اڈیالہ روڈ کی تعمیر کب مکمل ہو گی…؟
19 ستمبر 2020 (10:26) 2020-09-19

پچھلے کئی ماہ سے پنڈی سے گاؤں جانے کے لیے اڈیالہ روڈکی بجائے چکری روڈ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے جو   اڈیالہ روڈ کے مقابلے میں کم و بیش آٹھ کلومیٹر لمبا ہے۔ لیکن مجبوری ہے کہ اڈیالہ روڈ ، اڈیالہ جیل سے تقریباً ایک آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے گورکھپور سے آگے از سر نو تعمیر کے لیے پچھلے ایک آدھ سال سے بُری طرح اُدھڑی اور اُکھڑی ہوئی ہے۔ اس پر چھوٹی گاڑی میںسفر کرتے ہوئے گاڑی ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار  نہیں ہوتی ہے بلکہ گاڑی میں سوار افراد کی ہڈیا ں بھی چٹخنے لگتی ہیں۔ اڈیالہ روڈ کا یہ حصہ قومی اسمبلی کے حلقہ NA-63 کی حدود میں آتا ہے جہاں سے جولائی کے 2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے سابقہ اہم راہنما اور سابق وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں ان کے دیرینہ حریف ، تحریک انصاف کے اُمیدوار اور موجودہ وفاقی وزیر غلام سرور خان کو کامیابی حاصل ہوئی۔ چوہدری نثار علی خان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ 1985ء کے غیر جماعتی عام انتخابات سے لے کر مئی 2013ء کے عام انتخابات تک لگاتار آٹھ بار اپنے مخالف اُمیدواروں کے مقابلے میں بڑے مارجن سے ووٹ لے کر قومی اسمبلی کا انتخاب جیتتے رہے ہیں۔ ان کی شومئی قسمت یا ہر کمالِ راہ زوال کا قول ان پر بھی صادق آنا تھا کہ اپنی جماعت کے قائد  اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی کابینہ کا رُکن ہوتے ہوئے اُن کے میاں محمد نواز شریف سے جو اختلافات اُبھرنا شروع ہوئے وہ جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے قبل اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے انہیں اپنا اُمیدوار بنانے سے گریز کیا بلکہ اُن کے مقابلے میں اپنے اُمیدوار بھی کھڑے کیے ۔ اس کے ساتھ اُن کو شکست سے دوچار کرنے کو بھی اپنا مقصدِ اولین بنایا۔ چوہدری نثار علی خان پوری انتخابی مہم کے دوران اپنی جیت کے حوالے سے پُر اعتماد اور پُر امید رہے۔ عام تاثر یہی تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے حلقہ NA-59 سے کسی نہ کسی طرح کامیاب ہو جائیں گے۔ انتخابی نتائج سامنے آئے تو چوہدری نثار علی خان NA-59 اور NA-63دونوں حلقوں سے تحریکِ انصاف کے اُمیدوار اور موجودہ وفاقی 

وزیرِ غلام سرور خان کے مقابلے شکست سے دوچار ہوئے۔ البتہ چونترہ ، روات  اور کلر سیداں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے NA-59کی ذیل میں آنے والے صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP-10سے کامیاب رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے بطور ممبر صوبائی اسمبلی ابھی تک حلف نہیں اُٹھایا۔ اُن کا استدلال ہے کہ اگر وہ 51145ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ NA-59سے اُن کو صرف 66369ووٹ ملے ۔ جبکہ اُن کے مدِ مقابل تحریکِ انصاف کے سرور خان نے 66569ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ مسلم لیگ ن کے اُمید وار قمرالاسلام راجا صرف 21754ووٹ لے سکے۔ چوہدری نثار علی خان کے خیال میں NA-59سے اُن کے حاصل کردہ ووٹوں کے اعداد و شمار درُست نہیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دھاندلی کرکے ہرایا گیا۔ 

چوہدری نثار علی خان کا اپنی شکست کے بارے میں مؤقف کس حد تک درست یا غیر حقیقت پسندانہ ہے اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی تاہم یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ قومی اسمبلی کا حلقہ NA-59 یا NA-63 وہاں کے لوگوں کی اکثریت چوہدری نثار علی خان کی طرف سے اپنی تقریباً چار عشروں پر مشتمل سیاسی زندگی کے دوران مکمل کروائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی بناء پر انہیں بھولنے کے لیے تیار نہیں ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں لوگ ترقیاتی منصوبوں کے شروع کرنے  اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ اُوپر اڈیالہ روڈ کی از سر نو کی تعمیر کا ذکر آیا ہے۔ پنڈی کچہری چوک سے جنوب کو ہمایوں روڈ نکلتی ہے جو آگے 502ورکشاپ چوک سے اڈیالہ روڈ بن جاتی ہے۔ اس کا خواجہ کارپوریشن سے سینٹرل جیل اڈیالہ سے بھی ایک آدھ کلو میٹر آگے گورکھپور گاوں تک بارہ تیرا کلومیٹر کا حصہ بہترین کارپیٹڈ ڈبل روڈ کی صورت میں چوہدری نثار علی خان نے دو مرحلوں میں تعمیر کروایا تھا۔ اب (2019)میں گورکھپور سے جرار کیمپ تک سڑک کا حصہ جو تقریباً 19کلومیٹر بنتا ہے کی از سر نو تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرورخان غلط یا صحیح اس منصوبے  کی تعمیر کاکریڈٹ لیتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے ترقیاتی فنڈز سے اس کی تعمیر کی منظوری لی ہے۔ لیکن عام شنید یہی ہے کہ FWO ڈیفنس فنڈز سے اس کی تعمیر کر رہی ہے۔ پرانی سڑک کو گورکھپور سے 10، 12 کلومیٹر آگے  یا اس سے بھی زیادہ حصے کو اُدھیڑ کر اور کھود کر رکھ دیا گیا ہے۔ جو بارشوں اور گرمی کے اس موسم میں گیڑے ، پتھروں ، کیچڑ ، گڑھوںاور دھوپ نکلے تو ساتھ ہی گردوغبار کا ملغوبہ بنی رہتی ہے۔ اس پر سفر کرنا کاردار د ہی نہیں  بلکہ جیسے اُوپر کہا گیا ہے جان کو جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہوں۔ سال کے لگ بھگ عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ایک ڈیڑھ کلومیٹر کامعمولی سا ٹکڑہ ہی صحیح حالت میں تعمیر ہو سکا ہے۔ اگر یہی رفتار رہتی ہے تو اس کی تعمیر میں پتہ نہیں اور کتنا عرصہ لگ جائے گا۔ آخر غلام سرور خان صاحب کو یا ضمنی انتخابات میں اس حلقے سے کامیاب ہونے والے اُن کے بیٹے کو یا FWO کو جو اس سڑک کی تعمیر کاکام کر رہی ہیں اس تاخیر کی ذمہ داری ہی نہیں لینی ہوگی بلکہ بہت کم مدت میں اس کی تعمیر کو مکمل کرکے آس پاس کے دیہات کے باسیوں اور اس سڑک پر سفر کرنے والے دیگر لوگوں کو درپیش مصائب سے نجات بھی دلانی ہوگی۔ 

یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ بڑی حد تک حقیقت ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقوںNA-59اور NA-63 کے چھوٹے بڑے دیہات و قصبات چھوٹی چھوٹی بستیوں اور ڈھوکوں میں اگر جا کر دیکھا جائے تو ترقیاتی کاموں کا ایک جال بچھا ہوا لگتا ہے جو 2018ء سے قبل مکمل ہوئے ہیں ان کا کریڈٹ بلاشبہ چوہدری نثار علی خان کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی عوامی نمائندگی کے دور میں خواہ وہ برسر اقتدار رہے ہوں یا ِ اقتدار سے دور رہے ہوں علاقے کے لوگوں کے چھوٹے بڑے کام کاج کروانے اور علاقے کے ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ محترم غلام سرورخان صاحب اب جب وہ وفاقی وزیرِ کی حیثیت سے اقتدار میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ  NA-59 اور NA-63 میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کو اہمیت دیں اور اڈیالہ روڈ کی تعمیر کو مکمل کرکے پریشان حال لوگوں کی دُعائیں لیں۔


ای پیپر