کوئلے کی کانوں کو محنت کشوں کی قبریں نہ بنائیں 
19 ستمبر 2018 2018-09-19

12ستمبر کو درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے 12محنت کش اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 12جیتے جاگتے اور زندگی سے بھرپور انسان اس امید پر کان میں اترے کہ وہ شام تک اپنا خون اور پسینہ بہا کر اپنے خاندان کے لیے دوقت کی روٹی کماسکیں گے مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کوئلے کی وہ کان جس سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں آج ان کی قبر بننے والی ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ جس کان میں وہ داخل ہورہے ہیں اس کی حالت خستہ ہو چکی ہے اور وہ کان کنی کے لیے غیرمحفوظ ہے مگر وہ اس سب سے بے خبر کان میں اترے مگر زندہ واپس نہیں آئے جب ان کی لاشیں کان سے نکالی گئیں تو وہاں موجود کوئلے اور ان انسانوں میں محض چہرے کا فرق تھا کوئلے کی آنکھیں منہ اور کا ن نہیں تھے جبکہ ان محنت کشوں کی آنکھیں اور چہرہ موجود تھا ورنہ کوئلے میں دبنے کی وجہ سے وہ بھی کوئلے جیسے ہوچکے تھے۔ 

ایک ماہ کے دوران کوئلے کی کان میں رونما ہونے والا یہ دوسرا جان لیوا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے 13اگست 2018ء کو کوئٹہ بلوچستان میں ہونے والے حادثے میں 18کان کن شہید ہوئے تھے۔ یہ کان دھماکے سے بیٹھ گئی تھی کیونکہ اس میں گیس جمع ہوگئی تھی۔ 

کان کنوں کی یہ اموات محض حادثاتی ہیں یا پھر زیادہ منافع کمانے کے لیے خطرناک کان کنی کا نتیجہ ہیں۔ اگر اس سوال پر گہرائی سے غور کیا جائے تو اس کا جواب ڈھونڈنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ زیادہ تر حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی کان کنوں کی اموات کان کنی کی جدید سہولتوں کے فقدان تربیت کی کمی اور کان کنی کے آلات کی عدم دستیابی کے باعث پیش آتے ہیں۔ کانوں کے مالکان اور ٹھیکیدار کان کنوں کو یہ سہولیات اور آلات فراہم کرنے کے زمہ دار ہیں مگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے کیونکہ انہیں تو منافع کمانے اور کان کنوں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کرنے میں دلچسپی ہے دوسری طرف وہ حکومتی ادارے جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کانوں میں محنت کشوں کی حفاظت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں وہ بھی اپنے فرائض ادا کرنے میں نہ تو دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ وہ کان کنوں کے استحصال میں مالکان اور ٹھیکیداروں کے معاون کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کان کنی اور لیبر قوانین قانون کی کتابوں اور ریاستی اہلکاروں کی فائلوں میں تو موجود ہیں مگر عملاً شاید ہی کہیں پران کا اطلاق ہو۔ 

انہی حالات کی وجہ سے کان کنی کا شعبہ پاکستان میں سب سے خطرناک پیشہ سمجھا جاتا ہے کان کنوں کی لیبر فیڈریشن کے مطابق ہرسال پاکستان میں 100سےٖ 200کے درمیان کان کن مختلف حادثات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ حادثات اور اموات سے بچا جاسکتا ہے۔ مگرحکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اس معاملے میں خاص دلچسپی نہیں ہے اگر کانوں میں جدید آلات استعمال کئے جائیں۔ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ کان کنوں کو مناسب اور جدید ترین تربیت فراہم کی جائے ۔ کانوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے کہ وہ کان کنی کے لیے محفوظ ہیں یا کہ نہیں تاکہ کان کنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ مگر جہاں دولت اور منافع انسانی جان سے زیادہ اہمیت حاصل کرلے وہاں مجبوربے بس اور غریب کان کنوں کی حفاظت اور جان کا کون سوچتا ہے میڈیا کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ اور معاملہ نہیں ہے کیونکہ یہ کان کن عام گھرانوں کے عام لوگ ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو سابق وزیراعظم ، وزراء ،مشیر، بڑے سیاستدان ، صنعت کار، جاگیردار، قبائلی سردار، ریٹائرڈ بڑے آفیسریا جج ہوتے ہیں کہ میڈیا ان کو اہمیت دے اور ان کی اموات کو ٹاک شوز کا موضوع بنائے۔ ان عام لوگوں کے عام سے مسائل مشکلات اور تکالیف پہ کون وقت ضائع کرتا ہے۔ اس سے نہ تو ریٹنگ آتی ہے اور نہ ہی اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس لیے ہماری افسر شاہی، سیاستدانوں اور حکمرانوں کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے کہ وہ ان مسائل پر غور کریں اور ان کو حال کرنے کی کوشش کریں۔ حکمرانوں کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ وہ لوگ کتنے مجبور لاچار اور بے بس ہوں گے جو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خطرناک ترین پیشہ ہے اس کو اپناتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جیسے ان کے 100اور 200کے درمیان ساتھی کان کن ہر سال اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر اس کے باوجود ہزاروں کان کن روزانہ زمین کا سینہ چیر کر کوئلہ اور دیگر معدنیات نکالنے کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر کانوں میں اترتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے انہوں نے اپنی آنکھوں میں یہ خواب سجائے ہوتے ہیں کہ ان کے بچوں کو یہ خطرناک کام نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ اور کرسکیں گے۔ وہ اپنے بچوں اور خاندان والوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ دیکھنے کے لیے موت سے لڑنے پر تیار ہوجاتے ہیں وہ بے بس لاچار اور مجبور اس لیے ہیں کہ کیونکہ ان کا تعلق پاکستان کی اس ساٹھ فی صدر (60فی صد) آبادی سے ہے جوکہ غربت کی لکیر سے نیچے یا اس کے آس پاس زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی غربت ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ چند ہزار روپے کے لیے کوئی بھی خطرناک سے خطرناک کام کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ سرمائے والے ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کا بدترین استحصال کرتے ہیں۔ ان کو استحصال اور ہرطرح کے جبر سے بچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر ریاست کو طاقتوروں ، بڑے لوگوں اور حکمران طبقات کی حفاظت اور تحفظ سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ شاید یہ جانیں اتنی قیمتیں نہیں ہیں کہ ان کے جانے پر سوموٹو ایکشن لیا جائے۔ جناب چیف جسٹس ہی متعلقہ حکام کو بلاکر پوچھ لیں کہ آئے روز کے جان لیوا حادثات کی وجوہات کیا ہیں اور قوانین پر عملدرآمد کیوں نہیں ہورہا۔ ہمارے وزیراعظم کے کندھوں پر تو پہلے ہی ذمہ داریوں کا بہت بوجھ ہے ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں ۔ صوبائی لیبر منسٹرز کے پاس دیگر کاموں کی وجہ سے اتنی فرصت کہاں کہ وہ ان معمولی معاملات اور مسائل پر اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ افسر شاہی تو پہلے ہی قوم اور ملک کی خدمت میں اتنی مصروف ہے کہ اس کا دھیان ہی ان معاملات کی طرف نہیں جاتا اور رہ گئی پارلیمنٹ تو وہاں تو دھاندلی صدر کے خطاب اور منی بجٹ کے چرچے ہیں۔ وہ قوم کے لیے نئی پالیسیاں اور منصوبے بنانے میں اتنی مصروف ہے کہ اسے چھوٹے موٹے واقعات اور معاملات کے لیے وہ وقت کہاں سے نکالیں۔ حکمرانوں کے پاس اتنی فرصت اور وقت کہاں ہے کہ وہ کانوں کو کان کنوں کے قبرستان بننے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ اگر ہمت ہے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے پیٹوں کا دوزخ بھرنے کے لیے کانوں میں اترتے رہو اور اگر قسمت اچھی ہوتو زندہ باہر آجاؤ۔ 


ای پیپر