ا نڈیا تو انڈیا،سا تھ میں افغانستان بھی
19 ستمبر 2019 2019-09-19

انِ وا قعا ت کے وقو ع پذیر ہو نے کی تا ر یخ(Date)کا بتا نا اب اس لیئے ضر وری نہیں رہا، کیو نکہ یہ تسلسل سے جا ری ہیں۔ مثا ل کے طور پرآ ج سے چا ر روز قبل کنٹرول لائن پر حاجی پیر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا حوالدار شہید ہوگیا۔ بھارتی فوج نے نکیال اور جند روٹ سیکٹر میں شہری ا ٓبادی کو نشانہ بنایا جس سے سرحدی گائوں بالا کوٹ میں ایک خاتون شہید ہوگئی جبکہ چار خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔ پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گور واہلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو بھی طلب کیا اور سرحد پار سے فائرنگ کے واقعے پر شدید احتجاج کیا۔ادھر پچھلے جمعہ کے روزشمالی وزیرستان اور دیر میں پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گروں کے حملوں میں پاک فوج کے 4 جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ ا ٓئی ایس پی ا ٓر کے مطابق مغربی سرحد پر دو واقعات میں پاک فوج کے چار جوان شہید ہوگئے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں جمعہ کی رات دیر گئے اباخیل کے قریب سیکورٹی فورسز کی پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ شرپسندوں نے اس پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا سپاہی اختر حسین شہید ہوگیا اور جوابی کارروائی میں دو شرپسند بھی مارے گئے۔ دوسرے واقعہ میں دیر کے علاقے میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں نے باڑ لگانے میں مصروف پاک فوج کے دستوں پر فائرنگ ہوئی جس سے تین فوجی جوان شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ایک ہی روز میں مغربی اور مشرقی سرحد پر پاک فوج کے پانچ جوانوں کی شہادت ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی بنیاد میں چھپے ہوئے نفرت ا ٓمیز رویے کی تو سمجھ ا ٓتی ہے لیکن افغان سرحد کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے انتہائی تشویش اور خطرے کا مظہر ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان کے اندر کچھ قوتوں نے غیر علانیہ گوریلا وار شروع کر رکھی ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے ہی پوری سرحد پر خاردار تار کی تنصیب کے علاوہ چوکیاں تعمیر کی جارہی ہیں۔ پاکستان کے بارہا احتجاج کے باوجود افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرحد پار کارروائیوں کی روک تھام اور سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ افغان حکومت کو یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمسائیوں کے گھر میں چھوڑے گئے سانپ کل ا ٓستین کے سانپ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردی نے پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا۔ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی بھی بارہا پیشکش کرچکا ہے مگر اس کی جانب سے اس کا مثبت رد عمل سامنے نہیں ا ٓیا۔ مشرقی اور اب مغربی سرحد پر ہونے والی فائرنگ اور دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ پاک فوج ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ بھارت 2003ء کی جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کو یقینی نہیں بنارہا ، سرحدوں پر ا ٓئے دن ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری اس کے جارحانہ عزائم کی غماز ہے۔ پاکستان سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے تمام معاملات کے سا تھ بڑے تحمل سے نمٹ رہا ہے۔ اسے ادراک ہے کہ دشمن خاص منصوبہ بندی کے تحت اسے اشتعال دلا کر خطے میں جنگ چھیڑنا چاہتاہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ پاکستان اس وقت مغربی سرحدوں پر الجھا ہوا ہے۔ اس کی معاشی اور اقتصادی حالت بھی کوئی قابل رشک نہیں۔ لہٰذا یہ حالات جنگ کے لیے کارساز ہیں جس میں پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ اپنے ان مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ پاکستان کے اندر کچھ شرپسند عناصر کی بھی معاونت کررہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ان تمام سازشوں سے بخوبی ا ٓگاہ ہے اور وہ ان سے نبرد ا ٓزما ہونے کے لیے جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر ہاٹ ایشو ہے۔ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دے رہا ہے مگر بھارت مذاکرات کے بجائے جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کرفیو، پابندیوں اور ذرائع مواصلات کی بندش کو پینتا لیس روز گزرچکے ہیں، وادی میں معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں اور لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ وادی میں بعض مقامات پر بنیادی اشیائے ضروریہ کی بھی سخت قلت پیدا ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیریوں کو بولنے دے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی فوج کے محاصرے اور کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کا علاقہ دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ بھارتی مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے پاکستان سفارتی محاذ پر بھرپور کام کر رہا ہے۔ کشمیری برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک سمیت دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنا ا ٓزادی کا حق مانگ رہے ہیں۔ بظاہر انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کے حق میں ا ٓواز بلند کر رہی ہیں لیکن اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں مسلسل خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ جس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک ا ٓزادی کو دبانے کے لیے ظلم و ستم روا اور سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اقوام متحدہ اس کے خلاف ا ٓواز اٹھاتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاٹ ایشو ہے جس پر کسی بھی وقت شروع ہونے والی فائرنگ بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی اور میزائلی قوت ہیں اگر کسی نے بھی ان مہلک ہتھیاروں کو استعمال کرنے میں پہل کردی تو پھر یہ خطہ خوفناک تباہی اور بربادی کا شکار ہوجائے گا۔ پھر نہ کوئی فاتح ہوگا اور نہ مفتوح۔ اسی بربادی اور تباہی کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان جنگ سے گزیر کرتے ہوئے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاک بھارت کشیدگی اور تنائو کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں اور بھارت پر دبائو ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کا فی الفور خاتمہ کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے۔ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ بھارت اور افغانستان کی حکومتوں کو بھی ہوش مندی سے کا م لینا چا ہیے۔ کیو نکہ بصو رتِ دیگر پورے خطے کا امن خطر ے میں پڑ سکتا ہے۔


ای پیپر