ریلیف نہیں تکلیف 
19 ستمبر 2018 2018-09-19

بجلی سے لیکر گیس،روٹی سے لیکر گاڑیاں،سگریٹ سے لیکر کھاد،ایل پی جی سے لیکر سیل فون ہر چیز مہنگی۔اوپر سے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کمی ۔

عوام کو ایسی توقع تو ہر گز نہ تھی۔ ایسا تو نہیں سوچا تھا ووٹر نے کہ اس پر بیٹھے بٹھائے اچانک مہنگائی کا ایسا بم گرا دیا جائے گا۔ عوام نے تو سوچا ہو گا کہ کوئی آؤٹ آف باکس حل تلا ش کیا جائے گا۔ ان کو ریلیف ملے گی۔ ایسا تو نہ ہوا۔ ریلیف کی بجائے الٹی تکلیف مل رہی ہے۔ ایسا مایوس کن منی بجٹ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔پانچ سال عوام الناس تقریریں سنتے رہے۔دھرنوں میں ناچتے گاتے رہے۔ اور اس دن کے منتظر رہے کہ جس کے خاتمے کا وعدہ تھا۔ ویسا ہی دن جس کے متعلق کسی شاعر نے کہا تھا کہ دن گنے جاتے ہیں، اس دن کیلئے۔وہ دن آیا اور گزر گیا۔ خوب جشن منائے گئے۔ نوافل پڑھے گئے۔سابق حکومتوں کو خوب گالیاں دی گئیں۔ ماضی کی حکومتوں کو چور، خائن، غدار لغت میں موجود ہر الزام،طعنہ دیدیا گیا۔ وطن عزیز میں یہ فارمولہ برسہابرس سے سکہ رائج الوقت کی طرح لاگو ہے۔ بس ایک بیان داغا اور گلو خلاصی ہو گئی۔ پانچ سالوں میں ہم کم علموں کوتاہ بینوں،کم عقلوں کو بتایا گیا کہ 200 افراد کی ٹیم تیارہے۔ جناب اسد عمر کہ پاکستان کے عالی دماغ فرزند ہیں۔ دن رات،صبح شام کاغذ قلم لیے عوام کی خوشحالی کے فارمولے مرتب کرتے ہیں۔ آ خر کار معلوم تاریخ میں پاکستان کے سب سے زیادہ تنخواہ پانے والا بزنس ایگزیکٹو ہیں۔ بس ٹیک اوور کرنے کی دیر ہے۔ سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔ہم بھی منتظر تھے۔گو علی الاعلان یہ بھی کہتے ہیں کہ شہری اور ووٹر کے طور پر تحریک انصاف کے ہر گز حامی نہ تھے۔ووٹ بھی نہیں ڈالا کہ اس روز صحافتی ذمہ داریاں اپنے شہر سے اٹھا کر ساحل سمندر کے کنارے کراچی لے گئیں۔ پی ٹی آئی پاپو لر سیاسی جماعت ہے۔ اس کو ہمارے ووٹ کی ایسی ضرورت بھی نہیں ۔ لیکن بہر حال پی ٹی آئی کو کروڑوں لوگوں نے ووٹ دیے۔ہمیں نہ سہی ان کو تو امیدیں تھیں۔ کیونکہ باور تو یہی کرایا گیا تھا کہ انتخابات انعقاد ہونے کی دیر ہے سب کچھ بدل جائے گا۔ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی فوری طور پر ٹکٹیں کٹا ئیں گے اور اپنے اثاثوں سمیت وطن واپس لوٹ ا ?ئینگے۔ بیرون ممالک کے سر مایہ کار خطہ کے کیا یورپ تک کے ممالک سے اپنی رقوم نکال کر پاکستا ن میں سرمایہ کاری کریں گے۔ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ وزیر اعظم،صدر، وزرائے اعلیٰ اور گورنر صاحبان سائیکلوں پر سفر کرتے نظر آئینگے۔سڑکوں پر ٹریفک کو بلاک نہیں کیا جائے گا۔ حکومتی وی وی آئی پی شخصیات عام لوگوں کے ہمراہ مارکیٹوں سے شاپنگ کرینگے۔ بعض معاملات میں 

ایسا ہی ہوا۔سادگی مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ سڑکوں پر ٹریفک بلاک تو ایک طرف رہی حکمرانوں کا سڑکوں سے تعلق ختم کر دیا گیا۔ اب وہ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ خیال تھا کہ کفایت شعاری مہم کے ساتھ نقصان، خسارہ میں جانے والے سرکاری اداروں کو نجی تحویل میں دیدیا جائے گا۔لیکن خسارے کا شکار یونٹس تو ابھی تک قومی خزانہ پر بوجھ بن کر لدے ہوئے ہیں۔ فی الحال باری نصف درجن بھینسوں اور سال خوردہ گاڑیوں کی ہی آتی ہے۔ بھینسوں کی ملکیت کا تو ابھی تک تعین نہیں ہوا۔ البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا کہ وہ فروخت کر دی جائینگی۔ قومی خزانہ پر اس سودے کے کتنے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ تو وقت بتائے گا۔اسی طرح 62 گاڑیاں فروخت ہو گئی ہیں۔مالیت جن کی ایک ارب کے قریب تھی۔حاصل وصول اب تک اٹھارہ کروڑ ہی ہوئے ہیں۔ باقیماندہ گاڑیاں فی الحال گاہکوں کی منتظر ہیں۔یہاں تک تو معاملہ سمجھ آتا ہے۔ خاکسار کو تو صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے جہاز، ہیلی کاپٹر،حفاظتی گاڑیوں کے کانوائے پر کوئی اعتراض نہیں ۔ان کے پروٹوکول اور حفاظتی طریقہ کار کا تقاضا ہے کہ ممکنہ حد تک احتیاط کی جائے۔ یہ فروغی اور ثانوی باتیں ہیں۔ اصل سوال یہ تھا اور آج بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کیلئے کتنی اور کیسے ریلیف دیتی ہے۔ کیونکہ ہمیں تو یہی بتایا گیا تھا کہ سابق حکومتوں کو عوامی مفاد سے کوئی غرض نہیں ۔ہم سے تو وعدہ کیا گیا تھا کہ بس نوے روز مزید۔ زیادہ نہیں ۔ لیکن وہ نوے دن سو ہوئے۔ پھر سو سے مزید آگے بڑھے۔ اب قائد محترم کہتے ہیں کہ دو سال دیں۔ پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ نواز شریف کو الیکشن میں کامیابی 11 مئی2013 کو ملی حکومت سازی میں مزید تین ہفتے۔آخر کار نواز شریف نے 2 جون کو حلف اٹھا یا۔ سٹیٹ بنک کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ پاکستان کے پاس 6 ملین ڈالر کے زر مبادلہ ذخائر تھے۔ فوری طور پر کوئی تقریباً تین بلین ڈالر گردشی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو گئے۔باقی رہ گئے تین ارب ڈالر۔ان مٹھی بھر ڈالروں سے ملک کیسے چلتا۔ لیکن چونکہ نواز شریف نہایت نااہل شخص تھا۔لہٰذا اس نے کوئی واویلا نہ کیا۔ بجلی کی شدید کمی تھی۔ امن و امان کی صورتحال خراب تھی۔ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن ایسا نا اہل وزیر اعظم تھا کہ پیسے نہ ہونے کے باوجود بجلی کی پیداواری شروع کر دی۔ پانچ سالوں میں ساڑھے تین سال ملے اور12 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لی۔ کوئی اٹھارہ سو کلو میٹر موٹر ویز تعمیر کر لی۔ سی پیک کا آغاز ہو گیا۔ ہسپتال، یونی ورسٹیاں بنیں۔ ڈالر مستحکم رہا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ پھر نہ جانے دو سالوں میں کیا ہوا وہ ملک جس کی معاشی ترقی کی گواہی بین الا قوامی ادارے دے رہے تھے۔ جس کو ’’نیکسٹ الیون‘‘ ممالک میں شمار کیا جا رہا تھا۔وہ اچانک خسارے کا شکار ہو گیا۔ نئی حکومت تو کہتی ہے کہ اس کے پاس ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں ۔ اب ڈیم بنانے کیلئے چندہ اور فلمیں،ڈرامے بنانے کیلئے بھی ڈونیشن۔ جبکہ سٹیٹ بنک کہتا ہے کہ گزشتہ حکومت 17 بلین ڈالر کا زر مبادلہ خزانے میں چھوڑ کر گئی۔ 

اب صورتیں دو ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض۔ دوست ممالک سے امدا د۔ اور بین الاقوامی چندہ مہم۔ آئی ایم ایف کے پاس جلد یا بدیر جانا پڑے گا۔ وزیراعظم دورہ سعودی عرب پر ہیں۔ نومبر میں شائد چین بھی جائیں۔ یہ دونوں ممالک یقینی طور پر مددکو آئینگے۔ ڈیم کیلئے چندہ مہم کا رسپانس نہایت واجبی سا ہے۔ اوور سیز پاکستانیوں کو اور کتنا نچوڑیں گے۔ وہ تو اپنا ووٹ رجسٹر کرانے کیلئے تیار نہیں ۔ چندہ کیا دینگے۔ گھوم پھر کے وہی تنخواہ دار طبقہ نشانہ ستم ہے۔ جن کی کمر پر ٹیکسوں کی بھاری گٹھڑی لاد دینے کیلئے تیار ہیں۔ ٹیکس چوروں کو پکڑنے کا کوئی میکنزم نہیں ۔ نہ کوئی بنیادی اصلاحات۔ وہی تنخواہ دارسامنے ہے جس کی گردن کے گرد پھندے کو مزید کسا جا رہا ہے۔ گیس سے لیکر بجلی تک ہر چیز کا تاوان وہی دینگے۔ ریلیف کی بجائے تکلیف کا پیکج تیار ہے۔ آگے بڑھ کر استقبال کریں۔ 


ای پیپر