19 ستمبر 2019 2019-09-19

یہ گرد کافی حدتک بیٹھ گئی ہے، سازشی ٹولہ اپنے منافقانہ ہتھیاروں سمیت اب پیچھے ہٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے، پولیس تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی مذمت میں چند ذمہ دار پولیس افسروں اور اہل کاروں پر لعنت بھیجنے کے بجائے میڈیا اور سوشل میڈیا پہ پورے ادارے (پولیس) کو بدنام کرکے اُسے مزید تباہ کرنے کا عمل انتہائی خوفناک تھا، اِس کے من پسند نتائج حاصل نہ ہوسکے، البتہ ایک نقصان ضرور ہوا آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان نے بڑی مشکل سے جو پولیس مورال بلند کیا تھا وہ ایک بار پھر تباہ ہوکر رہ گیا، اب انہیں نئے سرے سے کوششیں کرنا پڑیں گی۔ سازشی ٹولے کا خیال تھا آئی جی پنجاب پر دباﺅ ڈالنے کا ان کا تازہ ترین حربہ شاید کامیاب ہو جائے۔ ایک کرپٹ بدنیت اور اپنے عہدے سے تمام تر بے عزتی کے باوجود چمٹے رہنے والا پولیس افسر (آئی جی )اپنا تبادلہ رکوانے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے، اس مقصد کے لیے میں نے بڑے بڑے نامور پولیس افسروں کو سیاسی واصلی حکمرانوں کے پاﺅں میں گرے ہوئے دیکھا ہے۔ البتہ نیک نیت، دیانتدار اور عزت آبرو کو ہرحال میں مقدم رکھنے والے افسروں کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ سوآئی جی پنجاب عارف نواز خان اپنے تبادلے کی خبروں پر نہ پریشان ہوئے، نہ ہی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت تھی، جس عہدے پر وہ دوبارہ فائز رہے، اب بھی ہیں، جس عہدہ پر سوائے عزت آبرو کے انہوں نے کچھ نہیں کمایا اُس عہدے کی گریس کو ہرحال میں برقرار رکھنے کی مجھے یقین ہے وہ پوری کوشش کریں گے، اِس ضمن میں وہ کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، عزت ایک بار چلی جائے کبھی واپس نہیں آتی، موجودہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے چار آئی جیز کو پنجاب میں اب تک تبدیل کیا جاچکا ہے۔ پانچویں آئی جی کو تبدیل کرکے اپنے پاﺅں پر کلہاڑا مار کر اپنی ساکھ کو مزید زخمی یا داغدار کرنے کے عمل سے سیاسی حکمران اُمید ہے گریز ہی کریں گے۔ روز روز کی اُکھاڑ پچھاڑ سے موجودہ نیم سیاسی حکمرانوں کے خلاف بیوروکریسی میں غم وغصہ یا نفرت بڑھتی جارہی ہے، شاید یہی وجہ ہے اِس حکومت کا کوئی کام سنور نہیں رہا، موجودہ نیم سیاسی حکمران خود اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے شدید خواہش مند ہیں لیکن مختلف محکموں میں اپنے ہی لگائے ہوئے افسروں پر اُن کے اعتماد کا عرصہ زیادہ سے زیادہ دوچار ہفتے ہی ہوتا ہے، افسروں کی اُکھاڑ پچھاڑ میں اس حکومت نے تاریخی ریکارڈ قائم کیے ہیں، .... میرا جی چاہتا ہے کسی روز وزیراعظم کو اُن کے اور مشترکہ پسندیدہ دانشور بابے اشفاق احمد مرحوم کا یہ واقعہ سناﺅں۔ ”وہ ایک سڑک پر گزرتے ہوئے ٹریفک کے بند اشارے پر رُکے، اس دوران وہ وہیں کھڑے کھڑے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے، سگنل کی بتیاں لال پیلی ہری ہوتی رہیں مگر وہ وہیں رُکے رہے، کچھ دیر بعد ایک کانسٹیبل اُن کے پاس آیا اور اُن کی گاڑی کا شیشے کھٹکھٹاتے ہوئے بولا ” چاچا تینوں بتی دا کوئی وی رنگ پسند نئیں آریا ؟“.... میں سوچ رہا ہوں میں بھی کسی روز اپنے محترم دوست وزیراعظم سے یہ پوچھوں ” چاچا تینوں کوئی وی افسر پسند نئیں آریا ؟“ .... مجھے لگتا ہے یہ تربیت اُنہوں نے خود کو اقتدار میں لانے والوں سے لی ہے، اُنہیں بھی کوئی سیاسی حکمران پسند نہیں آتا، سوائے اُس کے جو اُن کا غلام بن کر رہے۔ پہلے بڑے چاﺅ سے اپنے من پسند سیاستدان کو وہ لے کر آتے ہیں، کچھ عرصے بعد اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے اُس ”بت “ کے خلاف سازشیں شروع کردیتے ہیں، ایک خاص پلاننگ کے تحت اُسے بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں، کبھی کسی کی مالی کرپشن کو سامنے لے آتے ہیں، اور اب خدشہ یہ ہے کوئی ”اخلاقی کرپشن“ سامنے نہ لے آئیں، .... بہرحال ہماری تو خواہش ہے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرتے رہیں، دوسروں کے چھابے میں ہاتھ مارنے کا عمل کسی صورت میں لائق تحسین نہیں ہوتا نہ کبھی اس کے نتائج اچھے نکلتے ہیں،.... جہاں تک پنجاب پولیس کے خلاف اپنی موت آپ مرنے والی حالیہ سازشوں کا تعلق ہے میرے لیے اُس میں حیرانی یہ تھی جب پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پورا انصاف مل رہا ہے، اُس کے ذمہ دار اہل کاروں کے خلاف اُنہی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہو چکیں جن دفعات کے تحت کوئی عام آدمی یہ جرم کرے تو اُس کے خلاف درج ہوتی ہیں، اُنہیں فوری گرفتار بھی کرلیا گیا، اُن کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کردی گئی، اس کے باوجود میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری طورپر پنجاب پولیس کو گندہ کرنے کی سازش کون کررہا ہے ؟ جو حقائق میرے نوٹس میں آئے میں اس ملک کو چلانے والوں کے لیے دعا ہی کرسکتا ہوں اللہ اُنہیں ہدایت دے، آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان ایک نیک نیت انسان ہیں، پولیس میں اُن کا کوئی گروپ نہیں، اُن کا گروپ پوری ”پنجاب پولیس“ ہے۔ نہ ہی دولت مندوں، صنعت کاروں اور پراپرٹی ڈیلروں کے ساتھ اُن کے ذاتی مراسم ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف اللہ کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیتا، سازشیوں کو مگر سکون نہیں ملتا ۔وہ اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں، میری اطلاع کے مطابق آئی جی پنجاب لگنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین اور بے قرار آئی جی کے پی کے تھے، اُن کی خواہش تھی، بلکہ اب بھی شاید ہوگی پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ اُن کے ” سپرد خاک“ کردیا جائے، وہ اپنے ”پٹھان “ ہونے کا ہر جائز ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں، ممکن ہے مستقبل میں پٹھان پسند وزیراعظم کو کوئی ”رام کہانی“ سناکر وہ رام کرلیں، مگر اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں نکلے گا کہ تھوڑی بہت خود ساختہ کامیابی جو بطور آئی جی کے پی کے جناب نعیم خان کو ملی ہوئی ہے اُس سے بھی محروم ہوجائیں ۔ اُن کی خدمت میں گزارش ہے وہیں رہیں جہاں کی وہ خاک ہیں، .... آئی جی بلوچستان جناب محسن حسن بٹ کے آئی جی پنجاب لگنے کی افواہیں بھی بڑی گرم رہیں، مجھے ان میں کوئی صداقت اس لیے محسوس نہیں ہوئی کہ اس خدشے کے تحت اُنہیں کسی صورت میں بھی آئی جی پنجاب نہیں لگایا جاسکتا کہ کہیں وہ کشمیریوں کی نانی سانجھی “ کے قول کے مطابق بطور آئی جی پنجاب سابقہ کشمیری شریف حکمرانوں کو کوئی فائدہ ہی نہ پہنچانا شروع کردیں، پولیس میں کم ازکم مجھے اُن کی ”اہلیت“ صرف یہ نظر آتی ہے وہ انتہائی خوبصورت انسان ہیں، میرے خیال میں اچھی تقرریوں کے لیے اس اہلیت کو ہرگز پیش نظر نہیں رکھا جاتا ورنہ ہمارے پیارے بھائی فاروق مظہر (ایڈیشنل آئی جی ٹریفک) پنجاب کو کبھی اچھی پوسٹنگ نہ ملتی۔ .... آخر میں آئی جی پنجاب سے صرف اتنی گزارش ہے پولیس تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو پورا انصاف ملنا چاہیے۔ جو پولیس افسران واہل کار جتنے قصور وار ہیں قانون کے مطابق اُنہیں سزادلوانے کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جانی چاہیے، ساتھ ہی ساتھ اُنہیں یہ خیال بھی رکھنا پڑے گا محض میڈیا اور سوشل میڈیا کے پریشر میں کوئی بے گناہ نہ مارا جائے، جان اللہ کو دینی ہے میڈیا یاسوشل میڈیا کو نہیں دینی!!


ای پیپر