Photo Credit Yahoo

بھارتی ظلم و استبداد کے باوجود کشمیری آذادی کیلئے سینہ سپر
20 اپریل 2018 (20:09)

امریکی صحافی ”ایلن بیری“ نیویارک ٹائمزکی نئی دہلی میں بیوروچیف تھیں تو انہوں نے اگست 2016ءکے آخری ایام میں مقبوضہ کشمیرکا دورہ کیا۔ وہ آنکھوں دیکھا حال بتاتی ہیںکہ ”سری نگر میں تعینات بھارتی فوجی افسر بھاویش چوہدری نے مجھے بتایاکہ ہاتھوں میں پتھر اُٹھائے کشمیری بہت نڈر ہیں، یہ بندوقوں یا آنسوگیس شیل سے نہیں ڈرتے، انہیں موت کی کوئی پرواہ نہیں ہے“۔ میں جب سری نگرپہنچی تومجھے شہرکی سڑکوں،گلیوں اور چوراہوں پرعجیب وحشت کا عالم نظرآیا۔ میری منزل سری نگرکا مرکزی ”سری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال“ تھا، وہاں کی صورت حال دل دہلادینے والی تھی۔ آپریشن تھیٹر میں موت کاسا سکوت طاری تھا، ایک بین الاقوامی میڈیکل تنظیم کے تعاون سے نئی دہلی سے آنے والے سرجن ڈاکٹر ایس نانارنجن نے مجھے بتایاکہ یہ سب بہت دلدوز ہے۔ آج کے دن مجھے 13آپریشن آنکھوں کے کرنے ہیں جوکہ پیلٹ گن (اے کے 47رائفل) متاثرین ہیں جن کی تعداد 8 جولائی سے30 اگست تک 570 تک جاپہنچی ہے۔ امراض چشم کے وارڈکے سربراہ ڈاکٹر طارق قریشی نے انہیں مُردہ آنکھیں قراردیا ہے“۔


ایلن بیری کی تفصیلی رپورٹ پڑھتے ہوئے آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں۔ ظلم وبربریت کی ایک نہ ختم ہونے والی رات ہے جس کا گھور اندھیرا کشمیر پر مسلط ہے۔ یہ70سال کی داستان نہیں بلکہ 1930ءسے اب تک ایک صدی کے قریب پہنچنے والی ہے بلکہ اس کا آغاز ایم ایس گول والکرکی سربراہی میں 1925ءکو بننے والی ہندوکٹر بنیادپرست جماعت ”راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ RSS“ کے بنتے ہی ہوگیا تھا، تب سے اب تک ظلمت کا یہ پردہ چاک نہیں ہورہا۔کشمیرکی وادی میں ہر سال بہارآتی ہے لیکن اس میں ان کی آزادی کا پھول نہیں کھِلتا۔ جھرنے اور ندیاں ہر سال آب وتاب سے بہتی ہیں لیکن ان کے شفاف پانیوں میں کشمیریوں کے آنسو بھی شامل ہوتے ہیں۔ پہاڑوں پر ہر سال برف پڑتی ہے اور پگھلتی ہے لیکن کشمیرکے متعلق مذاکرات کی برف نہیں پگھلتی۔ سرسوں کے پھولوں سے کھیت کھلیان پیلے ہوتے ہیں تو ساتھ ہی وادی کے جسم کا پیلاپن بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہاں سے نوجوانوں کا سُرخ خون وادی کو ہر روز خراج پیش کررہا ہے۔

وادی کے درختوں پر ہر سال پھل ضرور لگتے ہیں لیکن کشمیریوں کی محنت کا پھل انہیں نہیں مل رہا۔ کشمیری اپنی سوچ کو بھارتی سرزمین کے باسیوں کی سوچ سے الگ کرچکے ہیں، ان کے دل بھارت کے ساتھ نہیں ہیں۔ سنتوش بھارتیہ اور اشوک وانکھڑے ( بھارتی صحافی اور مودی کے دوست) مقبوضہ کشمیرکے دورے کے بعد مودی کو لکھتے ہیں کہ ”مقبوضہ کشمیر میں ہم نے جوکچھ دیکھا اُس سے ہماری آنکھیں کئی بار بھر آئیں، مودی صاحب بے شک زمین ہمارے پاس ہے کیونکہ ہماری فوج یہاں ہے لیکن یہاں کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو زمین کا ہم کیاکریں گے“۔ اس خط کا مودی نے 2016ءسے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔ آرایس ایس کے کرتادھرتا تو اس سے بھی زیادہ ظلم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ہیں ہی ظلم کے دیوتاکی پیداوار ۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کہتے ہیں کہ ”واجپائی وزیراعظم رہتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوجاتا“۔ بھول ہے بھگوت جی آپ کی، آپ ان علاقوں کا خود دورہ کریں اور وہاں گِن کر بتائیں کہ کتنے بھارتی ترنگے لگے ہوئے ہیں جبکہ ہرگھر پرلگا پاکستانی جھنڈا تمہارا منہ چڑا رہا ہے۔

بھارت کی سول سوسائٹی گروپ کے اہم ارکان منی شنکرآئیر، پریم شنکرجھائ، ونودشرما اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں سرگرم ایئرمارشل کپل کاک سے کشمیری رہنما ملنے سے انکارکردیتے ہیں اوران سے ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ بھارت کی دُوردراز ریاستوں سے لائے گئے سنٹرل ریزوفورس کے جوان یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ” کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں، بھارت دینے کو تیار نہیں، ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان آگ کے طوفان میں کھڑا کردیاگیا ہے۔ ہمیں اپنا نام ظاہرکرنے اور کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں جو”بنکر“ہمیں میسر ہیں وہ براہ راست مظاہرین کی دسترس میں ہیں جنہیں کسی بھی وقت پٹرول پھینک کرآگ لگائی جاسکتی ہے اور شام کو گھر،خیموں،چھاﺅنی میں واپسی پر ہمیں پتھراﺅکرکے شدید زخمی کردیا جاتا ہے“۔ یہ بھارت سے نفرت نہیں تو اورکیا ہے؟چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے 22اگست 2016ءکو رولنگ دی جس کے مطابق ”کشمیر میں جاری بدامنی کی مختلف جہتیں ہیں اس لےے یہ مسئلہ سیاسی طور پرحل کیا جانا چاہےے، ہرچیزعدالتی دائرہ کار میں طے نہیں کی جاسکتی۔

ٹھاکرصاحب پاکستان بھی تو70سال سے یہی کہہ رہا ہے کہ اس کا جنگ کی بجائے سیاسی حل نکالیں لیکن آپ کے ملک کے کرتادھرتا وہ ہاتھی کے دانت ہیں جوکھانے کے اورِِ، دکھانے کے اور ہیں۔ مودی جی کے دو بیان میں یہاں رقم کرتا ہوں۔ پہلا یہ کہ ”مسئلہ کشمیرکے حل کے لےے مذاکرات ضروری ہیں“ دوسرا یہ کہ ”آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہےے“ لیکن مودی جی کا یہ بیانیہ ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اور“ کے مصداق ہے۔ مودی جی کشمیرکا حل بھی گجرات فسادات کی طرح کا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی قسم کے بیانات پنڈت جواہر لال نہرو،گاندھی جی، اندراگاندھی، مرارجی ڈیسائی، نرہیماراﺅ اور واجپائی بھی دے چکے ہیں، عمل صفر ہے۔دراصل بھارت اندرونی خوف میں مبتلا ہے کیونکہ علیحدگی پسندکئی ایک تحریکیں انڈیا کے اندر چل رہی ہیں اور بھارت یہ اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ کشمیرکی آزادی کا مطلب انڈیا کا بٹوارہ ہے جوکئی حصوں میں ہوگا اور پھر بھارتی فوجی کی حالت زار بھی دُنیا سے چھپی ہوئی نہیں۔ جنرل بپن راوت جتنی مرضی بڑھکیں مار لے، فوج کی اندرونی حالت تیج بہادر جیسے بہادر فوجی جان پر کھیل کر بتا ہی دیتے ہیں۔27کھرب سے زائد کا فوجی بجٹ 7لاکھ کے قریب فوج کی مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی کے باوجود نتیجہ صفر ہے تو پھر یہ امریکہ اور افغانستان والی جنگ سے کسی صورت مختلف نظر نہیں آتی، جس کا انجام اب مذاکرات کی میز کے سوا اورکچھ نہیں۔

یہی حال مقبوضہ کشمیر میں ہے کہ اس لڑائی کا انجام بھی مذاکرات کی میزکے سوا اورکچھ نہیں۔ مودی جی اپنی غریب جنتاکا خیال کریں جس کے لےے زندگی عذاب بن کر رہ گئی۔ 70فیصد بھارتیوں کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں۔ 30کروڑ انسان انتہائی گندے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور،35سے 40 فیصد گھروں کی آبادی کو پینے کا پانی میسر نہیں حالانکہ 2500کلومیٹر لمبا دریائے گنگا بھی تمہاری دھرتی پربہہ رہا ہے۔ 85 فیصد دیہات میں سیکنڈری سکول تک نہیں، کھانے کے لےے تین تو درکنارایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، ایسے میں لاکھوں کی تعداد میں فوج مقبوضہ کشمیر میں رکھ کر اُن کے اخراجات اربوں کھربوں روپے برداشت کرنا چہ معنی دارد؟یہی بجٹ اپنی غریب جنتا پر خرچ کرو اورکشمیرکی جان چھوڑو۔ اوم پوری، آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج اور دوسرے یوگی اور پنڈتوں کی باتوں میں نہ آئیں لیکن کیاکیا جائے مودی جی کا اپنا چہرہ بھی توRSS اورABVP اورموجودہ BJP یا بھاجپا کے پیچھے چھپا ہوا ہے یعنی یاتری اورکٹرہند ومذہبی بنیادپرست کا چہرہ، جس نے انڈیا کے سیکولرچہرے پرکالک مل دی۔گوا میں منوہر پاریکر، چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ، مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان، جھاڑکھنڈ میں رگھوویرداس، اُترکھنڈ میں تروندر سنگھ راوت، منی پور میں بہربن سنگھ، مہاراشٹر میں دیوندر فٹرنویس، ہریانہ میں منوہر لال کھڑ، اُترپردیش میں آدتیہ ناتھ یوگی وغیرہ جیسے کٹر ہندو مل کر مودی جی کو کوئی فیصلہ نہیں کرنے دے رہے تاہم موجودہ کشمیرکے حالات کا تقاضا یہی ہے کہ فوری کوئی فیصلہ کرکے کشمیرکو آزاد کیا جائے۔

پروفیسر ابھے دوبھے (معروف تجزیہ نگار اور رُکن پارلیمنٹ) ہندی اور مراٹھی اخبارات کے دو مشہور صحافیوں سنتوش بھارتیہ اور اشوک وانکھڑے کے ساتھ 4 روزہ دورہ کشمیر میں اگر اپنے آنسو بار بار نہ روک سکے تو ایک عام دردِدل رکھنے والا انسان سوچ سکتا ہے کہ وہاں کیا حالت ہوگی۔ جب گھر گھر سے جنازہ اُٹھتا ہوگا، جعلی آپریشن اور مقابلے کب تک ہوتے رہیں گے، ابھی چند روز پہلے یکم اپریل کو علی الصبح بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں کے دوعلاقوں دراگد اورکچدوراکو محاصرے میں لے کرگھرگھر تلاشی کی مہم شروع کردی جس کے نتیجے میں شوپیاں کے دو علاقوں میں 15 اور اننت ناگ میں 2کشمیری شہید جبکہ 109 سے زائدزخمی ہوگئے۔ انسانی حقوق کی یہ شدید پامالی ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی نظروں میں نہیں آئی۔”ملامتی کونسل“ نے بھی اس پر ملامت نہ کی۔ ایک انتہائی منظم طریقے سے کشمیرکی نوجوان فصل کوکاٹا جارہا ہے لیکن بھارتی حکام بالااس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ جوان لہوکشمیرکی دھرتی کی انتہائی جاندارکھاد ہے جو ایسی فصل کو اُگائے گی جس کا کاٹنا بھارتی فوج کے بس کی بات نہ ہوگی، ہم کشمیرکی آزادی پر یقین کامل رکھتے ہیں۔

imtiazkazim110@gmail.com


ای پیپر