سعودی عرب پر حملوں سے عالمی معیشت متاثر
19 ستمبر 2019 (12:38) 2019-09-19

واشنگٹن:امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں نے عالمی منڈی میں ہل چل پیدا کردی جس نے ثابت کیا ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کا گہرا اثرو رسوخ ہے۔ اگر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا بھرمرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا کے شیل آئل کی مارکیٹ میں آمد کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ فطری ہے۔ تیل کے شعبے کے سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پرحملوں کا نتیجہ ہیں۔سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی برآمدات کی اہمیت اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کے امکانات سے قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھا آتا رہے گا۔ عالمی تیل مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی کی قیمت میں 15 فیصد اضافے کے بعد اس کی قیمت 69.02 ڈالر فی بیرل ہوگئی جوکہ 1988 کے بعد سے ایک روز کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 

یاد رہے کہ رپورٹ گذشتہ روز سعودی عرب کے اس اعلان سے قبل سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے مملکت تیل کی رسد اور سپلائی کی سطح کو برقرار رکھنے کے قابل ہے۔ دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی پیداوار پر منفی اثرات سے مملکت کے عالمی گاہکوں کو تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔


ای پیپر