باؤ جی سے باؤ جی تک۔۔۔ اک ان کہی داستاں
19 ستمبر 2018 2018-09-19

ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کا اندرون لاہور، جہاں وقت کی رفتار دھیمی رہتی تھی اور لوگوں کی زندگی شہر کے دروازوں کے اندر گزر جاتی تھی۔ اس کے باوجود قید یا گھٹن کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کی کل کائنات ان کی برادری، ہمسائیگی اور محلہ ہی ہوتا تھا۔ لوگ اس میں خوش تھے۔ شائد ہی کسی کی خواہش ہوتی ہو کہ وہ اس زندگی کو ترک کر کے "دروازوں" کے باہر کی دنیا کو اپنا لے۔ اس دنیا کے لوگوں کی اپنی ہی خوشیاں اور غم تھے۔ بھائی چارہ، محبت کرنے والے مہمان نواز، یہ لوگ ملنسار اور اپنائیت سے بھرپور تھے۔ اپنی دنیا میں مطمئین، خوش اور مگن۔ انہیں خوبیوں کی وجہ سے باقی شہروں کے لوگ انہیں زندہ دلان لاہور کہتے تھے۔ یہاں لوگ شوق سے شلوار یا دھوتی اور قمیض زیب تن کرتے تھے۔ یہ کسی لباس کو برا نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کی اکثریت شلوار قمیض یا تہبند میں ہی آرام محسوس کرتی تھی۔ مگر ماڈرن لوگوں کو بھی برا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک 

فیشن کا مطلب پینٹ بش شرٹ یا سوٹ اور ٹائی پہننا تھا۔اگر کوئی ان کے محلے میں بن ٹھن کر نکلتا یا باہر سے کوئی آتا جس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوتی تو یہ لوگ اسے " باؤ یا باؤ جی " پکارنے لگتے۔ یہیں رستم زماں گاما پہلوان کے خاندان بھی بستا تھا۔ بیگم کلثوم نواز رستم زماں کی نواسی تھیں۔ مشرقی روایات کی امین انتہائی بااخلاق اور سگھڑ کلثوم بیگم، ویسے تو اردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی تھیں۔ لیکن یہ تب کی بات ہے جب ابھی انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہی تھا۔ جب ان کے گھر ایک رشتہ آیا۔ رشتہ ایک صنعتکار کے بیٹے کا تھا جو پینٹ شرٹس پہنتا تھا، جس کے پاس سپورٹس کار تھی۔ وہ میوزک سے خاصا شغف بھی رکھتا تھا۔ گورنمنٹ کالج سے بزنس میں گریجویشن کرنے والا یہ ماڈرن نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ نواز شریف تھا۔ جسے مستقبل میں تین بار پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہونا تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے کہ لاہوریوں کا مزاج تھا کہ صرف پینٹ پہننے پر ہی کسی کو ماڈرن قرار دے دیتے تھے۔ یہ تو پھر نواز شریف تھے۔ نفیس لباس پہننے والے، میوزک کے دلدادہ، اسپورٹس کار میں گھومنے والے۔۔ " باؤ جی "کا خطاب تو ملنا ہی تھا۔ دوسری طرف بیگم کلثوم، مشرقی روایات کی امین، سگھڑ، اردو ادب سے محبت کرنے والی جنہیں غالب، میر سے اقبال تک کے ہزاروں شعر یاد تھے۔ دونوں کشمیری خاندانوں کے درمیان معاملات طے پا گئے۔ یوں 1971 میں جب کلثوم بیگم 21 سال کی تھیں تو وہ کلثوم نواز شریف ہو گئیں۔ اور نواز شریف ان کے " باؤ جی "۔کلثوم اور نواز کی ازدواجی زندگی محبت، وفا، اخلاقیات کی انمٹ کہانی ہے۔ جس کی دوسری مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ نواز شریف کی پوری زندگی عروج و زوال کی ایک عجب داستاں ہے۔ ایسے میں کوئی عام یا مفاد پرست عورت ہوتی تو کبھی نبھا نہ کر پاتی۔ لیکن یہ کلثوم نواز تھیں۔ جو اپنے " باؤ جی " کے ساتھ غیر مشروط محبت کرتی تھیں۔ سگھڑ اور گھریلو خاتون ہونے کے باوجود اکتوبر 1999 کے بعد دنیا نے ان کا وہ روپ دیکھا جس کا تصور بھی محال تھا۔ اپنے میاں کو آمر کے چنگل سے چھڑانے کے لئے وہ بپھری شیرنی بن گئیں۔ تن تنہا جس بہادری سے انہوں نے مارشل لاء کا سامنا کیا، بہادری و دلیری اور وفا کی ایسی تاریخ رقم کی جس سے بڑے بڑے مردوں کا پتا پانی ہو جائے۔ بالآخر وہ اپنے " باؤ جی " کو چھڑوا کر سعودیہ لے گئیں۔ کہتے ہیں کہ جلاوطنی کلثوم اور ان کے باؤ جی دونوں کے لئے ناقابل قبول تھی لیکن مذہب سے لگاو کی وجہ سے وہ خوش بھی تھیں کہ انہیں سعودی عرب کی پاک زمین پر رہنے کا موقع مل رہا ہے اور اطمینان کی بات یہ بھی تھی کہ ان کے باؤجی بھی ساتھ تھے۔ نواز شریف کی رہائی کے بعد وہ ایک بار پھر گھریلو عورت کی طرح اپنی گھر گھر ہستی میں کھو گئیں۔ کلثوم نواز شریف کی وفا،محبت اور اپنے مجازی خدا کے لئے دی جانے والی ان قربانیوں کا نواز شریف پر بہت اثر تھا۔ وہ اکثر اپنے ملنے والوں کے سامنے بیگم کلثوم نواز کے کردار کا ذکر کرتے اور ان کی چھاتی فخر سے چوڑی ہو جاتی۔ نواز شریف اکثر حضرت عمرؓ کا ایک قول سنایا کرتے کہ " اگر اچھی بیوی ملے تو دنیا جنت اور بیوی بری ہو تو جہنم سے بد تر ہے" نواز شریف اپنی کامیابیوں کی وجہ اس اطمینان، محبت اور سکون کو قرار دیتے جو کلثوم نواز کی بدولت گھر کے ماحول پر چھایا رہتا تھا۔ ایک برس قبل کینسر کی تشخیص کے بعد سے وہ لندن میں زیر علاج تھیں۔ نواز شریف کے بدترین مخالف بھی بیگم کلثوم نوازسے عقیدت رکھتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کچھ نادانوں کو چھوڑ کر جن کی ماوں نے ان کی تربیت ایسی کی تھی کہ وہ اپنی ماں کو بھی گالی دے سکتے ہیں، پورا ملک ان کی صحت یابی کے لئے دعا گو رہا۔ لیکن۔۔۔ پاکستان کے طاقتور ترین حکمران آمر اور مارشل لاء کو اپنے باؤ جی کی خاطر شکست دینے والی بیگم کلثوم نواز شریف اس جنگ میں کینسر کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئیں۔ وہ11 ستمبر 2018 کو انتقال کر گئیں۔ افسوس، جان کنی کے اس مشکل 

مرحلے کے وقت ان کے باؤ جی بھی ان کے پاس نہ تھے۔ جانے سے پہلے انہوں نے اک آہ تو بھری ہو گی۔ چاہا ہو گا اک نظر اپنے باؤ جی کو دیکھ سکیں ان کا ہاتھ تھام کر اپنی جان کا نذرانہ رب کائنات کے حضور پیش کر سکتیں۔ لیکن یہ کہاں ممکن تھا۔ ہزاروں خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جن پر دم نکل نکل جاتا ہے اور یہاں تو واقعی دم نکل گیا۔ کلثوم نواز کے انتقال پر نواز شریف کے بدترین مخالفین بھی دکھی رہے۔ہر آنکھ نم تھی۔ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں کلثوم نواز کو ان کے باو جی نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ انہیں جاتی عمرہ میں اپنے سسر میاں شریف کے ساتھ والی قبر میں ان کی تدفین کی گئی۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مرحومہ کہ زندگی باؤ جی سے شروع ہو کر باؤ جی پر ہی ختم ہو گئی۔ کلثوم نواز چلی گئیں۔ لیکن وہ اپنے پیچھے باؤ جی کے لئے اپنی غیر مشروط محبت، وفا، خلوص اور قربانیوں کی شاندار داستان چھوڑ گئی ہیں۔ جو ہمیشہ سنی اور سنائی جاتی رہے گی۔ زمانہ یہ داستاں شوق سے سنے گا ضرور مگر کسی عورت کے لئے اس کو دہرانا شائد آسان نہ ہو۔


ای پیپر