پھر راستے بدل جائیں گے راہی بدل جائیں گے!
19 ستمبر 2018 2018-09-19

موسم کتنے ہی بدلیں دل مگر اداس ہی رہتا ہے !

ہمارے درمیان فاصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کا سمٹنا آسان نہیں ! 

فکر معاش نے بے قرار وبے چین کردیا ہے!

دلکش سماجی منظر مدت ہوئی نگاہوں سے اوجھل ہوچکا ہے!

زندگی برف کا ٹکڑا بن کر رہ گئی ہے!

وہ سرگرمیاں وہ محبتیں جو کبھی اس سماج کا لازمی حصہ تھیں اب نجانے کس ویرانے کا رخ کرچکی ہیں !

آوازیں ضرورسنائی دیتی ہیں مگر وہ سماعتوں پر بھاری پڑ رہی ہیں کوئی کہہ رہا ہے اس کے حقوق کوغصب کرلیا گیا اور کوئی کہہ رہا ہے اس نظام کو بدلو! پھر کوئی کہتا ہے اس کا بچپن لوٹا دو!

ہاں میں بھی کہتا ہوں مجھے میرا بچپن لوٹا دو!

اس بڑھاپے میں سکون واطمینان غارت ہے!

بھلے دن تھے جب بچپن میں غم روزگار سے بے خبر تھے !

زندگی ایسے جیسے پھلواڑی میں پھولوں پر اڑتی بیٹھتی تتلیاں!

شعوربڑھا تلخیاں آگئیں۔ روشنی پھیلی تو حالات کی تصویر دیکھ کر ذہن صدمات میں گھر گیا !

اے کاش! یہ معاشرہ مثالی ہوتا جس میں دکھ درد بانٹے جارہے ہوتے دھوکا فریب لالچ ڈھونڈنے سے نہ ملتے۔ !

عدل ہوتا انصاف ہوتا اور دلوں میں مہرو وفا ہوتے!

کیا ہم جدید ٹیکنالوجی کو مورد الزام ٹھہرائیں یا پھر بڑھی ہوئی اس خواہش کو جو انسانوں کو محکوم بنانے اور ان کے سرجھکانے کے لیے حکمت عملیوں کی کھیتیاں آباد کرتی ہے!

افسوس صدافسوس !تہذیب وشائستگی کے دعویداروں نے اپنی ذات سے آگے کبھی نہیں سوچا نہیں دیکھا !

پس یہی وہ وجہ ہے جس نے پورے سماج کے اندر خوف وحذن کی لہر دوڑارکھی ہے۔!

آج ہم ایک دوسرے کے ہمراہی نہیں ساتھی نہیں اور غموں کے ساجھی نہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر ہوگیا !

کوئی تو کہے کہ اب ان غموں اور دکھوں کی آندھیوں کا دور ختم ہوا۔ وہ اب پلٹ کر نہیں آئے گا !

یہ صدا کہیں سے بھی سنائی نہیں دے رہی !

کوئی ہمت کرکے عزم کے ساتھ یہ صدا لگانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو اسے دبانے آجاتے ہیں کچھ اذیت پسند وہ نہیں دیکھنا چاہتے پرندوں کی آزاد اڑانیں وہ خاموشی کے نخلستان کے عادی ہوچکے ہیں وہ فقط اپنی آوازوں سے مانوس ہیں!

انسانی بستیاں کراہ رہی ہیں!

مائیں بین کررہی ہیں !

بچے بوڑھے حیات اپنی کو ایک بوجھ تصور کرنے لگے ہیں ؟

فاقہ کشیاں ہیں ناانصافیاں اور زیادتیاں ہیں!

ان کی موجودگی میں کوئی کیسے نغمہ زن ہو!

کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں کیسے بکھریں!

اندھیرا ہے بس اندھیرا 

تاریک رات نے اجالوں کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے بھینچ رکھا ہے !

وہ اسے آزاد نہیں ہونے دیتی اپنی تحویل میں رکھنا چاہتی ہے !

گھٹن کے ماحول میں۔ بلبلیں گیت گاتی ہیں نہ اپنا سینہ برماتی ہیں چپکے چپکے ہولے ہولے اڑتی رہتی ہیں چھپتی پھرتی ہیں !

چاندنی بھی سہمی سہمی سی لگتی ہے !

چاند دھندلا دھندلا سا رہتا ہے !

کسان جو کبھی چاندنی راتوں میں اپنے کھیتوں میں خوشی سے گھومتے پھرتے اور گاتے جاتے مگر اب وہ چاندنی اداس ہے پریشان ہے وہ کیسے گائیں کہاں ان کے دامن میں خوشیاں سمٹیں۔؟

چند لوگوں کی ہوس زر نے اس سماج کو اس دھرتی کو الم ومصائب کے صحراؤں میں دھکیل دیا ہے !

ہرکوئی اپنے ہم نفس کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اسے رسوا کرنے کی سوچتا ہے اسے مجبور وبے بس دیکھنے کی آروز لیے پھرتا ہے۔ خوشیاں اس کے دریچے میں بھی پھر نہیں جھانکتیں اسے کوئی نہ کوئی مشکل بھیس بدل کر پریشان کیے رکھتی ہے۔ بس ایک ہی راستہ ہے باقی کہ کوئی آئے شاید وہ آچکا ہے اور اگر آچکا ہے تو وہ اس معاشرے کو سدھار دے سنوار دے تعلیم سے انصاف سے اور اس کو حقوق دے کر وگرنہ تباہی ہے !!

کون ہوسکتا ہے ابھی اس کے چہرے کے خدوخال واضح نہیں۔ وہ آگے بڑھ بھی سکتا ہے خوبصورتیاں لانے کے لیے ان خزاؤں کو بہاروں میں بدلنے کے لیے۔ قدم قدم پر رکاوٹیں بھی ہیں کچھ کھائیوں کی صورت اور کچھ ٹیلوں کی شکل میں!

مجھے مہدی حسن کا وہ ۔۔۔نغمہ جسے انہوں نے ایک پنجابی فلم ’’پیار نہ منے ہار ‘‘ کے لیے گایاتھا بہت یاد آرہا ہے !

اپنی کہانی یارو کس نوں سناواں 

جرماں تو ودھ مینوں ملیاں سزاواں

ان لوگوں کو جنہوں نے وفاؤں میں اپنی جانیں تک دے دیں جفاکشی میں آہ تک نہ کی مگر انہیں کیا صلہ ملا۔ اور تلاش کرتے پھررہے ہیں کسی مسیحا کو کہ وہ ان کی زندگیوں کے ویران آنگن کو بہاروں کے خوشنما رنگوں سے بھر دے اور اس میں عودولوبان کے خوشبوئیں بکھیر دے !

یہ اداسیاں ، یہ اکتاہٹیں اور یہ بیزاریاں کہیں چیخوں میں نہ ڈھل جائیں ۔ کہ جنہیں کوئی بھی برداشت نہیں کرپائے گا۔ پھر راستے بدل جائیں گے راہی بدل جائیں گے !


ای پیپر