بریگزٹ: برطانیہ میں کیا ہو رہا ہے؟
19 ستمبر 2019 2019-09-19

گزشتہ سوا تین سال کے دوران برطانیہ غیرمعمولی سیاسی پراگندگی کا شکار رہا ہے۔ بحثیتِ مجموعی اس پراگندگی کا تعلق برطانیہ اور یورپین یونین کے سیاسی اور معاشی تعلقات کی روایتی اور تاریخی ساخت میں تغیّر و تبدّل سے ہے۔تاہم اس تبدیلی کا ماخذ برطانیہ کا سیاسی ارتقاء بھی ہے اور یورپین یونین کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے برطانوی عوام کی اکثریت اور اہم سیاسی حلقوں کے تحفظات بھی ۔ برطانیہ کے دو سابق وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ٹریسا مے کے ادوارِحکومت یورپین یونین کے معاملات کی پیچیدگیوں کے سبب ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے۔ موجودہ وزیرِاعظم بورِس جونسن کو بھی جو یورپین یونین کے درشت وتند مخالف ہیں اسی حوالے سے سیاسی غیر یقینی سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ کے سیاسی حالات پاکستان کو بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریق سے متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے باہمی تعلقات کی طویل اور خوشگوار تاریخ کے علاوہ اس کی ایک بہت دل خوش کن وجہ وہاں سکونت پذیر 1.17 ملین پاکستانی نژاد شہری بھی ہیں جو برطانیہ کی سیاست، معیشت اور معاشرتی زندگی کا نہایت فعال اور نمایاں حصہ ہیں۔ یہ پاکستانی برطانیہ کی دوسری بڑی نسلی اقلیت شمار کیے جاتے ہیں۔ یورپ کے کسی اور ملک میں پاکستانی نژاد آبادی کا اتنا مستحکم ومؤثرارتکاز اور رسوخ دیکھنے میں نہیں آتا۔ برطانوی پارلیمان میں پندرہ پاکستانی نژاد ارکان کی موجودگی کے علاوہ وزیرِ خزانہ ساجد جاوید اور لندن شہرکے موجودہ میئر صادق خان کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔

برطانیہ کے سیاسی خلفشار کے حوالے سے آج کل ایک غیرمانوس اصطلاح زبان زدِ خاص و عام ہے یعنی بریگزٹ ۔ اسی اصطلاح میں برطانیہ کی سیاسی ہلچل کی وجوہات پوشیدہ ہیں۔ یہ اصطلاح انگریزی زبان کے دو الفاظ برٹش اور ایگزٹ کے ملاپ سے وجود میں آئی ہے اوراس کے معنی ہیں برطانیہ کا یورپین یونین سے اخراج۔

یورپین یونین 28 ممالک پر مشتمل ایک معاشی و سیاسی گروہ ہے جو یورپ میں آزادانہ تجارت اور رکن ممالک کے باشندگان کی یورپین یونین کی جغرافیائی حدود میں بلا روک ٹوک نقل و حرکت کو قانونی ومعاہداتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ برِ اعظمی اتحاد جنگِ عظیم دوم کی تباہ کاریوں کے خلاف یورپ کے اجتماعی شعورکے احتجاج و ردِ عمل کا مظہر ہے۔ دورِ حاضر میں یہ گروہ ایک بہت بڑی اور طاقتور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ برطانیہ نے 1973 میں یورپین یونین کے پیش رو معاشی اور سیاسی اتحادات میں شمولیت اختیار کی جن کو اجتماعی طور پر یورپین کمیونٹیز کہا جاتا تھا۔یہی اتحادات رفتہ رفتہ یورپین یونین کی شکل میں ڈھلتے چلے گئے۔

اس فیصلے نے برطانیہ کے طاقتور سیاسی حلقوں کو یورپ مخالف اور یورپ نواز گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ اسی بنیادی سیاسی اور فکری اِنقسام نے بالآخر بریگزٹ کو جنم دیا۔

یورو مخالف حلقوں کا اصرار تھا کہ یورپین یونین کا حصّہ رہتے ہوئے برطانیہ اپنی ایک ہزار سالہ رفیع الشّان سماجی اور ریاستی شناخت کھو دے گا۔ انہی حلقوں کی زبردست مخالفت کے باعث 1999 میں یورو بطورِ کرنسی برطانیہ میں رائج نہیں ہوسکا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپین یونین کی رکنیت کے سبب برطانیہ میں مشرقی اور جنوبی یورپ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد داخل ہو رہی ہے جو برطانوی شہریوں کے معاشی استحصال کا باعث ہے۔

دوسری طرف یورو نواز حلقوں کا خیال تھا کہ یورپین یونین سے اخراج کے بعد عالمی مالیاتی بساط پر برطانیہ کی نمایاں حیثیت مجروح ہو گی کیونکہ ایسی صورت میں لندن شہر یورپ میں معاشی داخلے کا بابِ عالیشان نہیں ر ہے گا ۔ مزید براں یورپین یونین کی رکنیت کے سبب برطانوی مالیاتی اداروں کو یورپ میں کہیں بھی کاروبار کرنے کا جو قانونی حق حاصل ہے وہ بھی ساقط ہو جائے گا۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ اگر بڑے کاروباری اداروں نے بعد از بریگزٹ اپنے صدر دفاتر برطانیہ سے باہر منتقل کر دیے تو ملکی آمدن میں واضح کمی واقع ہو گی۔

سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس تکلیف دہ سیاسی تذبذب و انتشار سے نکلنے کے لئے یورپین یونین سے برطانیہ کے تعلق کے معاملے کو23 جون 2019 کو ایک ریفرنڈم کی شکل میں برطانوی عوام کے سامنے پیش کر دیا جن کی 52 فیصد اکثریت نے یورپین یونین چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا۔

بعد ازاں سابق وزیرِ اعظم ٹریسا مے نے مارچ 2017 میں یورپین یونین کے معاہدہ لزبن کے آرٹیکل 50 کے تحت یورپین یونین سے نکلنے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ یورپین یونین کا کوئی بھی رکن ملک اس آرٹیکل کی شقوں کے مطابق یونین سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ ٹریسا مے نے اس حوالے سے یورپین یونین کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے جس کے دو بنیادی جزو ہیں:

ایک وہ معاہدہ جس کے تحت علیحدگی کی شرائط طے کی جائیں گی اور دوسرا وہ اقرار نامہ جس کی ُرو سے برطانیہ اور یورپین یونین کے شہریوں کے حقوق، تخمینہ رقوم جو برطانیہ نے یورپین یونین کو ادا کرنی ہیں اور آئرلینڈ کی سرحد پر تجارتی سامان کی نقل و حرکت کی از رُوئے قانون نگرانی شامل ہے۔

برطانوی پارلیمان اب تک اس معاہدے کو تین دفعہ مسترد کر چکی ہے۔ حالات تیزی سے خرابی کی سمت جا رہے ہیں۔ برطانیہ کو 29 مارچ 2019 تک یورپین یونین کو خدا حافظ کہہ دینا چاہئے تھا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا۔

برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی کے بعد شمالی آئرلینڈ کی سرحد پر تجارت، کسٹمز اور امیگریشن کے معاملات نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے۔آئر لینڈ کی سرحد برطانیہ کو یورپین یونین سے ملانے والی واحد زمینی سرحد ہے۔ برطانیہ اس سرحد پر سختی نہیں چاہتا کیونکہ ایسے کسی بھی عمل سے شمالی آئرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی حالات بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ برطانیہ کی سعی ہے کہ اس کے یورپین یونین سے نکلنے کے بعد بھی یہ سرحد پہلے کی طرح کھلی رہے۔ لیکن اگر بوجوہ ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ایسا بندوبست کیا جائے جو اس سرحد کو متنازع نہ بننے دے۔ اس بندوبست کو بیک سٹاپ کا نام دیا گیا ہے جس کے ذریعے برطانیہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد 21 مہینے کے عبوری عرصہ میں یونین کی سنگل مارکیٹ اور کسٹمز یونین کا حصہ رہے گا۔ اس دوران متعلقہ یورپی ممالک سے تجارتی معاہدے کیے جائیں گے جن کے تحت اس سرحدکو کھلا رکھا جا سکے گا۔ تاہم بیک سٹاپ صرف اسی صورت میں فعال ہو سکتا ہے اگر یہ معاہدات عبوری عرصے کے اختتام سے پیشتر معرضِ وجود میں آجائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا اوربرطانیہ وزیرِ اعظم بورس جونسن کے اعلان کے مطابق بِنا کسی معاہدے کے یورپین یونین سے نکل گیا تو اس کی تجارت، محاصل، مصنوعات کی مسابقتی اہلیت اور سروس سیکٹر کی یورپین یونین کی وسیع مارکیٹ تک رسائی پرنہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

فی الوقت بریگزٹ کے تناظر میں برطانیہ کے سیاسی الجھاؤ میں کسی بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ حکومت کے ایما پرپچھلے ہفتے پارلیمان کا اجلاس پانچ ہفتے کے لیے ملتوی کر دیاگیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا بریگزٹ کے حوالے سے پارلیمان کو بے دست و پا کرنے کے مترادف ہے۔اس کے باوصف ارکانِ پارلیمان نے وزیرِاعظم بورس جونسن کی بلا معاہدہ یورپین یونین چھوڑنے اور قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ برطانوی سیاست کے لیے اگلے تین ماہ تاریخی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ 16ستمبر 2019 کو بورس جونسن نے یورپین کمیشن کے صدر ژان کلاڈ یُنکر سے ملاقات کی جوبے نتیجہ رہی ۔دیکھتے ہیں بریگزٹ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔


ای پیپر