’’میں‘‘ بھی ضروری ہے
19 ستمبر 2020 (10:25) 2020-09-19

کیا ہوتا اگر زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ ہوتا؟ آپ کو کچھ حاصل نہ کرنا ہوتا۔ آپ کے اوپر کوئی بوجھ زبردستی نہ لادا جاتا۔ نہ سکول کے فرسٹ گریڈز ٗ نہ کالج یونیورسٹی میں ٹاپ کرنا ٗ نہ زندگی کی ریس میں زبردستی شامل ہو جانا اور وہی کام کرناجو اس سے پہلے آپ کے آبائو اجداد کرتے رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس اس دنیا میں آنے سے پہلے ایک آپشن رکھ دی جاتی کہ کیا آپ اس دنیا میں جانا چاہتے ہیں جہاں پر زبردستی تعلیم حاصل کرنی پڑے گی ٗ رزق کے حصول کی دوڑ میں بھاگنا پڑے گا اور آخر کار کسی دن دوڑتے ہوئے آپ گر پڑیں گے اور چند منٹوں میں بے جان لیٹے ہوں گے۔ آپ کے سب چاہنے والے آپ کے ارد گرد رو رہے ہوں گے جن میں سے کچھ لوگ یہ حساب لگا رہے ہوں گے کہ بوڑھا کیا چھوڑ کر مرا ہے؟ کچھ سچے دل سے دکھی ہوں گے لیکن زندگی میں آپ کے بعد پڑنے والے بوجھ سے بوکھلائے ہوں گے اور کچھ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شام کو کون سی دیگ بنے گی اور کل قلوں پر نہ جانے قورمہ بنے گا یا بریانی؟۔ 

سرکاری ٹی وی کے کلاسک دور میں ایک گانا ہوا کرتا تھا ’’چار دناں دی دنیا اے ٗ کجھ کھا لے پی لے موج اڑا۔ ایہہ سب کچھ پانی دا بلبلہ‘‘۔

مجھ سمیت بہت سے لوگ اس دنیا میں آنے کا مقصد ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔پہلے انہیں سکھایا جاتا ہے کہ اچھا انسان بننا بہت ضروری ہے ٗ سچ بولنا چاہیے ٗ کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔ سکول میں اچھی طرح پڑھنا ہے اور اپنے خاندان کے سٹیٹس کو مزید آگے لے کر جانا ہے لیکن جب وہ عملی زندگی میں جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سچ کی سب کہانیاں ٗ اصولوں کے افسانے یہ سب بس پانی کا بلبلہ ہیں۔ بقول جسٹس آصف سعید کھوسہ جنہوں نے روایت کیا ماریو پوزو کو’’امارت کی ہر کہانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم پوشیدہ ہے‘‘۔ تو جب آپ زندگی کی ریس میں بھاگتے ہیں تو آپ کو ایک طبقے سے 

دوسرے طبقے میں جمپ کرنے کیلئے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔

درحقیقت زندگی میں مزید ترقی کی ہر خواہش کے پیچھے ہر کوئی سکون کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ تیزی سے چلتے ہوئے دماغ ٗ بھاگتی ہوئی دنیا ٗ قریبی لوگوں سے مقابلے کی فضا میں ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون کی نیند سو سکے اور اس کے دماغ پر کوئی بوجھ ٗپریشانی نہ رہے۔ نہ کمانے کی ٗ نہ بچوں کی ٗ نہ گھر چلانے کی ٗ نہ بزنس کو شاندار مقام پر لے جانے کی اور پھر وہ زندگی کے شاندار لمحوں کا لطف لے سکے۔ کچھ لوگ زندگی کا مقصد خدا کی عبادت میں تلاش کرتے ہیں اور جب آپ اللہ کی طرف سے ودیعت کئے ہوئے مقصد کے مطابق زندگی گزارتے ہیں کہ تو پھر اس دنیا کی اہمیت اس کے سامنے ایک تنکے کے برابر رہ جاتی اور انسان خدا کے احکامات کو پورا کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ 

درحقیقت ہر مقصد سے زیادہ اہمیت ایک انسانی زندگی کی ہوتی ہے۔ زندگی کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ آپ کیا کام کرتے ہو ٗ آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں۔ وہ سب کیا کرتے ہیں۔ آپ نے بی اے میں کتنے نمبر لئے تھے؟ میرے خیال میں یہ زندگی نہیں۔ زندگی ہے آپ کا اپنا وجود۔ آپ کا جسم۔ رگوں میں دوڑتا خون ٗدھڑکتا دل ٗآپ کے ہاتھ جو زندگی کا لمس محسوس کرتے ہیں ٗ آپ کی آنکھیں جو قدرت کے رنگوں کو محسوس کرتی ہیں۔ آپ کی کار ٗ موبائل ٗ دفتر ٗ خاندان یہ سب آپ کی زندگی کے محور ہو سکتے ہیں ٗ آپ کی زندگی کی بنیادی ضروریات ہو سکتے ہیں لیکن یہ زندگی نہیں۔ زندگی آپ خود ہیں۔ اگر زندگی کی اہمیت ہے تو زندگی آپ خود ہیں اس لئے آپ کی اہمیت ہے۔ 

قربانی کے جذبے سے سرشار ہمارے معاشرے کے کسی گھر میں پیدا ہونے والی بیٹی پورے گھرانے کی عزت۔ باپ ٗ بھائی خاندان کا وقار اور پھر شادی کے بعد اپنے خاوند اور بچوں کی خدمت کی جذبے تلے ساری زندگی گزار دیتی ہے۔ اسے ساری زندگی اس بات کا موقع نہیں ملتا کہ وہ اپنے محور سے نکل کر اپنے بارے میں سوچ سکے۔ یہ دنیا جہاں وہ صرف ایک بار آئی ہے ٗصرف ایک بار یہ سوچ سکے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جس سے اسے خوشی ملے گی اور پھر وہ اسے مکمل بھی کر سکے۔ اس نے زندگی میں جو بھی خواہش پوری کرنی ہے وہ اپنے خاندان کی عزت کے دبائو تلے دب کر ہی پوری کرنی ہے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے کا مرد سکول میں ا چھے نمبر لاتا ہی اس لئے ہے کہ وہ بہترین پیسے کما سکے۔ اپنے خاندان کا سٹیٹس بدل سکے۔ نوجوانی میں ہی اس کے کندھوں پر کبھی بہنوں کی شادی ٗ والدین کا حج یا ان کا علاج یا ایسی ہی کوئی گھریلو ذمہ داریاں آ جاتی ہے۔ ابھی ان ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہونا سیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس کی اپنی شادی ہو جاتی ہے ٗ ابھی شادی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ اس کے گھر بچوں کی آمد کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر ان ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر بچوں کی تعلیم ٗ شادیاں ٗ ان کا مستقبل اور پھر آپ کا بڑھاپا اور پھر زندگی کا خاتمہ۔ اس تمام صورتحال میں انسان کا اپنا سکون کوئی خواب سا بن جاتا ہے۔ معاشرے کی فرسودہ روایات میں ایک انسان کی اپنی خوشی کہیں کھو جاتی ہے اور وہ زندگی کا رس کشید کئے بغیر ٗ زندگی کا مزہ لئے بغیر ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ 

جب بھی کوئی انسان ’’ میں‘‘ کرتا ہے تو ہم اس کو تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی بات کرنا بھی ضروری ہے۔ خود سے پیار کرنا بھی لازمی ہے۔ اور اپنے دل کی بات بھی سننا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کی خوشی کس چیز میں ہے اور کیسے دنیا میں زیادہ سے زیادہ خوشی کشید کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مضبوط دماغ رکھتے ہوں گے ٗ اپنے اندر سکون محسوس کریں گے تو زندگی میں مثبت اصولوں کے ساتھ زیادہ آگے جا سکیں گے۔ اپنے ارد گرد چاہنوں والوں کیلئے زیادہ کارآمد ثابت ہو سکیں گے۔ اس لئے معاشرے کی فرسودہ روایات سے نکل کرسوچیں تو ’’ میں‘‘ بھی ضروری ہوتی ہے۔


ای پیپر