پیسے کی واپسی مگر کیسے؟
19 ستمبر 2019 2019-09-19

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر احتساب سے متعلق فرمایا ہے کہ کسی بھی طور سے کمپرو مائز اور ڈیل نہیں ہوں گے احتساب کا عمل جاری رہے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتساب کے معاملے میں سیاسی مداخلت ہرگز نہیں اگر واقعی ایسا ہی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ جنہوں نے ملکی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا اورہڑپ کر کے عوامی مسائل میں خوفناک اضافہ کیا انہیں ضرور قانون کی گرفت میں لانا چاہیے۔ اس میں کسی بھی قسم کی رُو رعایت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ جس ملک کے عوام کسمپرسی کی زندگی بسر کریں اور اس کی معیشت لوٹ مار کی نذر ہو جائے وہ ریاست غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔

اب تک ایسی کوئی حکومت بھی نہیں آئی جس نے یہ سوچا ہو کہ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو پکڑ کر ان سے کھایا گیا مال اگلوایا جائے اس کا مطلب یہ نہیں کہ احتساب کے حوالے سے کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ انسداد رشوت ستانی، نیب اور ایف آئی اے ایسے اداروں نے روز مرہ سے ہٹ کر ہر نئی حکومت کے قیام پر سرگرمی دکھائی۔ بالخصوص نیب جو جنرل ریٹائرڈ مشرف کے دور میں وجود میں آیا اور فعال ہوا، نے عوامی سرمایے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو گریبان سے پکڑنا شروع کیا مگر امتیازی رویہ اس پر غالب رہا یعنی سیاسی مخالفین کو پکڑنا اور جو حکومت میں تھے انہیں نظر انداز کردینا اس طرح کے طرز عمل نے اس کا بنیادی کردار و چہرہ دھندلا دیا ۔ اس سے یہ تاثر عام ہوا کہ احتساب حکومت وقت کی ایسی ’’کڑکی‘‘ ہے جس میں نمائندہ نہیں پھنس سکتے جبکہ کہا گیا کہ احتساب بلا تخصیص ہو گا۔

یہی وجہ تھی کہ احتسابی عمل کبھی سست اور کبھی نہ ہونے کے برابر رہا اور حکومت کے با اختیاروں نے جہاں تک ممکن ہو سکا بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور بار بار دھوئے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا کیونکہ خالی یا کم بھرے خزنے کو لبالب کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے بھاری رقوم لینا پڑیں جو انتہائی سخت شرائط کے عوض لی گئیں۔ ظاہر ہے وہ زندگی کی سہولتیں ختم کر دینے والی ہوتیں یا پھر ان میں کمی لاتیں کیونکہ یہ طے ہے عالمی مالیاتی ادارے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے بہتریاں پیدا نہیں کرتے۔ انہیں محروم آسائش کرتے ہیں لہٰذا عام آدمی کا جینا بتدریج مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا مگر احتساب کی جانب کسی بھی حکمران نے توجہ نہیں دی اگرچہ جنرل مشرف ریٹائرڈ نے کہا بلکہ مکا لہرا لہرا کر کہا کہ وہ نہ خود بدعنوانی کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے۔ اس کا مقصد ملک میں جمہوری اور غلامی عمل کو جاری کر کے ریاست پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا تھا مگر وہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایسا نہ کرسکے مگر وہ مجموعی طور سے کچھ بہتری لانے میں ضرور کامیاب ہو گئے۔ تعلیم و صحت کے میدان میں ان کی پالیسیاں نسبتاً مختلف تھیں اور ناخواندگی کے خاتمے اور ایک صحت مند قوم بنانے کے لیے شفاخانوں کا تبدیل شدہ ڈھانچہ انتہائی قابل تعریف تھا لہٰذا آج بھی اس کا تسلسل دیکھنے کو ملتا ہے… مگر افسوس گزشتہ و موجودہ اہل اختیار و اقتدار کی غفلت و عدم دلچسپی کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے میدان میں رونق بہت کم ہے لہٰذا تعلیمی سرگرمیاں اور صحت کی سہولتیں بہ نسبت جنرل مشرف یا چوہدری پرویز الٰہی کے دور کے (جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے) کافی حد تک کم اور مضمحل نظر آتی ہیں اگرچہ ان پر الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے اربوں کھربوں کے قرضے معاف کرائے اور مافیاز کو آشیر باد دی جس سے اجتماعی مسائل نے جنم لیا مگر اس کے باوجود عام آدمی کی حالت خراب تر نہیں دیکھی گئی۔ تھانوں اور سرکاری اداروں کا انتظام بھی بہت بہتر نہ سہی بہتر ضرور تھا۔ بہرحال اب جہاں مرکز وہاں پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی بدلتی سیاست پورے سیاسی منظر پر اثر انداز ہوتی ہے بعض مسائل عوام کو پریشان کر رہے ہیں اور ان کا تانا بانا بدعنوانی سے جا ملتا ہے۔ لینڈ مافیا ہو مہنگائی مافیا کمیشن خورہوں یا رشوت خور ان سب کے کالے کرتوتوں سے عوامی مشکلا ت پیدا بھی ہوتی ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے کیونکہ جب خرانہ بھرے گا ہی نہیں افراد کی تجوریوں میں دولت کا رخ ہو گا تو سرکاء کہاں سے پیسا لا کر لوگوں کو راحتیں دے گی لہٰذا عمران خان نے درست کہا ہے کہ وہ کمپرومائز کریں گے اور نہ ہی ڈیل یوں احتسابی سلسلہ آگے بڑھے گا مگر جناب عالی! یہ سلسلہ حزب اختلاف کے لئے ہی ہے اب تک حزب اقتدار کے کتنے بڑے بڑوں کے نام شامل تفتیش ہوئے ہیں۔ اور بیورو کریسی میں موجود بدعنوانوں میں سے کتنے پکڑے گئے ہیں۔ ان کے سیاسی مخالفین بار بار یہی کہتے ہیں۔ وزیراعظم کی نیت پر ذرا بھر بھی شک نہیں کیا جا سکتا وہ دیانت دار ہیں مخلص ہیں اور وطن عزیز کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کئے ہوئے ہیں مگر سوال یہ بھی ہے کہ وہ دوسری جانب بھی نگاہ دوڑائیں کہ اُدھر بھی موج میلہ ہو رہا ہے۔ پھر ابھی تک جن لوگوں کو پس زنداں دھکیلا گیا ہے ان میں سے کتنوں سے ’’مال مسروقہ‘‘ برآمد کیا گیا۔ میری ناقص معلومات کے مطابق ایک دھیلا بھی نہیں تو پھر کیا فائدہ ایسے احتساب کا جو وقت کے ضیاع کا باعث بن رہا ہو۔ بہرکیف جو خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ احتساب دیدنی ہو گا وہ ابھی تک کہیں نظر نہیں آتا میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے عدالتی نظام میں زبردست خلا ء ہے جس سے ’’ملزمان‘‘ بہ آسانی مستفید ہو سکتے ہیں ، ہوتے ہیں… ویسے تو پورا نظام ریاست ہی کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ جب نظام میں خرابی ہو گی تو کسی بھی طرح کی بدعنوانی و بگاڑ کو روکنا ممکن نہیں لہٰذا عمران خان سے التماس ہے کہ وہ نظام بدلنے کی کوشش کر یں تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ اس سے ان کے بدخواہوں میں بھی اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ رائج نظام خود بخود قابل گرفت لوگوں کو پکڑے گا، جھنجھوڑے گا اور قومی سرمایہ وصولے گا۔

حرف آخر یہ کہ عمران خان کی یہ سوچ عمدہ و مثبت ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی مگر یہ انداز فکر یکساں ہونا چاہیے تب ہی کوئی ان کے ارادوں کو پذیرائی بخشنے کے لیے ان کے پیچھے کھڑا ہو گا پھر یہ بھی ہے کہ وہ بیانات کی حد تک ہی نہ رہیں جو کرنا کر ڈالیں۔ شواہد اگر انہیں میسر ہیں تو پھر دیر نہیں کرنی چاہیے ملک کی صورت حال نے عام آدمی کا گویا کچومر نکال دیا ہے اور وہ اب شور مچانے والے ہیں جو بے حد شدید ہو گا۔


ای پیپر