جس دیس میں ماؤں بہنوں کو اغیار اٹھا کر لے جائیں
19 ستمبر 2020 (10:28) 2020-09-19

جس دیس میں ماؤں بہنوں کو 

اغیار اٹھا کر لے جائیں

جس دیس میں بنتِ حواکی چادر بھی 

داغ سے میلی ہو

اس دیس کے ہر اک لیڈر کو 

سولی پہ چڑھانا واجب ہے

لگتا ہے دور حاضر کی اس سے اچھی عکاسی فیض احمد فیض کے سوا کسی سے بھی نہ ہوپائے گی؟

یہ بھی ملاحظہ ہو

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں 

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے 

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے 

نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

 موٹر وے واقعے پر کیا لکھوں سب نے بہت لکھا بہت تجزئیے کر لیے مگر ہوگا کیا اور میں کیا لکھوں!  پہلے بچوں کے سامنے والدین کو گولی مار کر چھلنی کر دیا جاتا ہے اور اب بچوں کے سامنے ماں کی عصمت دری! 

وجہ کوئی بھی ہوس یا پھر کوئی اندرونی سازش لیکن ننھے ذہنوں پر جو اس کے بھیانک اثرات مرتب ہوئے وہ تو کبھی نہیں مٹ سکیں گے؟

سماجی کارکن میاں شاہد محمود نے گہرا تجزیہ کیا کہ ہاتھ کانپ جاتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب ایک شریف آدمی سوچتا ہے اس عورت کے ساتھ کیا بیتی ہو گی جو گجرپورہ کے قریب موٹر وے پر پٹرول ختم ہونے پر اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی مدد کا انتظار کر رہی تھی کیا قیامت کی گھڑی ہو گی جب اچانک مدد تو نہ آئے کچھ لوگ گاڑی کا شیشہ توڑ کے اس کو بچوں سمیت باہر نکال رہے ہوں گے کس کس کو نہیں پکارا ہو گا اس نے کیا کیا فریاد نہیں کی ہوگی اس نے۔

 عرش بھی کانپ اٹھا ہو گا نہیں تو کوئی جوں نہیں رینگی ہو گی ان ظالموں پر کان بند ہوگئے ظالموں کے کیوں ان کو پتہ ہے یہاں ظلم کرنے پر پوچھنے والا کوئی نہیں یہاں ظلم کو سزا دینے والا کوئی نہیں یہاں قانون ظالم کی حفاظت خود کرتا ہے ظالم کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے چاہے جرم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں۔  دنیا کے دیگر ممالک میں صرف اندھا ہوتا ہوگا، ہمارے ہاں تو یہ قانون  بہرہ، گونگا، ٹُنڈا اور لنگڑا بھی ہے۔

 چند ہٹ دھرم لوگ حکمران بنتے ہیں جو صرف اپنے مفادات کو تحفظ کرتے ہیں عوام کو تو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے اس کے ایک ذمہ دار افسر سی سی پی او کے الفاظ یہ ہیں یہ اکیلی کیوں نکلی پیٹرول چیک کیوں

 نہیں کیا یہ راستہ اختیار کیوں کیا۔۔۔۔؟

خاتون اپنے بچوں کو لے کر پاکستان آئی تھی کہ بچے یہیں پڑھیں اور یہیں کے اسلامی کلچر کے مطابق پلیں بڑھیں گے تاکہ اسلامی طریقہ کار مطابق زندگی گزار سکیں۔

 ایک ایجنسی کے دوست کا کہنا ہے کہ ہم لوگ جس وقت جائے وقوعہ پر پہنچے خاتون پولیس والوں کے آگے گڑگڑا رہی تھی کہ مجھے گولی مار دو۔میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ وہ ان لوگوں کو خدا کے واسطے دے رہی تھی کہ مجھے گولی مار دو۔ انہیں ان کے بچوں کا واسطہ دے رہی تھی کہ مجھے مار دو۔ اس کے اس مطالبے پر عمل نہیں ہوا تو اس نے دوسرا مطالبہ سامنے رکھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ یہاں موجود سب لوگ حلف دیں کہ اس واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے۔ اس کے خاندان اور کسی بھی اور شخص کو اس وقوعے کے بارے میں پتہ نہ چلے۔وہ مقدمہ درج نہیں کرانا چاہتی۔ یہاں موجود ایک ایس پی صاحب نے خاتون کو یقین دہانی کرائی کہ یہ وقوعہ بالکل بھی ہائی لائٹ نہیں ہو گا۔ دوست کا کہنا ہے کہ خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی۔ عموما فارنزک سائنس ایجنسی والے ایسے مواقع پر وکٹم کی تصاویر لیتے ہیں۔ لیکن خاتون کی حالت ایسی افسوسناک اور دردناک تھی کہ کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ اسے اس کام کیلئے کہہ سکے یا تصاویر اتار سکے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر ان کی منتیں کر رہی تھی کہ مجھے قتل کر دو۔ خاتون سمجھی مسلمان ملک ہے یہاں زیادہ تحفظ ہے اس لیے وہ نکل پڑی اسے کیا پتہ تھا یہاں درندوں کی حکمرانی ہے یہاں انصاف ملتا نہیں بکتا ہے سزا صرف غریبوں کو ملتی ہے۔ خانہ پری کرنے کے لیے کسی بھی کو پکڑ کر کہہ دیا جائیگا کہ یہ ریپسٹ ہیں، اس سے کام نہیں چلے گا جب تک اصلی مجرموں کو پکڑ کر عوام کے سامنے نہ لایا جائے اور سخت ترین سزا دی جائے۔ لیکن کیا اس سے اس خاتون کا درد کم ہو جائے گا،اس کے بچوں پر جو بیتی کیا وہ بھول جائیں گے کیا ہمارا معاشرہ ان کو یہ سانحہ بھولنے دے گا۔

اصل سوال تو یہ بنتا ہے ایسا واقعہ کیوں ہوا، ہر غلط کام کی حوصلہ افزائی کیوں کی جاتی ہے سب ادارے اپنا کام کیوں نہیں کرتے وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے واقعات کے ملزمان کو سزا نہیں دی گئی کیوں اسمبلیوں میں بھیجے جانے والے ارکان نے ریپسٹ کے خلاف سزائے موت کے قانون کی مخالفت کی کیونکہ ان کے دلوں میں چور تھا کیوں یہ لوگ ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ کس بات کے نمائندے ہیں جو عوام کی فلاح کے کام کرنا پسند نہیں کرتے۔

اب عوام کو سوچنا ہے کہ جب تک اچھے لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جائے گا اس وقت تک حوا کی بیٹیاں یوں ہی لٹتی رہیں گی۔یہ تو کہہ دیا جائے گا یہ گھر سے کیوں نکلی ؟ یہ کوئی نہیں کہے گا ہم ڈیوٹی پوری نہیں کرسکے ہم نے عوام کو ڈاکوئوں جنسی درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔کوئی مائی کا لال اپنی غلطی تسلیم نہیں کرے گا؟ 

نامورصحافی اور معلم عاطف بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان مملکتِ سانحات ہے، اور یہاں ایک سانحے کی عمر دو تین دن سے لے کر ہفتے عشرے تک ہوتی ہے۔ پھر کوئی نیا سانحہ رونما ہو جاتا ہے یا طاقتور حلقے اپنی جان چھڑانے کے لیے کوئی سانحہ نما صورتحال پیدا کردیتے ہیں، یوں پچھلا سانحہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور نیا سانحہ موضوعِ بحث بن جاتا ہے۔ آپ غور کیجیے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے دوران ہی کتنے سانحات قومی منظرنامے پر ابھرے اور پھر چند روز میں غائب غُلّہ ہوگئے، لیکن منطقی انجام تک ان میں سے شاید کوئی ایک بھی نہیں پہنچا۔

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

 اہلِ دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے


ای پیپر