پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے دو راہے
19 ستمبر 2019 2019-09-19

بلاول بھٹوزرداری سندھ کا دورہ مختصر کر کے ابھی اسلام آباد پہنچے ہی تھے کہ پارٹی کو ایک اور دھچکا لگا کہ ایک اہم رہنما سید خورشید شاہ کو نیب نے اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ بینظیر بھٹو ہوں یاا ٓصف علی زرداری اور بلاول بھٹو خورشید شاہ کوان سب کا اعتماد حاصل رہا ہے اور وہ قیادت کی عدم موجودگی میں قومی اسمبلی میں پارٹی کی بھرپور نمائندگی کرتے رہے ۔ ان کے بعدوزیراعلیٰ سندھ سمیت بعض دیگر گرفتاریوں کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔ بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈائون سے ہٹ کر سندھ میں تحرک پیدا کر رہے تھے۔ جس میں وہ بڑی ٰ حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے فلور پر یقین دہانی کرائی کہ سندھ اور سندھ حکومت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہورہا۔ دوسری طرف نواز لیگ کی طرف سے دھرنے کا حصہ بننے کے لئے پیش رفت ہوئی اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی اور بعد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس ملاقات پر اعتماد میں لیا۔کوٹ لکھپت میں ہونے والی اس ملاقات میں احسن اقبال اور خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔ سابق وزیراعظم کوبتایا گیا کہ دونوں جماعتوں نے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ کی تاریخ مشترکہ طور پر طے کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے دھر نے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا ، لیکن اس کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بازگشت سنائی دیتی رہی کہ نواز لیگ اور حکومت کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے طور پر یقین دہانی کرائی تھی یا حکومتی پالیسی کا حصہ تھی ، کیونکہ بعد میں ہوا یہ کہ پارٹی کے اہم ارہنما سید خورشید شاہ گرفتار ہوگئے۔ اور پیپلزپارٹی کو خدشہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ جنہیں نیب نے انیس سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھیجنے کے بعد چوبیس ستمبر کو اسلام آباد طلب کیا ہے۔ بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفی کھوکھر نے پارٹی کا موقف رکھا ہے کہ سید مراد علی شاہ کو ہٹانے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے، یا پھر عدالت کے ذریعے ہٹایا جائے۔ گرفتاری سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ ہٹایا گیا تو جیل میں کابینہ کا اجلاس بلائیں گے۔

سندھ حکومت پر انتظامی اور گورننس کے حوالے سے دبائو جاری ہے ، جس سے پارٹی کے قلعہ والے صوبے میں پارٹی اور حکومت دونوں کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ یہ دبائوسندھ حکومت کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو عوام میں قبولیت یا جواز کو جائز قرار دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔وفاقی حکومت کو پتہ ہے کہ سندھ حکومت پیپلزپارٹی کی کمزوری ہے۔ وہ اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ کو ہی احتجاج کی بنیاد بنانا چاہتی ہے۔ پارٹی کے لائحہ عمل کے مطابق احتجاج سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب جائے گا۔ یعنی ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی سندھ سے پنجاب جاکر وہاں آواز دینا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے احتجاج پنجاب کی شمولیت کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم کہا ہے کہ کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو شاید ہم مولانا کے احتجاج میں شامل بھی ہوجائیں گے۔

پی پی چیئرمین کا یہ موقف کہ’ ہمارا جو بھی راستہ ہوگا جمہوری اور آئینی ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام چلے،پارلیمنٹ چلے، ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقراررکھا جائے‘ بظاہر اچھا ہے لیکن اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اس کی ایک تشریح یہ نکالی جارہی ہے کہ پارٹی حکومت کے خلاف موقف میں پیچھے ہٹی ہے۔کیونکہ مولانا کا دھرنا ’پارلیمنٹ چلے، ہرصورت میں جمہوریت کاتسلسل برقرارر ہنے ‘ کے دائرے میں نہیں آتا۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ آئین سے بالاتر اقدامات کا خدشہ ہے۔ دورہ سندھ کے دوران بلاول بھٹو نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد انہوں نے پارٹی کے پرانے مطالبے کا اعادہ کیا کہ آئندہ عام انتخابات انتخابی اصلاحات کے مطابق ہونے چاہئیں، موجودہ قوانین کے تحت دوبارہ عام انتخابات کا فائدہ نہیں ہوگا۔ لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی صورتحال کو از سرنو دیکھ رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے گزشتہ روز جیل میں والد آصف علی زرداری سے ملاقات میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ خورشید شاہ کی گرفتاری سے منتخب ایوان میں پارٹی ایک اچھے ترجمان سے محروم ہو گئی ہے۔ جس سے قومی اسمبلی میں حکومت کو پوزیشن مضبوط ہوگی۔ او وہ اگر کوئی بل وغیرہ لانا چاہے گی تو اسے سہولت ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول نے اس گرفتاری کو سیاسی گرفتاری قراردیا ہے۔ حکومت کو دو محاذوں پر مخالفت کا سامنا ہے، ایک پارلیمنٹ کے اندر اور دوسرا پارلیمنٹ سے باہر۔پہلے حکومت پارلیمنٹ کے اندر صفیں درست کرنا چاہ رہی ہے۔ مولانا کی تمام تر کوششوں کے باوجود پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے سے قریب نہیں ہو پائی ہیں، دونوں کے درمیان بدگمانیاں برقرار ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان نہ ملاقات ہے اور نہ ایک جیسا موقف۔

مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ ہے کہ وہ پندرہ لاکھ کا مجمع لگائیں گے۔ اس میں سے اگر پانچ کا ہندسہ نکال بھی دیں اور یہ ایک لاکھ کا مجمع ہوگا، حکومت پر دبائو عروج پر پہنچ جا ئے گا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ حکومت مولانا کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر رہی۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ مولانا کی سرگرمیاں حکومت اور اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ تینوں فریق مولانا کی اس دھمکی سے خوفزدہ بھی ہیں، لیکن اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتی ہیں۔ یہ اہم سوال ہے کہ مولانا کے پی کے یا ملک کے دیگر علاقوں سے لوگ اکٹھے کر لیں گے، لیکن صورتحال تب تک تبدیل نہیں ہوگی جب تک پنجاب اس میں بھرپور شمولیت نہیں کرے گا۔


ای پیپر