حکومتی چالیں اور زخم سہلاتی اپوزیشن
19 ستمبر 2020 (10:29) 2020-09-19

بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی حکمتِ عملی کامیاب رہی کیونکہ وہ آٹھ قوانین منظورکرانے میں کامیاب ہوگئی ہے مگر اپوزیشن اکثریت کے باوجودناکامی سے دوچارہوئی ہے جس پر شہباز شریف نے سپیکرپر پارلیمان کی کاروائی پائوں تلے روندنے اور سرخ لائن پار کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ بلاول بھٹو نے عدمِ اعتماد کا عندیہ دیا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اینٹی منی لانڈرنگ بل پراپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ دینے کا بہانہ بناکر حزبِ اختلاف واک آئوٹ نہ کرتی تو حکومت کو کئی قوانین منظورکرانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا لیکن اپوزیشن کی عدم موجودگی سے حکومت کو مرضی کے مطابق قوانین منظورکرانے میں آسانی ہو گئی رہی سہی کسر کئی اپوزیشن اراکین نے اجلاس سے غیر حاضر ہو کر نکال دی جنھیں سیاسی نبض شناس اپوزیشن میں پھوٹ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ہنگامہ آرائی یا نعرہ بازی کی روشنی میں یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اجلاس کے دوران حکومت کے خلاف نعرے لگانے ،شورمچانے یا ایجنڈے کی کاپیاں پھانے کو ہی اپوزیشن نے ذمہ داری تصور کر لیا ہے اگر تمام اپوزیشن اراکین کی ایوان میں حاضری یقینی بنائی جاتی اور مکمل تیاری کے ساتھ ایوان میں آیا جاتا تو حالات کافی مختلف ہوتے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے حکومتی حکمتِ عملی کی کامیابی اور اپوزیشن میں پھوٹ کا تاثر گہراہوا ہے اب حکومتی چال کی کامیابی پرزخم سہلاتی اپوزیشن لاکھ تنقید کرے حقیقت میںوہ حکومتی سہولت کارہے ۔

اپوزیشن کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اجلاس سے قبل حکومت سے گفت وشنید میں کچھ لو کچھ دو کوپیشِ نظررکھا گیا واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن مذاکرات احتساب کی کاروائیوں میں نرمی کے نُکتے پر ہوئے جس پر حکومت رضا مند نہ ہوئی اور بزورطاقت قوانین منظورکرانے کافیصلہ کیااِس بات سے اپوزیشن رہنما لاعلم نہیں تھے بلکہ بخوبی پتہ تھا کہ وہ لاکھ انتقامی کاروائی قراردیں حکومت اپنی منشا کے مطابق احتساب سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں پھر بھی تعاون کی راہ تلاش کرنے میں وقت ضائع کرنا کون دانشمندانہ فیصلہ کہہ سکتا ہے بلکہ بات چیت کا اُلٹا اثرہواحکومت کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اپوزیشن کو ملک وقوم سے کوئی سروکار نہیں بلکہ لوٹی دولت بچانے کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر کاربند ہے اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بات چیت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں متفقہ لائحہ عمل اپناتیں تو آج سر پیٹنے کی بجائے بہتر پوزیشن میں ہوتیں ۔

پارلیمنٹ سے حکومت نے آٹھ اہم قوانین منظور کرا لیے ہیں جن میں سے تین ایف اے ٹی ایف سے متعلق ہیں جس پر عمران خان ،شاہ محمود قریشی اور فروغ نسیم وزیر قانون اطمنان کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ سیاسی صورتحال اطمنان بخش نہ ہونے کے باوجود حالیہ قانون سازی سے حکومت یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے کہ 

بکھری اپوزیشن سے اُسے کوئی خطرہ نہیں اور یہ کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کسی قسم کی دوری نہیں بلکہ سب ایک پیج پر ہیں سچی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل حکومت نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اکتوبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں ہے جس کے لیے تیس ستمبر کی ڈیڈ لائن سے قبل قانون سازی کرنا اور اِدارے کی شرائط پوری کر کے قوانین کی دستاویزات بھیجنا لازم ہے وگرنہ بلیک لسٹ ہونے کا خدشہ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے لیکن اپوزیشن نے انڈرہینڈ ڈیل کے آپشن پر توجہ دے کر رسوائی کا سامان اُٹھایا اب جب وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ اپوزیشن نے ملکی مفاد میں قوانین منظورکرانے میں اعانت کی بجائے نیب قانون کی اڑتیس میں سے چونتیس شقوں میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے مگر ایسا کرنا احتساب کے طریقہ کارکو دفن کرنے کے مترادف ہے لیکن میں کرپشن کے سواہر قسم کی رعایت دینے کو تیار ہوں تو اپوزیشن کے پاس تردید کرنے کے لیے کچھ نہیں جو اِس امر کا اغماض ہے کہ حکومت اپنے پتے ہوشیاری سے کھیل رہی ہے لیکن اپوزیشن تمام تر خلوص کے باوجود دشنام طرازی کا ہدف ہے۔

اِس میں کوئی شائبہ نہیں کہ ہر اپوزیشن جماعت کا اپنا الگ ایجنڈا ہے بھلا اِس طرح کبھی منزل مل سکتی ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن تحریک کے لیے جتنے بے چین ہیں بڑی جماعتوں کی قیادت کے معمولات سے ایسا تاثر ناپید ہے ایک اِن ہائوس تبدیلی کی بات کرتی ہے تو دوسری نئے انتخابات کا راگ آلاپتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ کرنے کو تیارنہیں بھلا زبانی کلامی باتیں کرنے سے تبدیلی آتی ہے ؟تحریک کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن دونوں جماعتیں نہ تو عوامی طاقت بروئے کار لانے کو تیار ہیں اور نہ ہی کوئی تحریک چلانے کے لیے قیادت کرنے پر آمادہ ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت اطمینان سے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔

حکومتی ایجنڈے کی کامیابی میں اپوزیشن کا بڑا ہاتھ ہے ہر بارملنے والی ناکامی پر زخم سہلانے کے بعد بھی طرزِ عمل پر نظر ثانی کو تیار نہیںاور اگر سیاسی منظر نامے پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ حکومت تو سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہے مگر حکومتی چیرہ دستیوں کو کیسے ناکام بنانا اور خود عوام کی نظروں میں کیسے سرخروہونا ہے ؟ کہیں سنجیدگی نظر نہیں آتی حکومت سے نجات کی بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن نجات کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے ؟آج تک اتفاق نہیں کرسکیں ۔

بات یہ نہیں کہ تمام حکومتی اقدامات غلط ہیں یاصرف اپوزیشن کی حکمتِ عملی ہی ملکی مفاد میںہے بلکہ دونوں طرف کچھ خوبیاں اور خامیاں ہیں لیکن فرائض کی ادائیگی سے کوتاہی کوتعریفی پیراہن نہیں پہنائے جا سکتے اِداروں پر تنقید اور تضحیک کی کوئی حمایت نہیں کرتا مگربدعنوانی کا صرف الزام لگانے اور ثابت کیے بغیر گرفتاری کو سراہنے کی توقع کسی مہذب معاشرے سے ممکن نہیں اپوزیشن کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ سے غیر حاضر نہ ہوتے اور کوئی متفقہ لائحہ عمل اپناکر ایوان کارخ کیا جاتا تو آج اپوزیشن کو بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینے کے الزام کا سامنا نہ ہوتا مگر محاذآرائی میں مصروف اپوزیشن رہنمائوں کوکون سمجھائے کیونکہ وہ بھی حکومت کی طرح بغیر سوچے سمجھے محض بیان بازی پر صاد کیے ہوئے ہے۔

حالات یہ ہیں کہ رواں برس ملک پر واجب الادا قرضوں میںچارہزارارب کا اضافہ ہو گیا ہے پھر بھی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں سرمائے کی آمد روکی جائے کاش اانھیں پتہ چل جائے یورپ میں لکسمبرگ نام کا ایک چھوٹا سا خودمختار ملک ہے جس کا کل رقبہ 2586کلومیٹر جبکہ آبادی چھ لاکھ چھبیس ہزار ہے ملک میں کوئی بین الاقوامی ہوئی اڈا نہیں محض ایک چھوٹا سا ائرپورٹ ہے جس پر جہازکواُڑتے اور اُترتے ہوئے ہمسایہ ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنا پڑتی ہے لیکن اِس ملک میں آنے والے سرمائے کو پوچھ تاچھ سے استثنٰی ہے  یہ ملک فی کس آمدنی کے لحاظ سے امیرترین ممالک کی صف میں شامل ہے یہاں فی کس آمدن 88312 ہے کیا اپوزیشن میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وزیراعظم کی حقائق کی طرف توجہ مبذول کرا سکے حکومتی پالیسیاں ملک وقوم کے مفاد میں نہیں اگر حکومت کچھ دیکھنے سے قاصر ہے تو اپوزیشن کچھ بتانے کی ہمت کیوں نہیں کرتی؟کیا سبھی خودکشی کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں؟


ای پیپر