سعودی تیل تنصیبات پر حملہ اور ملتِ اسلامیہ
19 ستمبر 2019 2019-09-19

جس بیج کو بو کر نبی اکرمؐ نے ایک درخت کی شکل میں ملتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی تھی، آج جب ہم اس نبیؐ کی بنیاد کی طرف طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ آج ہمارا اسلامی معاشرہ مغرب کی رنگینیوں میں اس قدر جذب ہو گیا ہے کہ اس کے اندر اسلامی ثقافت، تہذیب و تمدن ایک لونڈی کی مانند نظر آتی ہے۔ کبھی جس قوم کے قدموں کی آہٹ سن کر دشمنانِ اسلام ان کے لئے اپنے دل کے دروازے کھول دیتے تھے اور جن کے عدل و انصاف کو دیکھ کر کہتے تھے اے حاکم اس ملک کی سرزمین سے اپنے قدموں کے رخ مت موڑئے گا ورنہ یہ سر زمین کئی طرح کی برائیوں کو جنم دے گی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج وہی مسلمان احکاماتِ الہٰی کو پسِ پشت ڈال کر دنیاوی رنگینیوں میں کھو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو انہیں آپس میں الجھانا آسان ہو گیا ہے اور مسلمان ممالک آپس میں محبت بھائی چارہ پیدا کرنے کی بجائے غیروں کی پشت پناہی پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ اس سے مسلم امہ کوکس قدر نقصان ہو رہا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سب کے پیچھے اغیار کی سازشیں کارفرما ہیں، جس کا بنیادی مقصد مذہب کو بدنام کرنا، خطے میں موجود مادی مفادات اور دولت کو کو ہتھیانہ ہے۔ مسلم دنیا کی دولت اور وسائل پر قابض ہونے کے لئے امتِ واحد میں فرقہ واریت، لسانی، گروہی اور فروعی اختلافات کو ہوا دے کر انتشار و افتراق کی راہ ہموار کرنا ایک باقاعدہ منصوبہ بندی ہے جب کہ انہی اختلافات کی بنیاد پر مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر دینِ اسلام کے رواداری اور انسانیت کی سلامتی کے پیغام کو بٹہ لگا رہے ہیں۔ یقیناً فرقہ واریت کی بنیاد پر ہی برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین اختلافات کی خلیج حائل رہی ہے جب کہ فرقہ واریت ہی طویل ترین ایران عراق جنگ پر منتج ہوئی تھی جس میں دونوں مسلم ممالک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ جس پر دنیا کو یہ کہنے کا بھی موقع ملا کہ مسلمان خود آپس میں بھی تحمل، برداشت اور رواداری سے کام نہیں لے سکتے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کے بعد ایک بار پھر دو برادر اسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے گزشتہ روز اپنی تحقیقات کے بعد ایران کے اس میں ملوث ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔ سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق 18 ڈرونز اور 7 کروز میزائل ایرانی ساختہ ہیں۔ لیکن اس سے قبل امریکہ نے ابتدائی مرحلے میں بغیر کسی تحقیقات کے ایران کے ملوث ہونے کے اشارے دینے شروع کر دئے تھے گو کہ ابھی ان حملوں کے ذرائع کی تصدیق ہونے کا انتظار تھا لیکن امریکہ چونکہ ایران سے مخاصمت رکھتا ہے اس نے بھی بڑھ چڑھ کر بیانات دینے شروع کر دئے ہیں ۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد ایران کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تو تہران نے اس معاملہ سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس حملہ میں کسی بھی لحاظ سے ملوث نہیں۔ چونکہ سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی عرصہ دراز سے جاری ہے اس ساری صورتحال میں سپر طاقتوں کا کردار خاصی اہمیت کا حامل ہے اور انہیں سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو پر ہونے والے حملہ سے ایران کے گرد شکنجہ کا ایک اور موقع مہیا کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلانیہ کہنا شروع کر دیا کہ حملہ میں ایران براہِ راست ملوث ہے۔ ادھر پومپیو کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ سعودی آئل تنصیبات پر یمن کی سرزمین سے حملے کئے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تو کہنا شروع کر دیا ہے کہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو بھرپور جواب دینے کے لئے امریکہ مکمل تیار ہے۔ ادھر چین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور وہ ہرا س اقدام کی مخالفت کرے گا جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر جائے۔ روس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد بازی میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے پرہیز کیا جائے۔ جب کہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے " تسنیم" کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر امیر علی حاجی زادے نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے تیار ہے اور امریکہ کی تمام بیسز اور طیارے ایران کے میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔ فی الحال مغربی ایشیا میں کسی بڑی جنگ کا خطرہ نہیں ہے لیکن خطے میں یوں ہی سیاسی تلواریں بے نیام ہوتی رہیں تو صورتحال کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ کے اس واقعہ میں ان عناصر کی شمولیت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے کی خاطر نہ صرف کوشاں ہیں بلکہ قرب و جوار کی مملکتوں میں باغیانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی کے ذریعے سعودی عرب سمیت دنیائے خلیج کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنے کی بات ہو گی کہ عالمِ اسلام کی سربراہی کا فریضہ انجام دینے والی مملکت سعودی عریبیہ تخریبی کاروائیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حکمت اور دانائی کا ثبوت کس طرح پیش کر پاتی ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن مسلم دنیا کو اپنے درمیان فرقہ ورانہ اختلافات کو ختم کر کے بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئے اور مسلم ممالک کی قیادتوں کو اپنے وسائل بموں سے ضائع کرنے کی بجائے مسلمان ممالک کو ترقی پزیر ممالک کی اولین فہرست میں کھڑا کرنے کے لئے صرف کرنے چاہئے۔


ای پیپر