Photo Credit Yahoo

وقت آگیا ہے کہ عدلیہ کو ڈیلیور کرنا ہوگا:چیف جسٹس
20 اپریل 2018 (17:00)

چارسدہ : چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ عدلیہ کو ڈیلیور کرنا ہوگا‘ وزیراعلیٰ کے پی کے سے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا‘ قومیں علم‘ لیڈر شپ‘ عدالتی نظام اور اداروں کی بدولت ترقی کرتی ہیں‘ وقت پر انصاف نہیں ملا تو ہم سب ذمہ دار ہیں‘ بار اور بینچ مقدمے کا جلد فیصلہ کرنے کے لئے تجاویز دیں تاکہ انصاف فراہم کرکے سرخرو ہوں۔ جمعہ کو چیف جسٹس نے جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چارسدہ جوڈیشل کمپلیکس دنیا کا اعلیٰ ترین کمپلیکس ہے ۔

عمارت ایک علامت ہوتی ہے ادارے شخصیات سے بنتے ہیں‘ قومیں علم‘ لیڈر شپ‘ عدالتی ن ظام اور اداروں کی بدولت ترقی کرتی ہیں۔ ایڈہاک ازم پر چلنے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں۔ وقت آگیا ہے کہ عدلیہ کو ڈیلیور کرنا ہوگ اانصاف بر وقت کیوں نہیں ملتا اس کا میں تنہا جواب نہیں دے سکتا۔ لوگوں کو جب جلد انصاف نہیں ملتا تو انصاف سے تاخیر‘ انصاف سے انکار ہے ۔ بار اور بینچ سول مقدمے کا جلد فیصلہ کرنے کے لئے تجاویز دیں تاکہ انصاف مہیا کرکے سرخرو ہوں۔ ایک ایسا مقدمہ جس کا فیصلہ چار سے پانچ ماہ میں ہونا چاہئے اس میں تاخیر نظام کا قصور ہے ۔ انہوں نے کہا وقت پر انصاف کیوں نہیں ملا ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پی کے سے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔


ای پیپر