’’ لاہور شہر باغوں سے لیکر بھکاریوں اور چنگچیوں تک‘‘
19 ستمبر 2020 (10:27) 2020-09-19

  لاہور شہر جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا آج اگر اُسے بھکاریوں، موٹر سائیکلوں اور چنگ چیوں کا شہر کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔اس شہر کے ہر چھوٹے ، بڑے چوک پر آپ کو درجنوں بھکاری ادھر اُدھر مانگتے نظر آئینگے جن میں بہت بوڑھے مرد عورتیں ، جوان مرد و عورتیں اورچھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہونگے۔کئی چوکوں پر تو نوجوان عورتیں بہت ہی معصوم بچوں کو بازوئو ں میں اُٹھائے بھیک مانگتی نظر آئینگی۔شاید آپ کو معلوم ہوگا کہ ایسے بھکاریوں کا چوکوں پر بھیک مانگنا قانوناً جرم ہے۔ محکمہ پولیس اس قانون کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ کبھی کبھار محکمہ پولیس ان بھکاریوں کے خلاف ایکشن بھی لیتا ہے جس کا علم کسی اخبار میں چھپی چھوٹی سی خبر سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے پولیس والے اپنی اس کارکردگی کی رپورٹ اپنے محکمہ کے سینئر افسران کو بھی بھیجتے ہونگے۔ لیکن اس ملک میں کونسا قانون اور کیا اُس کا نفاذ۔ ذہن میں کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جن کے دل میں غریبوں کا درد کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہے (بقول اُنکے) اور اُنھوں نے ان کے لیے لنگر خانے اور پناہ گاہیں بھی قائم کر دی ہیں۔ جن کے متعلق مختلف سرکاری محکمے اخباروں میں خبریں بھی شائع کراتے رہتے ہیں کہ فلاں لنگر خانے میں کتنے غریبوں نے کھانا تناول فرمایا اور فلاں فلاں پناہ گاہوں میں کتنے غرباٗ اورمسافروں نے راتیں گزاریں اور کھانے کھائے( بقول ایک سینئر آفیسر کے ، ان لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کی حقیقت تو تب عوام کو معلوم ہو گی جب ان کے آڈٹ ہونگے)۔ لیکن پھر لاہور شہر کے چوکوں میں غرباء اور بھکاریوں کا انبوہ کیونکر نظر آتا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے بلکہ اب تو واضح لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے اور کسی چیز کی پیداوار میں اضافہ کیا ہو یا نہ کیا ہو 

غریبوں کی تعداد میں کئی گُنا اضافہ ضرور کر دیا ہے۔ لیکن آپ کے ذہن میں یہ واضح رہے کہ غریبوں کی تعداد میں اضافے سے حکومتی محصولات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی۔ دیکھیں نہ اگر کوئی بھکاری سارا دن بھیک مانگے اور شام کو اپنی بیوی و بال بچوں کے لیے سودا سلف یا میڈیسن خریدے تو بھی وہ اپنی اس کمائی سے خانصاحب کی حکومت کو جی ایس ٹی کی شکل میں ٹیکس ضرور دیگا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مجبور و بے بس ا ور لاچار عورت اپنی عزت کا سودا کر کے چند روپے حاصل کرتی ہے تو وہ بھی جب اپنے اور اپنے خاندان کے لیے کوئی چیز بھی خریدے گی تو حکومت وقت کو جی ایس ٹی (GST) کی شکل میں حکومتی حصہ دیگی۔ یہ لوگ بجلی کا یاسوئی گیس کا بل بھی دیں گے تو اس میں جی ایس ٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں حکومت کو ٹیکس دیں گے۔ نا اہل ، نکمی اور بے حس حکومتیں جہاں بھی اور جس ملک میں بھی ہوتی ہیں وہ بالواسطہ ٹیکس (Indirect taxing)کے ذریعے دولت اکٹھی کرتی ہیں۔میری ابھی محمد اقبال چیف کمشنر انکم ٹیکس ( ریٹائرڈ ) سے بات ہو رہی تھی، وہ بتا رہے تھے کہ ہمارے ملک میں ایف بی آر (FBR ) اپنا پچھتر فیصد (75%) ریونیو ٹارگٹ بالواسطہ یعنی Indirect taxation کے ذریعے اکٹھا کرتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں اس کا اُلٹ ہے ۔ یعنی وہ ممالک اپنے ریونیو ٹارگٹ بلاواسطہ یعنی Direct taxation سے حاصل کرتے ہیں ۔اب موجودہ لاہور کی دوسری پہچان یعنی لاہور شہر کے موٹر سائیکلوں اور چنگچیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ لاہور شہر میں آپ صبح یا شام کے وقت کسی بھی چوک کے اشارہ پر کھڑے ہو کر مشاہدہ کریں کہ اشارہ بند ہونے پر کتنے موٹر سائیکل کھڑے ہوتے ہیں۔ میں پُر یقین ہوں کہ آپ ا شارہ پر رُکے موٹر سائیکلز کی تعداد نہیں بتا سکیں گے۔ وہیں ایک بڑی تعداد رکشوں اور چنگچیوں کی بھی ہوتی ہے۔اب آپ ذرا غور کریں، یہ سب موٹر سائیکلز، رکشے اور چنگچیاں اپنی اپنی جگہ پر پٹرول جلا رہے ہوتے ہیں اور یہ وہ پٹرول ہے جو ہم اپنا زرمبادلہ دے کر اور کبھی عرب ممالک کا ترلہ منت کرکے ادھار لیتے ہیں۔ساتھ ہی ان تمام سے اتنی بڑی مقدار میں زہریلا دھواں لاہور شہر کے ماحول کو انتہائی آلودہ کر رہا ہوتا ہے۔ شاید آپ کو معلوم ہو گا کہ اپنا لاہور شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر ہے اور کبھی کبھی پہلی پوزیشن پر بھی آجاتا ہے۔ اگر آپ مستقلاً لاہور شہر میں رہتے ہیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ اس شہر کے باسی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میںمبتلا رہتے ہیں۔دنیا کے تمام بڑے شہروں میں ریاست /حکومت اپنے شہریوں کو سستی ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مہیا کرتی ہے۔دنیا کے ہر بڑے شہر میں سستی اور آرام دہ میٹرو ز اور بسیں ریاست کی طرف سے مہیا کی جا رہی ہیں۔آپ اپنے پڑوسی ملک ہندوستان کو دیکھ لیں۔ لیکن ہمارے شہر لاہور میں جو دنیا کے درجنوں ممالک سے بڑا ہے اورنج میٹرو جس پر 251.6ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں آج تک نہیں چل سکی ۔ کیا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس سے ملک کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ کیا اس ملک میں کوئی بھی نہیں ہے جو دیکھ سکے کہ اس غریب قوم کے نقصان کا کون ذمہ دار ہے۔اس شہر میں ایک میٹرو اس وقت بھی چل رہی ہے جس کا کرایہ صرف تیس روپے ہے اور وہ ہر وقت مسافروں سے بھری رہتی ہے جس کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے ۔اسی طرح کا ایک اور بڑا پراجیکٹ سیف سٹییزاتھارٹی کا تھا جس پر سترہ (17 ( ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔جس کا کام لاہور جیسے بڑے شہر میں ہونے والے جرائم پر اور جرائم پیشہ لوگوں پر نظر رکھنا تھا اور ساتھ ہی اس بڑے شہر کی ٹریفک کو بھی مانیٹر کرنا تھا ،اب تقریباً آخری سانسیں لے رہا ہے۔ کیا یہ اس غریب قوم کی دولت کا ضیاع نہیں ہے۔اللہ اس غریب قوم کے حکمرانوں کو عقل و بصیرت دے جس کی توقع بہت کم ہے۔ 


ای پیپر