19 ستمبر 2019 2019-09-19

سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھنے والا، شہنشاہ ظہیرالدین بابر ہروقت نشے میں ڈوبا رہتا تھا، یا معجونیں کھاتا رہتا تھا، یہ بابر بادشاہ بھی سلطنت عثمانیہ کی عظیم الشان سلطنت قائم کرنے والے کی طرح جدی پشتی بادشاہ نہیں تھا، ان دونوں کے حالات، بلکہ امیر تیمور کے حالات زندگی میں بہت زیادہ مماثلت ہے، لیکن امیر تیمور کو یہ شرف حاصل تھا ، کہ وہ حافظ قرآن بھی تھا۔

ملوکیت کے بعد سے اب تک اسلامی بادشاہوں کا یہ وطیرہ ہے، کہ کسی کو مروا دینا، وہ اپنا استحقاق سمجھتے ہیں، اگرچہ وہ خون بہا دینے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں مگر وہ اس ترددمیں بھی نہیں پڑتے، سعودیہ کے صحافی خشوگی کی مثال آپ کے سامنے ہے، پتھر اور دھات کے زمانے سے لے کر بلکہ ہابیل قابیل کے وقت سے ہی ”کمزور“ مسلمان کی سزا موت کردی گئی ہے۔

کشمیر سے فلسطین، بیروت سے یمن تک کون سی ایسی مسلمان ریاست ہے کہ جو عدوان مسلمان کی دشمنیوں اور مکاریوں سے محفوظ ہواور آپس میں دست وگریباں نہ ہوں۔ قارئین یہ بات شاید آپ کے علم میں نہ ہو، اگر ہو بھی تو اس کا اعادہ اور تجدید ہو جائے گی، بے شک ظہیرالدین بابر تاریخ اسلام کی ان عظیم شخصیتوں میں سے بہت ممتاز ہے۔ جنہوں نے اپنی تقدیر خود بنائی تھی۔

بابر بادشاہ امیر تیمور کی چھٹی نسل میں سے تھا، اس کے باپ عمر شیخ مرزا فرغانہ کے بادشاہ تھے، اور یہ وراثت انہیں اپنے باپ سے ملی تھی ، مگر اس بادشاہت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے، کہ ان کی سلطنت اتنی سی تھی کہ جیسے ہمارے ایک چک یا تحصیل کی آبادی اور آمدنی ہوتی ہے، اور اس کا چودھری خان نمبردار یا وڈیرا ہوتا ہے، اس کا رقبہ بھی تحصیل کے برابر تھا، بلکہ اس سے بھی کم تھا۔ بابر کے اس چھوٹی سی سلطنت کا اقتدار سنبھالتے ہی اس کے دشمنوں نے جو اس کے اپنے ہی تھے، اس سے مسند اقتدار چھین لی، بس اس کے بعد بابر کو باوقار زندہ رہنے کے لیے ہزار دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا، کہ اس کا سرٹوپی سے محروم تھا، اور جسم پہ چیتھڑے لپیٹ لیتا تھا، بلکہ اس کے پاس جوتی بھی نہیں ہوتی تھی، اور وہ ننگے پاﺅں نوکیلی اور کنکریلی زمین پر چلتا تو اس کے پاﺅں لہولہان ہو جاتے اور بادشاہ بن کر وہ قلعے کی فصیلوں پہ ایک فوجی کو دائیں اور دوسرے کو بائیں ہاتھوں میں دبوچ کر دوڑ لگاتا رہتا تھا۔ اس کے بعد بابر بادشاہ کی یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی، کہ وہ دانستہ پہاڑوں، اور چٹانوں پر ننگے پاﺅں پھر تا اور دوڑ لگاتا رہتا، وہ خود بتاتا ہے کہ ایسا کرنے سے میرے پاﺅں اتنا پختہ ہو گئے تھے، لگتا تھا کہ یہ موٹے چمڑے کے بنے ہوئے ہیں اور راستے کی رکاوٹیں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھیں۔

قارئین یہ داستان حرب ظرب لکھنے کا مقصد یہ ہے، کہ ایک قصبے اور تحصیل جتنے رقبے کا مالک، جس سے وہ بھی چھین لی گئی تھی، اس نے نہ صرف وہ وراثت واپس لی، بلکہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور دلی پہ اپنا پرچم لہرایا، اپنی بدحالی، مفلسی اور غربت کے باوجود ظہیرالدین بابر نے اپنی عظمت وبزرگی کی عمارت آپ ہی کھڑی کی شاہراہ عظمت ونصرت پہ بکھرے نوکیلے آہنی کانٹے محض اور محض اپنی فراست، عقل مندی بصارت اور ”جذبہ صادق اور جذبہ مسلمانی “ سے جیتی ۔

اس نے نہ صرف اپنے ایک ایک دشمن کو اپنے سامنے جھکنے پہ مجبور کیا، بلکہ ایک ایسی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی، جو کابل وقندھار کے علاوہ جنوبی ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور وہ ڈھائی سوسال تک قائم رہی، اور اس نے صرف تاریخ ہندوستان میں بھی نہیں، دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم سلطنت کا نام پایا۔

ظہیرالدین بابر حکمرانی، اور انسان شخصی کمزوریوں کے باوجود اپنے رب اور رب کے حبیب سے شدید عقیدت رکھتا تھا، حتیٰ کہ اگر کسی بھی مرحلے پہ اسے کوئی بھی مشکل پیش آتی ، یا وہ بیمار ہو جاتا تو فوراً سجدہ ریز ہو جاتا ، ہمارے پیارے رسول کا بھی یہی طریق کار اور معمول تھا ظہیرالدین بابر نے لکھا ہے کہ ”یہ جمعے کا دن تھا اور صفر کی 23ویں تاریخ تھی جب مجھے محسوس ہوا کہ جسم میں حرارت ہوگئی ہے، یعنی بخار ہو گیا ہے، نماز جمعہ بڑی مشکل سے مسجد میں پڑھی، نماز پڑھنے کے بعد فوراً میںاپنے کتب خانے میں آپہنچا، کافی دیرتک طبیعت سخت بے چین رہی۔ دوسرے دن جاڑے سے بخار چڑھا، اور 27تاریخ تک کوئی افاقہ نہ ہوا، تو مجھے خیال آیا، کہ کیوں نہ قصیدہ بردہ شریف کے مصنف کی طرح میں بھی نعت کے کچھ اشعار رسول پاک کی شان میں لکھوں، تاکہ اس کے صدقے مجھے بھی بخار سے نجات مل جائے۔ اس نیت سے رسالہ نظم کرنا شروع کردیا، ان شعروں کا وزن، رمل مسدس ، مجنون ضرب اور مجنون مخذوف کے مطابق رکھا، اس وزن میں مولانا جامیؒ نے حضور کی نعت نظم کی ہے۔ پہلی رات تیرہ اشعار لکھے، اور پھر ہر رات کو دو،دو ، تین تین بیعت لازماً نظم کئے پچھلے سالوں میں جب بخار چڑھتا تھا، تو چالیس چالیس دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا، مگر اس سال خدا کی مہربانی اور حضرت خواجہ کی برکت سے بخار 29ویں تاریخ کو ہی ٹوٹ گیا، اور صحت نصیب ہوگئی۔

اب کشمیر کے حالات کو حالیہ تناظر میں دیکھتے ہوئے آدھے گھنٹے کی خاموشی کرلینے اور ٹریفک جام کر دینے پر قوم کی جس جذبے، یگانگت اور یکجہتی کا شاندار مظاہرہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے جمعے کو دونوافل ”صلوٰة الحاجات“ پڑھنے کی اپیل بھی کی جاسکتی ہے۔ ورنہ ٹرمپ کا یہ بےوقوفانہ سوال کہ جو اس نے مودی سے کیا تھا، کہ کشمیر میں حالات کیسے ہیں، اس نے جواب دیا کہ کشمیر میں حالات کنٹرول میں ہیں، ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے ، جن کے دلوں پہ اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے کہ جس شہر میں آپ ہرگھرکے دروازے پر مسلح فوجی کھڑے کردیں اور پھر وہاں حالات کنٹرول میں نہیں ہوں گے؟۔

دنیا کی تاریخ ظلم وجبر میں آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا، جو مودی نے ظلم ڈھایا، اس کی مثال ہٹلر ، مسولینی، اور ہلاکو، چنگیز کی تاریخ بادشاہت میں بھی نہیں ملتی، مظلوموں کا خون ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتا ہے، اسرائیل کے شمعون جس نے مودی کی طرح فلسطینیوں پہ ظلم ڈھائے تھے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے فرعون کی طرح داستان عبرت بنادیا تھا، اور وہ کئی سالوں پر بستر پہ بے ہوش پڑا رہا تھا جس کو کروٹ لینے کی بھی طاقت نہیں رہی تھی، اور نہ اٹھنے اور آنکھیں کھولنے کی طاقت اور اجازت اللہ نے نہ دی، اور وہ سسک سسک کر جہنم رسید ہوگیا تھا۔

قارئین ہندوستان کے بارے میں ظہیرالدین بابر لکھتا ہے، اور یہی بات ہندوستان پہ چڑھائی کرنے والے دیگر بیرونی حکمران مثلاً امیر تیمور وغیرہ نے بھی لکھی ہے، اور یہی بات راقم نے بھی محسوس کی ہے، کہ بیرون ملک سے ہم جب بھی واپس ایئرپورٹ پر اترتے ہیں، تو ایک ان جانی اور کثیف وفضا محسوس ہوتی تھی، اور ہوا میں وہ لطافت، اور بلکہ طہارت بھی مفقود ہوتی ہے کہ جو وباءسے خالی ہو، اس کے موسموں کے بارے میں ان بادشاہوں نے اپنی داستانوں میں لکھا ہے کہ یہ وہاں کے انسانوں کے طرح ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔

ناظرین اگلی دفعہ میں کشمیر پہ پھر لکھوں گا ، مگر اس وقت یہ سوال میرے ذہن میں ابھرتا ہے کہ جذبہ مسلمانی سے بھرپور ایک نہتا اور ننگ دھڑنگ شخص ظہیرالدین بابر دلی کے پایہ¿ تخت کو تخت وتاراخ کرسکتا ہے کیا ہم جذبہ جہاد کا نعرہ لگانے والوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ ہمارے حکمران یہ کہیں کہ تو پھر کیا میں بھارت پر حملہ کردوں ؟ یہ کسی ماہر نفسیات سے پوچھیں کہ اس جواب کا کیا مطلب ہے یا ہمارے سپہ سالار سے پوچھیں جو عید بھی سرحدوں پہ فوجیوں کے ساتھ مناتے ہیں۔


ای پیپر