ہی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے کی مرتکب ہو رہی ہیں اور چاہے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کےلئے ٹیکنالوجی کو جنگی مقاصد کے لئے ہی فروخت کیوں نہ کرنا پڑے؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور دیگرایشیائی ممالک کی آبادی بڑی تعداد میں سرچنگ کے لیے نہ صرف روزانہ گوگل کا استعمال کرتی ہے بلکہ واٹس ایپ اور فیس بک پر بھی بے شمار انفارمیشن بلا سوچے سمجھے شیئر کرتے رہتے ہیں لیکن دن رات انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مصروف رہنے والوں کی اکثریت ان باتوں سے لاعلم ہے کہ ان ایپلی کیشنز کے ذریعے ہماری زندگیوں کو کس طرح ایک خطرناک جال میں جکڑا جا رہا ہے؟سب سے زیادہ خطرے میں "وائس سرچنگ" ( آواز کے ذریعے سرچ) کی سہولت استعمال کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ اس طرح ان کا متعلقہ ڈیٹا ٹیکسٹ کے بجائے آواز کی صورت میں گوگل کے پاس ذخیرہ ہو رہا ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گوگل آپ کے بارے میں کیا کچھ جانتا ہے تو "مائی ایکٹویٹی گوگل" میں جاکر اپنی پروفائل دیکھیے جو آپکی سرچ ہسٹری کی بنیاد پرآٹومیٹڈ ہوتی ہے۔ اس کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ گوگل اسکو خفیہ رکھنے کا ذمہ دار یا مجاز ہر گز نہیں ہے۔سرچ ہسٹری کے علاوہ گوگل کے پاس آپ کا لوکیشن میپ بھی ہوتا ہے، پاکستان میں موبائل سے "جی پلس یا گوگل اکاو¿نٹ سائن ان“ کرنے والے بہت سے افراد اس سے واقف نہیں ہیں اور اپنی لوکیشن آن رکھتے ہیں، اگرچہ یہ صارف کے لیے ایک اہم سہولت ہے جس کے ذریعے نہ صرف کسی بھی حادثے یا ناگہانی آفت کی صورت میں متعلقہ شخص کی آخری موجودگی ٹریک کی جا سکتی ہے، بلکہ کسی انجان جگہ پر راستہ تلاش کرنا بھی آسان ہے، مگر فائدے سے زیادہ اس کے نقصانات سامنے آئے ہیں۔اور سی آئی اے سمیت دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو اس طرح ٹریپ کرکے غائب کر چکی ہیں۔ موجودہ حالات میں ہر صارف کے لیے بہت ضروری ہے کہ نہ صرف وہ اپنی سرچ ہسٹری ساتھ ساتھ ڈیلیٹ کرتا رہے بلکہ بلا ضرورت لوکیشن آن کرنے سے بھی پر ہیز کرے۔ صارف کی ذاتی معلومات کو اسکی لائف چپ پر ذخیرہ کرنے کے منصوبے میں سب سے زیادہ معاونت " فیس بک اور واٹس ایپ" جیسے زیادہ استعمال کیے جانے والے سوشل میڈیا فورمز بھی کر رہے ہیں۔ان کا ہر اپ ڈیٹ، کوئی بھی نیا فیچر جو بظاہر صارف کی تفریح یا سہولت کے رنگ برنگے سلوگنز میں لپٹا ہوتا ہے اندرونِ خانہ اسے مزید جکڑنے اور گھیرنے کا سامان لیے ہوتا ہے، اس کا مشاہدہ آپ فیس بک پر اپنی نیوز فیڈ میں کر سکتے ہیں، اگر آپ سائنس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو فیس بک آپ کو نیوز فیڈ میں زیادہ سے زیادہ سائنسی معلومات والے پیجز یا ا سپانسرڈ پوسٹ دکھائے گا، بظاہر یہ صارف کے لیے سرچنگ کے جھنجھٹ سے نجات اور وقت کی بچت کا ایک طریقہ ہے۔مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ ان فیچرز سے صارف کی سوچ، پسند نہ پسند اور طبعی رجحانات ہی نہیں اسٹیٹس کے ذریعے ذاتی زندگی کی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں، اور یہی تنازع اس وقت فیس بک کی برسوں سے قائم عالمی ساکھ کو لے ڈوبنے کا باعث بنا۔


سمارٹ فون کا بڑھتا استعمال ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کی وباءتیزی سے نوجوان نسل میں پھیل رہی ہے
صارفین یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا پر ہر وقت ایکٹو رہنے والے افراد کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس کے تمام رازوں کی کنجی اب مارک زکر برگ اور گوگل مالکان اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیز کے پاس ہے۔ لہذا دانش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس نشے سے جتنی جلدی ہو سکے اپنی جان چھڑوا لی جائے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ 2017کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک کی عالمی رینکنگ میں 49 ویں نمبر پر ہے جہاں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز استعمال کیے جاتے ہیں، اور صرف گزشتہ چند ماہ میں 39 کروڑ سے زائد کی خطیر رقم صرف اسمارٹ فونز درآمد کرنے پر خرچ کی گئی۔ یہ بات دنیا کے لیے بھی حیران کن ہے کہ غیر مستحکم معیشت اور اربوں ڈالرز قرض کے بوجھ تلے دبی قوم کس طرح اس قدر بڑی رقم صرف موبائل فونز کی خریداری پر خرچ کر رہی ہے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اسمارٹ فونز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کے استعمال کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہے۔یہاں نوجوان کافی حد تک فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور ان جیسی دیگر ایپلی کیشنز کے استعمال کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فیس بک اکاو¿نٹس رکھنے والے صارفین کی تعداد 3 کروڑ تھی جو فروری 2017 تک بڑھ کر 4 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ہوچکی تھی ۔ دوسری جانب ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد 30 لاکھ سے زائد اور اتنے ہی افراد انسٹا گرام استعمال کرتے ہیں، پاکستان میں دیگر سوشل میڈیا سائٹس کی نسبت فیس بک صارفین کی تعداد زیادہ ہے۔


گوگل ملازمین کے اس اِقدام کی دو وجوہات ہیں ،اول وہ اپنی کمپنی کی خیر خواہی چاہتے ہیں کیونکہ یہ پروجیکٹ اس کی ساکھ کو خراب کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری جانب ان کی رائے یہ ہے کہ گوگل کو انسانیت کو تباہی و بربادی سے دو چار کرنے والی بری چیز جنگ کے کاروبار سے وابستہ نہیں ہونا چاہیئے
گوگل کی کلاو¿ڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی چہرے کے بجائے دیگر چیزوں کی شناخت کرنے کے لیے بنایا گیا ، جن میں کاریں، پرندے اور درخت شامل ہیں،یہ ہتھیار وں کی لانچنگ اور ڈرون اڑانے میں استعمال نہیں ہوگی
خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر تے ہوئے اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال رہی ہے ۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ”ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے“ کیونکہ عسکری معاملات میں امریکی حکومت کی معاونت کے جان لیوا نتائج برآمد ہوں گے
پاکستان میں موبائل سے جی پلس یا گوگل اکاو¿نٹ سائن ان کرنے والے بہت سے افراد اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اس کے فائدے سے زیادہ نقصانات ہیںاور سی آئی اے سمیت دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو اس طرح ٹریپ کرکے غائب کر چکی ہیں
تنقید اور ردعمل کے باعث گوگل ما ضی میں بھی پینٹاگون کے زیراہتمام ایک روبوٹس مقابلے سے دستبرداری کر چکا ہے،واضح رہے کہ گوگل کے سابق چیئرمین ایرک شمڈ 2016 میں پینٹاگون کے مشیر بن گئے تھے ،جس کے بعد یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ گوگل اور پینٹا گون میں راہ و رسم کس نوعیت کے ہو سکتے ہیں؟


ای پیپر