مکھی پر مکھی
19 ستمبر 2018 2018-09-19

مجھے پاکستان کے ایک کے بعد دوسرے وزیر خزانہ کی بجٹ تقاریر سنتے تقریباً 45 سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔۔۔ 1966ء میں جب فیلڈ مارشل ایوب خاں کا دور عروج پر تھا میں ایف سی کالج لاہور میں بی اے کے آخری سال کا طالب علم تھا۔۔۔ اکنامکس، پولٹیکل سائنس اور انگریزی لازمی مضمون تھے۔۔۔ تب محمد شعیب وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے۔۔۔ ان کی بجٹ تقریر پہلی تھی جو میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے بڑی توجہ اور انہماک کے ساتھ ریڈیو پر سنی۔۔۔ اگلے روزکالج گیا۔۔۔ ہمارے اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر ریٹلف تھے۔۔۔ انہوں نے کلاس کے طلباء سے پوچھا کس کس نے تقریر سنی ہے چند نے ہاتھ اٹھائے میں ان میں بھی شامل تھا۔۔۔ پروفیسر صاحب کا اگلا سوال تھا تم میں سے کسی نے تقریر کے نوٹس بھی لیے ہیں۔۔۔ صرف ایک نے ہاتھ کھڑا کیا۔۔۔ امریکی پروفیسر نے سرزنش کے انداز میں کہا اس کا مطلب ہے پوری کلاس میں سے صرف ایک نے تقریر سنی ہے۔۔۔ میں نے کہا سر میں نے اس لئے ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ معلوم تھا صبح بجٹ کے تمام بنیادی نکات اور ضروری تفصیلات اخبارات میں شائع ہو جائیں گی۔۔۔ اس پر پروفیسر صاحب مزید ناراض ہوئے اور ہمیں باور کرانے کی کوشش کی جس طرح اخبارات والوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی تقریر کے نوٹس لیے ہوں گے اور پھر انہیں ایک تفصیلی خبر کی شکل میں ڈھال دیا اسی طرح اکنامکس کے طالب علم کی حیثیت سے آپ سب کا فرض تھا اپنے انپے نوٹس تیار کرتے۔۔۔ انہیں کلاس میں لا کر نکتہ بہ نکتہ آپس میں اور میرے ساتھ بحث کرتے اس کے بعد میں سمجھتا آپ سب نے واقعی تقریر سنی ہے اور اکنامکس کی گریجوایٹ کلاس کا طالب علم ہونے کا حق ادا کیا ہے۔۔۔ ہمیں کچھ کچھ ندامت محسوس ہوئی۔۔۔ مگر ہمارا ایک طالب علم جو نسبتاً ذہین اور قدرے شرارتی بھی تھا۔۔۔ سب کے ریمارکس سے محظوظ ہوا کرتے تھے بیباکی کے ساتھ بولا۔۔۔ سر وزیر خزانہ محمد شعیب نے بھی تو تقریر کا بنیادی ڈھانچہ ورلڈ بینک کی ہدایات کے تحت تیار کیا ہو گا۔۔۔ وہ اس کے نائب صدر رہے ہیں اور ہماری ساری معیشت کا انحصار امریکہ سے ملنے والی امداد پر ہے۔۔۔ اس پر پروفیسر صاحب تو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ کہہ کر Well it is your country خاموش ہو گئے لیکن ہم طلباء سے کوئی بات نہ بنی۔۔۔ یہ 1966ء کی بات ہے۔۔۔ اعلان تاشقند ہو چکا تھا۔۔۔ بھٹو نے ابھی وزارت خارجہ سے استعفیٰ نہیں دیا تھا لیکن فیلڈ مارشل کے ساتھ اس کے اختلافات پورے ملک کے اندر زبان زد عام ہو چکے تھے۔۔۔ یہ بات بھی مشہور تھی کہ ایوب کابینہ کے اندر دو گروپ ہیں۔۔۔ ایک امریکہ نواز جس کی نمائندگی محمد شعیب کرتے ہیں۔۔۔ دوسرا سامراج مخالف ذوالفقار علی بھٹو جس کے ترجمان ہیں۔۔۔ اسی برس بھٹو صاحب استعفیٰ دے کر باہر آ گئے۔۔۔ سال ایک کے اندر محمد شعیب بھی ورلڈ بینک واپس چلے گئے اور پرانا عہدہ سنبھال لیا۔۔۔ پاکستان میں ان کی جگہ این ایم عقیلی نام کے ایک صاحب نے لے لی۔۔۔ جن کی حیثیت ایک مالیاتی کلرک سے زیادہ نہ تھی۔

ایوب خاں کی آمریت دس سال گزارنے کے بعد عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو گئی۔۔۔ جنرل یحییٰ کے نئے مارشل لاء نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔ اس زمانے میں پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بہت طاقتور عہدیدار سمجھا جاتا تھا۔۔۔ مرزا غلام احمد کے پوتے ایم ایم احمد اس کے منصب دار تھے۔۔۔ جنرل یحییٰ کے وزیر خزانہ کی ذمہ داری بھی عملاً ان کے پاس تھی۔۔۔ یحییٰ دور کا بجٹ انہوں نے ہی تیار اور پیش کیا۔۔۔ ایم ایم احمد بھی محمد شعیب کی مانند امریکی اداروں کے تربیت یافتہ اور عقیدے کے لحاظ سے کہیں زیادہ وفادار تھے۔۔۔ ان کے اور محمد شعیب کہے پیش کردہ بجٹوں میں جوہری کیا الفاظ اور جملوں کا فرق بھی نہ ہوتا تھا۔۔۔ اس کے بعد بھٹو کی انقلابی حکومت آئی۔۔۔ ڈاکٹر مبشر حسن وزیر خزنہ بنے۔۔۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے۔۔۔ بھٹو نما سوشلسٹ انقلاب کے نمائندہ تھے۔۔۔ پاکستان کی کرنسی میں اڑھائی سو فیصد کمی کر ڈالی۔۔۔ اس کے جو مثبت یا منفی اثرات ہماری معیشت پر پڑے ان پر بحث کا یہ موقع نہیں۔۔۔ مگر اس کے علاوہ اور بھٹو صاحب کے مابعد چار سالوں میں پیش کئے جانے والے بجٹوں کا ڈھانچہ محمد شعیب کی استوار کی گئی بنیادوں سے زیادہ مختلف نہ تھا۔۔۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے اسلامی مارشل لاء نے وطن عزیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ ان کے گیارہ سالوں میں زیادہ تر پاکستان کی تاریخ کے ایک موثر ترین بیوروکریٹ غلام اسحق خان بجٹوں کی تیاری اور انہیں پیش کرنے کی ذمہ داری پر مامور تھے۔۔۔ جونیجو کے ایک دو سالوں میں ایک مشہور معیشت دان محبوب الحق نے 

کچھ کچھ تخلیقی جوہر دکھانے کی کوشش کی۔۔۔ ایوب عہد کے بارے میں یہ مشہور جملہ کہ تمام دولت بائیس خاندانوں میں سمٹ آئی آئی ہے غالباً انہی کی زبان سے نکلا تھا۔۔۔ مگر اس سے زیادہ بجٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔۔۔ پھر بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت آئی انہیں ’’کہیں‘‘ سے اشارہ ملا کہ اے بی ایم جعفری کو وزیر خزانہ بنائیں۔۔۔ مرحومہ کو ان سے ملنے کا اتفاق بھی اپنی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ہوا وہ جیسا کچھ بجٹ لائے محمد شعیب کے تیار کردہ نسخوں کی تیسری یا چوتھی کاربن کاپی سے زیادہ درجے کانہ تھا۔۔۔ پھر نوازشریف کا عہد شروع ہوا۔۔۔ ان کے تینوں ادوار میں سرتاج عزیز اور اسحاق ڈار صاحبان مالیاتی دماغوں کی خدمات سرانجام دیتے رہے اس درمیان میں ایک اور فوجی غاصب جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارا۔۔۔ شوکت عزیز جیسا ساری عمر امریکی بینکوں کی ملازمت میں گزارنے والا ’تحفہ‘ بطور وزیر خزانہ دساور سے منگوایا مابعد اسے وزیراعظم کے طور پر بھی مسلط کیا۔۔۔ ان تمام وزرائے خزانہ نے جو اور جیسے بجٹ پیش کئے ان سے معیشت کے اندر کیا اور کیسی تبدیلی آئی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے ہر بجٹ تقریر میں کم از کم محمد شعیب سے لے کر آج تک ایک ہی راگ الاپ جاتا رہا ہے۔۔۔ ایک ہی شربت شفا تھا جو قوم کو بار بار پلایا گیا۔۔۔ جو ہمیشہ کسی جعلی طبیب کی دوا ثابت ہوا۔۔۔ ہر مرتبہ وہی پرانی شراب ہوتی تھی جو نئے لیبلوں سے آویزاں بوتلوں میں بھر کر پیش کی جاتی تھی۔۔۔ یہ کہ ہمارا بجٹ خسارہ بہت ہے اس میں خاطر خواہ کمی لانی ہے۔۔۔ غیرملکی امداد اور قرضوں کے بوجھ سے دبے چلے جا رہے ہیں ان سے نجات حاصل کرنی ہے۔۔۔ درآمدات اور برآمدی بلوں کے اندر بہت زیادہ تفاوت پایا جاتا ہے۔۔۔ اسے پورا کئے بغیر معیشت کو سنبھالا نہیں دیا جا سکتا۔۔۔ ٹیکس غیرمعمولی طور پر کم مقدار میں جمع ہوتے ہیں۔۔۔ اس کی بنا پر قومی خزانہ خالی رہتا ہے۔۔۔ ہم براہ راست ٹیکس وصول کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ خوشحال لوگ ادا نہیں کرتے اس لیے بالوابطہ ٹیکسوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اب ہم انہیں راہ راست پر لانے کے لئے نئے منصوبے شروع کرنے والے ہیں۔۔۔ نت نئی ترغیبات دی جائیں گی اور انہیں قومی فریضے سے آگاہ کیا جائے گا۔۔۔ قوم اس سال تکلیف برداشت کر لے آئندہ ٹیکس نیٹ کو اتنا وسیع کردیا جائے گا کہ اشیاء ضرورت پر ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ رہے گی۔۔۔ ہماری مجموعی قومی پیداوار (GDP TATE) کا تناسب مایوس کن حد تک تھوڑا ہے۔۔۔ اب جو ہماری حکومت آئی ہے تو قوم کو دو تین سال تک انتظار کرنا ہو گا۔۔۔ اسے اس حد تک بڑھا لے جائیں گے اور قومی پیداوار میں اتنا اضافہ کر لیں گے کہ معیشت ہماری کے تمام دلدّر دور ہونا شروع ہو جائیں گے۔۔۔ صنعتوں کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہمارے اقتصادی پروگرام کا لازمی حصہ ہو گا۔۔۔ اس کے بارے میں تساہل نہیں برتیں گے اور زراعت کے شعبے کو بھی ہرگز نظرانداز نہیں کریں گے۔۔۔ فضول خرچیاں جو ہم سے پچھلی حکومت کرتی رہی رہی ان سے مکمل اجتناب برتا جائے گا۔۔۔ قومی خزانے کے ایک ایک پیسے کو امانت کے طور پر استعمال میں لایا جائے گا۔۔۔ آپ تھوڑا سا وقت نکال کر محمد شعیب کے زمانے سے لے کر آج تک کی تمام بجٹ تقریریں نکال کر دیکھ لیجیے اس ایک مضمون کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔۔۔ کولہو کا ایک بیل گھومتا ہوا نظر آئے گا۔معیشت پاکستان کی وہیں کی وہین کھڑی ہے۔ وقتی تبدیلیوں کے ماسوا بڑا اور بنیادی فرق نہیں پڑا۔ 

اب جو عمران خان تبدیلی کا گھن گرج والا نعرہ لے کر وزیراعظم پاکستان بنے ہیں۔۔۔ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں یہاں تک کہ بھینسوں کی بھی نیلامی کی جا رہی ہے۔۔۔ خود دس بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر گھر سے دفتر آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر پر اڑتے ہیں۔۔۔ انہوں نے منصب سنبھالنے سے پہلے قوم کو مخمور کر رکھا تھا کہ ایوان ہائے اقتدار میں قدم رنجا ہوتے ہی ملک کے اقتصادی و معاشی ڈھانچے کو ایسی انقلابی اور دوررس نتائج کی حامل تبدیلیوں سے روشناس کرا دیں گے کہ خوشحالی یک دم عام آدمی کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دے گی۔۔۔ جسے نوازشریف نے نظرانداز کیااور بلاوجہ میگاپراجیکٹ بنائے۔۔۔ مراعات یافتہ طبقات کو آن واحد میں ملیامیٹ کر کے رکھ دیا جائے گا۔۔۔ چھوٹے بڑے اور امیر غریب کی تمیز ختم ہو جائے گی۔۔۔ کسی سے قرضوں کی بھیک ہرگز نہ مانگیں گے۔۔۔ خزانہ بھرنے کی خاطر کسی کے در پر حاضری نہ دیں گے۔۔۔ ہمیں حکومت میں آ لینے دیجیے کشکول نہ صرف توڑ کر رکھ دیں گے بلکہ ہر ایک کو ٹوٹتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ ایسی فلاحی اور رفاہی مملکت بنا ڈالیں گے کہ ریاست مدینہ کی جانفزا اور ایمان افروز ہوائیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔۔۔ اسی خاطر ہم نے اسد عمر جیسے نابغہ روزگار ماہر معاشیات کو روزاول سے اپنا ساتھی بنا رکھا ہے۔۔۔ اس نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔۔۔ عالمی سطح پر پہچان رکھنے والے غیرمعمولی درجے کے مالی ماہرین کی خدمات اسے حاصل ہوں گی پھر دیکھیے گا ہماری حکومت آن واحد میں کیا رنگ جماتی ہے۔۔۔ ایک ماہ بعد پہلا منی بجٹ پیش ہوا ہے۔۔۔ اسد عمر صاحب نے مگر پہلی بجٹ تقریر میں وہی مکھی پر مکھی ماری ہے۔۔۔ ان کے ایک ایک لفظ اور جملے سے محمد شعیب کی روح پکار پکار کر کہہ رہی تھی میرا نیا جنم دیکھو۔۔۔ کیا ٹیکس لگائے ہیں، مہنگائی کے نئے طوفان کی نوید سنائی ہے اور NON FILERS کو حیات نو بخش دی ہے۔۔۔ نواز عہد کے دھونے دھوئے جا رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے اگر پراپرٹی کے ناجائز کاروبار وغیرہ کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہمارے زمانے کے STATUSQUO کے ساتھ اسد عمر کی وابستگی نے کیا جوہر دکھایا ہے۔۔۔ مزید قرضے لیے جائیں گے۔۔۔ آئی ایم ایف اور دیگر سے بھی! پہلے قدم قدم پر امریکہ کے حضور حاضری دی جاتی تھی۔۔۔ وہ افغانستان کی وجہ سے قدرے ناراض ہے تو کیا ہوا۔۔۔ چین اور سعودی عرب کہیں نہیں گئے ہوئے۔۔۔ انہوں نے نواز حکومت کی بہت مدد کی تھی ہماری کیوں نہ کریں گے۔۔۔ مانا بھاشا ڈیم کی شروعات نوازحکومت نے کی تھیں۔۔۔ 122 ارب ڈالر خرچ کر ڈالا تھا۔۔۔ اب ہم نے چھین لیا ہے۔۔۔ چیف جسٹس کے ساتھ مل کر اس کی OWNER SHIP لے لی ہے پیسے چونکہ ہمارے پاس نہیں چندہ اکٹھا کر لیں گے۔۔۔ ’سی پیک‘ امریکہ اور بھارت کو ایک نظر نہیں بھاتا۔۔۔ ہم نے بھی سیٹھ رزا ق داؤد کو کہ اس کا چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری CONFLICT ہے وزیر تجارت بنا کر امریکیوں کو چھوٹا سا پیغام تو دے دیا ہے لیکن مجبوری یہ ہے موجودہ مرحلے پر چین کے ساتھ ہرگز نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔ سی پیک کے تحت نواز عہد کے ترقیاتی منصوبوں کی صف لپیٹ کر رکھ دینا چاہتے ہیں ایسا ہو نہیں پا رہا۔۔۔ اب سعودی عرب کو بیچ میں لا رہے ہیں کہیں تو شنوائی ہو گی۔۔۔

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا


ای پیپر