حکومت کے گرنے کا نہیں ہلنے کا خطرہ
19 اکتوبر 2020 (12:09) 2020-10-19

اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کردی، ابتداء گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں سے ہوئی۔ گوجرانوالہ نے بقول شخصے میدان مار لیا۔ وزیروں مشیروں ترجمانوں نے کہا گراؤنڈ بھر نہیں سکا، بھر جاتا تو ایس او پیز کا رونا رویا جاتا، فاصلے بر قرار رکھے گئے، شاید پی ڈی ایم کے لیڈروں میں بھی ہلکے پھلکے فاصلے موجود ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ بقول داغ دہلوی

 راہ لے پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میں 

اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں 

 پی ڈی ایم کا جلسہ بڑے جلسوں میں شمار ہوگا۔ ایک دن پہلے اجازت دی گئی۔ 32 مقامات پر کنٹینر لگا کر راستے بند کردیے گئے زندہ دل لاہوری مریم نواز کے جلوس میں شامل ہوئے تو کرینیں ساتھ لائے۔ رکاوٹین ہٹاتے رہے، دھواں دھار تقریریں، کراچی میں بھی بڑا جلسہ ہوا۔ ”آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے۔“ پنڈی کے خود ساختہ اور ”حمایت یافتہ“ افلاطون زمانہ نے نعوذ باللہ آسمان سے خبریں لانی شروع کردیں، پیشگوئی کی کہ تحریک ناکام ہوگی جلسوں میں لوگ نہیں آئیں گے۔ دو جلسوں میں ہزاروں آگئے۔ آئندہ روک سکیں تو روک لیں کہنے لگے 31 دسمبر سے پہلے جھاڑو پھرے گی۔ یہ نہیں بتایا کہ ”کس کے گھر جائے گا طوفان بلا اس کے بعد“ پھر ارشاد ہوا 20 فروری کو صورت حال نارمل ہوجائے گی۔ سینیٹ کے الیکشن ہوں گے۔ طنبورے کی تان اس پر ٹوٹی کہ اس الیکشن میں تحریک انصاف اکثریت میں آجائے گی۔ اپوزیشن کی لٹیا ڈوب جائے گی۔ افلاطون کو یہ سب کچھ کس نے بتایا، گیٹ پر کسی نے کان میں پھونک دیا ہوگا جس کے بعد ٹی وی چینلز پر آکر رعب جماتے رہے، لوگوں نے کئی بار سمجھایا کہ اپنے محکمے پر توجہ دیں ریلوے تباہ ہوگئی مسافروں نے تنگ آکر ٹرینوں سے سفر کرنا چھوڑ دیا۔ کئی ٹرینیں منسوخ کرنا پڑیں۔ سمجھانے والے پاگل کوئی بھی سمجھنے کو تیار نہیں، چھوڑیے ہمیں کیا جو کرے سو بھرے، عرض کر رہے تھے کہ اپوزیشن نے اپنی دھواں دھار تحریک کا آغاز پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے کیا ہے۔ پہلوانوں کا شہر، ملا کھڑا یہیں سے شروع ہوا۔ پہلوان بھی جناح گراؤنڈ پہنچ گئے کہا کہ پستہ بادام تو بہت مہنگے ہوگئے کیا کھائیں۔ کہتے ہیں کہ اس شہر میں ن لیگ کی اکثریت ہے سارے ارکان ن لیگ کے ہیں اب بھی ہیں؟ خدا جانے ”بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے“ پی ٹی آئی کے موجودہ ارکان کی اکثریت پہلے ن لیگ ہی میں تو تھی۔ ”انقلاب ہیں زمانے کے“ سارے الیکٹیبلز کسی کے کہنے پر فرار ہو کر دوسری طرف چلے گئے۔ ن لیگ نے کسی کو بھی مفرور یا اشتہاری قرار نہیں دیا۔ نہ ہی ڈھول پیٹے گئے۔ صرف ایک رکن صوبائی اسمبلی کی دستار مبارک پر لوٹا رکھ دیا۔ لوٹا تھا یا لوٹا بم چیخ پڑے۔ ”گھر جا کے شکایت لاواں گا“ دوسرے نے استعفیٰ لکھ کر جان چھڑائی، کہتے ہیں حلقے کے ووٹرز نے خاصی خبر لی خیر گزری کہ چھترول نہیں ہوئی۔ جھاڑو پھرنے کا امکان دونوں طرف ہے۔ ہوا کا رخ بدلتے ہی”ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے۔ ادھر کے لوگ ادھر آتے ہیں یا ادھر کے لوگ ادھر جاتے ہیں۔ حالات پلٹا کھا رہے ہیں۔ ”کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ“۔ اپوزیشن کے پہلے جلسے سے قبل ہی مصیبت ٹوٹ پڑی۔ خیبر پختونخوا جہاں حکمران پارٹی کی حکومت ہے کے سرکاری ملازمین پنجے جھاڑ کر روٹیاں گلوں میں لٹکائے اپنے خرچے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ ادھر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے سمجھانے بجھانے کے باوجود بجھے چہروں کے ساتھ ڈی چوک پر دھرنا دے دیا۔ ”بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں“ حکومتی لیڈر سمجھانے گئے تھے کچھ نہ سمجھ کر واپس آگئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سب سے پہلے نچلے طبقے کو اوپر اٹھاؤں گا مہنگائی نے اتنا اوپر اٹھایا کہ وہ اوپر ہی 

چلا گیا۔ فاقے برداشت نہیں ہوتے تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے۔ اضافہ کرنا کسی کے بس میں نہیں آئی ایم ایف نے سختی سے منع کر رکھا ہے رپورٹ بھی جاری کردی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ عالمی بینک نے بھی یہی وعید سنائی کہ ایک ڈیڑھ کروڑ عوام بیروزگار ہوجائیں گے۔ وزیر مشیر اور ترجمان خوف زدہ کہ ”سر چڑھ کے بولنے لگی تنکوں کی سرکشی، شعلہ بنے بغیر اب ان کا گزر نہیں“ طفل تسلیوں سے کام نہیں چلے گا۔ سرکاری ملازمین سمیت مہنگائی سے تنگ طبقے ”چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ کے مصداق متوالوں اور جیالوں میں شامل ہوتے گئے تو کیا ہوگا؟ ایک صاحب نے کہا ایک طرف مہنگائی دوسری طرف اپوزیشن کی چڑھائی کیا حکومت کو گھبرانا چاہیے؟ گھبراہٹ باتوں سے ظاہر ہے۔ وفاقی کابینہ میں مہنگائی پر دہائی، شیخ رشید نے کہہ دیا مہنگائی حکومت کی سب سے بڑی دشمن، اپوزیشن کا بھی یہی ایجنڈا ہے، غضب خدا کا ایک سال میں آٹا 50 سے 60 فیصد مہنگا، روٹی کی قیمت بڑھا دی گئی، معاف کیجیے کس چیز کی قیمت نہیں بڑھی، دروغ برگردن راوی18 ٹن گندم فیڈ کی شکل میں مرغیاں کھا گئیں، ڈکار تک نہ لیا، اس پر غداری اور بغاوت، مرغی مافیا نے انڈے دینے سے انکار کر دیا۔ انڈے 120 روپے سے بڑھ کر 160 روپے درجن ہوگئے۔ بغاوت کا مقدمہ تو بنتا ہے۔ گھبراہٹ باتوں سے عیاں ہے چہرے فق ہیں۔ وزیر آپس میں الجھ پڑے، ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ”الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا“ کیا کام کرے گی اتنی مہنگی ہے کہ عام آدمی خرید نہیں سکتا۔ اپوزیشن نے باہمی نفاق میں بڑے دکھ سہے ہیں۔ نواز شریف کا تو پورا سینہ چھلنی ہے۔ پھر اوپن ہارٹ سرجری ہوگی۔ ”تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا“ ڈاکٹر دل چیر کر کیا کریں گے۔ وہ پہلے ہی عوام کو دل کے داغ دکھا چکے۔ اپوزیشن کی تحریک حکومت کے اعصاب پر سوار، وفاقی وزیروں، مشیروں اور لائق فائق ترجمانوں کو کوئی اور بات نہیں سوجھتی، سائنس کے وزیر فواد چوہدری اپنا کام دھندہ چھوڑ کر اس بات پر مصر ہیں کہ ن لیگ کے ارکان استعفے نہیں دیں گے۔ ایک نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان مستعفی نہیں ہوں گے۔ خواجہ آصف نے یہ کہہ کر خوفزدہ کردیا کہ اپوزیشن کے 156 ارکان ہیں 130 بھی مستعفیٰ ہوگئے تو نئے الیکشن پکے۔ حضرت جی پریشان، بڑے  پشیمان۔ جلسوں کے اعلانات اعصاب پر سوار،کہنے لگے ”میں جمہوریت، اپوزیشن ڈاکو، لوگ نظریے کے لیے باہر نکلتے ہیں چوری بچانے کے لیے نہیں۔“ ذات گرامی سے ”میں“ کی نفی نہیں ہوسکی۔ ورنہ ولایت کے درجے پر فائز ہوجاتے۔ اپوزیشن کے ایک لیڈر نے کہا ”یقینا اب کوئی ٹھوکر لگے گی بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں۔“ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ، پھر پکڑ دھکڑ کیوں؟ 2014ء میں تو شاہراہ دستور تک کسی نے راستہ نہیں روکا تھا۔ اپوزیشن کو کنٹینر دینے کے وعدے لیکن وہی کنٹینر جاتی امرا جانے والی سڑک پر لگا کر راستے بند کردیے گئے۔ حبیب جالب کی روح سے معذرت کے ساتھ ”خوف زدہ ہیں سارے لیڈر ایک نہتی نانی سے“ مریم نواز کسی طرح جلوس کے ساتھ نہ جاسکے۔ مریم اورنگزیب کو اس پر بڑا غصہ آیا۔ کہنے لگیں ”راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے۔ ڈھیر لگ جائیں گے رستوں میں گریبانوں کے۔“ ابتدائی دو جلسوں کے بعد بھی بنیادی سوال ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک حکومت مخالف ہے یا نظام مخالف، بظاہر حکومت مخالف لیکن اس سے موجودہ نظام، سیٹ اپ اپ سیٹ ہوگا۔  156 استعفیٰ آگئے تو ضمنی نہیں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے یا پھر کوئی عبوری یا نگراں حکومت۔ وزیر اعظم کا اصرار ہے کہ لوگ اپوزیشن کی کال پر باہر نہیں نکلیں گے۔ نکل آئے ہیں اب کیا ہوگا؟ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف جوابی جلسے کرے گی۔ کس عقل مند نے تجویز دی کشیدگی کے ماحول میں جوابی جلسوں سے تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ کسی دامن پر چنگاری سے آگ بھڑکی تو کسی علاقہ یا صوبہ تک محدود نہیں رہے گی۔ پکڑ دھکڑ محاصروں، گرفتاریوں یا ریلیوں اور جلسوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے پولیس والوں کی نوکریاں اور ٹرانسفر تو شاید بچے رہیں لیکن حالات بے قابو ہونے کا امکان بڑھتا جائے گا۔ پنجاب کے کرتا دھرتاؤں کو شاید اس قسم کی صورتحال کا تجربہ نہیں ہے انہیں سوچنا ہوگا کہ دو سالوں کے دوران بہت خرابی ہوچکی۔ مزید کسی اقدام کے نتائج و عواقب کسی کے بس میں نہیں ر ہیں گے ”سب مال پڑا رہ جائے گا۔ جب لاد چلے گا بنجارہ“ اندرونی کہانیاں لانے والے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ حیران ہے کہ گزشتہ سالوں کے ناکام تجربوں کے بعد 2018ء کے ایک یونیک اور منفرد تجربہ سے بھی کیا حاصل ہوا ہے۔ لیکن یہ سارے مفروضے اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی یا ناکامی سے منسلک ہیں۔ تحریک کے آغاز پر خطرات کا اظہار چشم کشائی کے لیے ضروری، اپوزیشن کو بھی حکمت عملی کا تعین کرتے ہوئے محتاط رویہ رکھنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ان کے غیر محتاط رویے اور جذباتی نعروں سے اسٹیبلشمنٹ کو فریق بنانے کا تاثر ابھرے اس صورت میں حکومت بچنے میں کامیاب رہے گی۔ اپوزیشن ٹارگٹ بن جائے گی تحریک کو فصل کی طرح پکنے میں دیر لگے گی۔ محتاط رہنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ یادش بخیر مولانا مفتی محمود اپنے جگری ساتھی مولانا غلام غوث ہزاروی کو جذباتی باتوں سے روک دیا کرتے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کو بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ آخری بات کیا حکومت جانے کا خطرہ ہے؟ مخصوص لہجے کے سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تحریک سے حکومت گرنے کا نہیں ہلنے کا خطرہ ہے۔ 


ای پیپر