Photo Credit Yahoo

رواں سال رمضان میں ریلیف پیکج کی سبسڈی بارے اہم خبر
20 اپریل 2018 (19:33) 2018-04-20

اسلام آباد :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کو یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن حکام نے آگاہ کیا ہے حکومت رواں سال رمضان ریلیف پیکج میں 1.7 ارب روپے کی سبسڈی دے گی، پچاس ہزار میٹرک ٹن آٹے پر 200 ملین کی سبسڈی دی جائے گی‘ 40ہزار میٹرک ٹن چینی پر 200ملین اور تیس ہزار میٹرک ٹن گھی پر 450ملین کی سبسڈی دی جائے گی۔نیب نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ کے پیسےمیں خرد برد اور گیس کاٹنے کی وجہ سے مل کی بندش کے معاملے کی انکوائری پرپیشرفت رپورٹ کمیٹی کو پیش کر دی،چیئرمین کمیٹی نے مئی کے وسط تک انکوائری کو مکمل کر نے کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے چترال میں فی کلو چینی پر تین روپے پریمیئم چارج کو ختم کر نے کی بھی سفارش کر دی ۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کا اجلاس چیئرمین اسد عمر کی صدارت میں ہوا جس میں یو ٹیلٹی سٹورز کار پوریشن حکام نے رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال حکومت نے تقریباً 1.5 بلین کی رمضان پیکج پر سبسڈی دی تھی جبکہ اس سال 1733 ملین کی سبسڈی دی جائے گی۔

19اشیاءپر پانچ سے پندرہ فیصد سبسڈی کے لئے کام کررہے ہیں۔ ہماری قیمتیں تین سے پانچ فیصد مارکیٹ سے سستی ہوتی ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے مطابق رمضان ریلیف پیکج میں پچاس ہزار میٹرک ٹن آٹے پر 200 ملین کی سبسڈی دی جائے گی‘ 40ہزار میٹرک ٹن چینی پر 200ملین‘ تیس ہزار میٹرک ٹن گھی پر 450ملین‘ بیس ہزار میٹرک ٹن خوردنی تیل پر 200ملین‘ 25 سو میٹرک ٹن دال چنا پر پچاس ملین‘ 2500میٹرک ٹن باسمتی چاول پر 37ملین اور 700میٹرک ٹن سیلا چاول پر 10ملین کی سبسڈی دی جائے گی۔ چیئرمین کمیٹی اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے صارفین کی سبسڈی کاٹ کر دو دفعہ شوگر ملز مالکان کو سبسڈی دی ہے۔یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت ٹوٹل 13262ملازمین یوٹیلٹی سٹورز پر کام کررہے ہیں جن میں سے 5795 ریگولر ملازمین ہیں جبکہ 3875کنٹریکٹ پر ہیں ‘ 3592ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں۔

اس موقع پر رکن کمیٹی افتخار الدین نے چترال میں چینی پر پریمیئم چارج کا معاملہ اٹھایا جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ چترال میں فی کلو چینی پر تین روپے پریمیئم چارج کو ختم کیا جائے۔ اسد عمر نے کہا کہ سارے وسائل اور فیصلے ایلیٹ کلاس کے لئے ہوتے ہیں،سرکار کے پاس 4ہزار 8سو ارب سالانہ ریوینیو ہے۔کمیٹی نے یوٹیلٹی حکام کو ہدایت کی کہ ٹی سی پی کا گردشی قرضہ بھی کلیئر کیا جائے جبکہ کمیٹی نے یو ٹیلیٹی سٹور ز کارپوریشن کے ڈیلی ویجز ملازمین اور گریجوئٹی کے معاملے پر ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دیدی۔ نیب کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز کے پروویڈنٹ فنڈ میں ملازمین کے پیسے کی خرد برد کے مسئلے اور گیس کاٹنے کی وجہ سے مل کی بندش کے معاملے کی انکوائری پرپیشرفت رپورٹ پیش کر دی۔ چیئرمین کمیٹی نے مئی کے وسط تک انکوائری کو مکمل کر نے کی ہدایت کر دی ۔


ای پیپر