شیخیاں، معافیاں اور منافقتیں!
19 ستمبر 2020 2020-09-19

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں جونامناسب کلمات کہے اُس کی اُنہوں نے معافی مانگ لی، سوجن ماتحت پولیس والوں سے وہ بدزبانی کررہے ہیں، اُنہیں ہتھکڑیاں لگوارہے ہیں، وہ بھی یہ اُمید رکھیں بہت جلد اُن سے بھی وہ معافی مانگ لیں گے کیونکہ سی سی پی او لاہور کی بقیہ سروس کے مختصر عرصے میں اِسی قماش کے ماتحت اُن کے کام آسکتے ہیں جنہیں وہ ہتھکڑیاں لگوارہے ہیں،.... موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں جو نامناسب کلمات اُنہوں نے کہے تھے پاکستان کے عوام اُس پر شدید مضطرب تھے، مضطرب ہونے والوں کی اکثریت مجھ ایسے غیرمہذب لوگوں کی تھی، جو اپنے گھر کی خواتین کے لیے ایسے نامناسب الفاظ یا زبان استعمال کرتے ہیں جو عمرشیخ کے نامناسب الفاظ سے کہیں زیادہ غلیظ ہوتے ہیں، میں ایک ایسے اینکرکو جانتا ہوں جس کا گھر میرے دوست کے گھر سے جُڑاہوا ہے، میں ایک بار اپنے اُس دوست سے ملنے گیا، اُس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے اچانک گندی گالیاں سنائی دینے لگیں، گالیاں دینے والے شخص کی آواز مجھے کچھ جانی پہچانی لگی، پہلے تومیں سمجھا میرے دوست کے گھر کوئی انتہائی بدتمیز شخص آیا ہوا ہے، جسے میں بھی شاید جانتا ہوں، میں نے دوست سے جب پوچھا اُس نے بتایا میرے گھر کے ساتھ فلاں اینکر رہتے ہیں جو گالیاں وہ اپنی بیگم کو دے رہے ہیں وہ ان کا روزانہ کا معمول ہے، ایسی ہی گالیاں وہ اکثر اپنی بیٹیوں کو بھی دیتے ہیں، .... میں نے سوچا ابھی اُن کے گھر جاتا ہوں، اُن سے پوچھتا ہوں ٹی وی پر بیٹھ کر اخلاقیات کے کیسے کیسے سبق آپ دے رہے ہوتے ہیں، اور اپنے گھر میں اخلاقیات کا روزانہ جنازہ نکالتے ہوئے آپ کو کیسے محسوس ہوتا ہے؟....میرے دوست نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، اُس کا مشورہ تھا ایسے بدتمیز شخص کے منہ نہ ہی لگا جائے بہتر ہے، اِس اینکر نے فون پر ایک بار مجھ سے پوچھا تھا ”یار ہماری باتوں کا اب لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا ؟“۔ میں نے کہا ”ہماری باتوں کا خود ہم پر اثر نہیں ہوتا، لوگوں پر کیا ہونا ہے؟....منافقت ہمارے رویوں میں اس قدر سرایت کرچکی ہے ہرمعاملے میں ہم منافقت نہ کریں ہمیں لگتا ہے ہم کچھ کر ہی نہیں رہے، .... جس روز پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، ایک صاحب میرے گھر تشریف فرما تھے، ٹی وی پر یہ خبر آئی وہ غصے سے پاگل ہوگئے، کہنے لگے ”اِس ملک میں انصاف مکمل طورپر ختم ہوگیا ہے، عدالت نے جے آئی ٹی بناکر یہ کیس ”کھوہ کھاتے“ میں ڈال دیا ہے، جب تک جے آئی ٹی کا فیصلہ آنا ہے تب تک یہ نواز شریف اپنے اقتدار کی مدت پوری کرچکا ہوگا، سپریم کورٹ کو چاہیے تھا سیدھی سیدھی اُسے سزا سنا دیتی“۔ میں اُن کی باتیں سنتا رہا، خاص طورپر وہ یہ بات بار بار بہت زور دے کر کہہ رہے تھے ”اِس ملک میں انصاف نام کی کوئی شے کہیں دکھائی نہیں دیتی“ .... مجھ سے رہا نہ گیا، میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، میں نے عرض کیا ”سرآپ کی سگی اکلوتی بہن پچھلے دس سالوں سے عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے کہ میرا بھائی وراثتی جائیداد میں سے مجھے حصہ نہیں دے رہا، پہلے آپ اپنی بہن کو انصاف دے دیں، پھر عدالتوں سے بھی انصاف لے لیجئے گا“....جہاں تک سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی جانب سے موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں کہے گئے نامناسب الفاظ پر اُن کے معافی مانگنے کا تعلق ہے یہ اچھی بات ہے۔ سوسائٹی نے اس پر جو احتجاج کیا وہ بھی اچھی بات ہے، اِس سے کم ازکم دنیا کو یہ تاثر دینے میں ہم کسی حدتک کامیاب ہوگئے معاشرہ مکمل طورپر ابھی ”ڈیڈ“ نہیں ہوا، .... پر گزارش یہ ہے ہمارے پاس صرف دوسروں کو ٹھیک کرنے کا ٹھیکہ ہی نہیں ہونا چاہیے، ہمیں اپنے گربیانوں میں بھی جھانک لینا چاہیے، میں نے ایک بار جھانک کر دیکھا مجھے اتنی بُو آئی میں نے اپنے ہی گربیان میں تھوک دیا، ہم میں سے جو لوگ اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ بدسلوکی یا بدتمیزی کرتے ہیں، حتیٰ کہ اُن پر تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے، عمر شیخ جیسے لوگوں کے رویے پر احتجاج سے پہلے اپنے رویوں پر بھی تھوڑا غور کرلینا چاہیے، ....اپنی بیٹی کا رشتہ تلاش کرنے سے پہلے میں نے اُس سے پوچھا ”بیٹی ، شوہر کے حوالے سے آپ کی ترجیحات کیا ہیں ؟“،وہ بولی ”بابا،لڑکا پڑھا لکھا اور مہذب ہو، اور اُن کے گھر میں عورت کی عزت ہو، بس اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے“....جس گھر میں عورت کی عزت نہ ہو، عورت کو بے عزت کرنا گھر کی شان سمجھی جائے وہ گھر نہیں ”چڑیا گھر“ ہوتا ہے.... سوعورت کی عزت کے حوالے سے جوہمارے معاشرے کا چلن ہے عمر شیخ کے موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کے بارے میں کہے جانے والے الفاظ اُس کے عین مطابق تھے، وہ ایک چالاک آدمی ہیں، اُنہوں نے معافی اپنی سوسائٹی کے احتجاج پر ہرگز نہیں مانگی ہوگی، اصل میں یہ احتجاج پوری دنیا میں پھیلتا جارہا تھا، جن معاشروں میں حقیقی معنوں میں عورت کی عزت ہے وہاں سے بھی آوازیں اُٹھنے لگی تھیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اپنے اپنے انداز میں احتجاج ریکارڈ کروارہی تھیں،.... جتنا میں وزیراعظم عمران خان کو جانتا ہوں پاکستانی عوام کے احتجاج سے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر غیرممالک خصوصاً گورے ممالک، اُس سے بھی خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے کسی واقعے پر کوئی احتجاجی لہر اُٹھے اُس کا نوٹس وہ ضرور لیتے ہیں، .... سی سی پی او عمر شیخ کو ڈرتھا وزیراعظم دوسرے ممالک سے اٹھنے والی آوازوں کا نوٹس نہ لے لیں، جس کے نتیجے میں بڑی مشکل سے جو عہدہ مبینہ طورپر ایک غیرمنتخب مشیر کی سفارش پر اُنہیں ملا ہے وہ اُن سے چھن نہ جائے، لہٰذا اُنہوں نے معافی مانگنے میں ہی عافیت جانی، معافی مانگ کر لوگوں کا اُنہوں نے غصہ ٹھنڈا نہیں کیا اپنا عہدہ بچایا ہے، پر جو اُن کی فطرت ہے اُن کا عہدہ ہمیشہ خطرے میں ہی رہے گا۔ خصوصاً تکبر اُسی طرح اُنہیں لے ڈوبے گا جس طرح آئی جی شعیب دستگیر کو لے ڈوبا، ان کا تکبر اُن کے آئی جی بننے کے فوراً بعد ہی اُنہیں شاید لے ڈوبتا، پر قدرت نے اُن کے تکبر کی زیادہ سخت سزا کے لیے ایک خاص وقت مقرر کررکھا تھا، ایک ایسے ماتحت افسر سے ذلیل کروا دیا جس کی خود کوئی عزت نہیں، ....عمر شیخ کا عہدہ ہمیشہ خطرے میں رہنے کی بات میں نے اِس لیے کی وہ ”خطروں کے کھلاڑی“ ہیں، اِس کھیل میں کئی باراُن کی عزت گئی جس کی اُنہیں کبھی پروا نہیں رہی، اب اگلے روز پولیس لائن میں لاہور کے پولیس افسروں وملازمین، یعنی اپنے سامنے بیٹھی ”بھیگی بلیوں و چوہوں“ سے جس انداز میں اُنہوں نے خطاب فرمایا یوں محسوس ہورہا تھا ”اشتہاری شیخ“ کے نام سے بننے والی کسی فلم کی شوٹنگ ہورہی ہے، اردگرد کھڑے کانسٹیبل اور ہیڈکانسٹیبل ان کے تماشے، اُن کے انداز بیان دیکھ کر سوچ رہے تھے اگر اِس قماش کا شخص سی ایس ایس کرکے پولیس گروپ جائن کرسکتا ہے ہم نے Attemptکیوں نہیں کی؟.... البتہ ایک بات اُنہوں نے اس موقع پر بالکل ٹھیک کہی، اُنہوں نے فرمایا ”اگر بزدار وزیراعلیٰ بن سکتا ہے میں سی سی پی اولاہور کیوں نہیں بن سکتا ؟“ شکر ہے ایک روز پہلے وزیراعظم عمران خان نے کسی اجلاس میں اُن کی تعریف کردی تھی ورنہ وہ اُنہیں بھی لپیٹ لیتے کہ اگر عمران خان وزیراعظم بن سکتا ہے تو وہ سی سی پی او لاہور کیوں نہیں بن سکتے؟، یقین کریں جو اُن کا رویہ ہے، جو اُن کا کردار ہے، سی سی پی او تو کوئی عہدہ ہی نہیں وہ وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں، ....یہ ہڈی حکمرانوں سے اب جلدی نگلی جانی ہے نہ تھوکی جانی ہے،....ہم تو اِس انتظار میں ہیں کب حکمران انہیں اُن کے عہدے سے الگ کریں اور اِس صورت میں وہ حکمرانوں کے لیے بھی وہی زبان استعمال کریں جو آج کل وہ اپنے ماتحتوں کے لیے کرتے ہیں !! 


ای پیپر