تحر یکِ انصا ف کے مو جو د ہ ایا م
19 اکتوبر 2020 (12:04) 2020-10-19

قا ر ئین کو یا د ہو گا کہ جب 2018ء کے الیکشن ہوئے تو عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ ملی۔ ایک ٹیم انہوں نے تیار کی، ماضی کی حکومتوں کو ایک ٹھکرائے ہوئے سیاسی ملبہ سے زیادہ انہوں نے کوئی حیثیت نہیں دی۔ عوام منتظر، متجسس اور پرامید تھے کہ حالات بدلیں گے اگر نوازشریف اور آصف زرداری عوامی سیاست، مستحکم جمہوری نظام، مضبوط معیشت اور آزاد خارجہ پالیسی کا دور نہیں لاسکے تو پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت میں ایک انقلاب ضرور برپا کرے گی۔ حقیقت میں مبصرین دو بنیادی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئی تبدیلی کے آرزومند تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عمران دنیا کے مانے ہوئے فاسٹ باؤلر اور بہترین کپتان تھے۔ ان کی مینجمنٹ اور ٹیم سپرٹ پر نگاہ عقابی تھی۔ عالمی سطح پر مالیات، حکومت، ریاست، عالمی اسٹیبلشمنٹ، شوبز اور گلیمر کی دنیا ان کے ساتھ تھی۔ وہ پُرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ دوسرا پلس پوائنٹ ان کا قومی اداروں کو ایک پیج پر رکھنے کا تھا جس کے باعث انہیں یقین تھا کہ وہ بغیر کسی دشواری اور ممکنہ بحران کے جمہوری سفر کو آگے لے کر چلیں گے۔ کسی مبصر نے اگر انہیں ہوم ورک یاد دلایا، یا داخلی اور خارجی پالیسی کے اہم اور حساس پہلوؤں پر بریف کرنے کی کوشش کی یا پارٹی منشور پر عمل کرنے کے لیے ہائی کمان کو اہمیت  دینے پر زور دیا تو اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اصل میں ملکی سیاست میں جو ٹرانسفر آف پاور ہوئی تھی وہ ایک نہیں دو سابقہ حکومتوں یعنی پی پی پی اور (ن) لیگ کے اقتدار کا دی اینڈ تھا۔ بقول اپوزیشن الیکشن میں رگنگ، انجینئرنگ اور بوگس ووٹنگ کے معاملات الیکشن کمیشن نے دیکھے۔ لیکن جب حکمرانی شروع ہوئی تو اس دن سے عوام کو سو دن دیئے گئے کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پرکھ لیں۔ اس کے بعد ایک سال گزر گیا، پھر دو سال مزید عوام انتظار کرتے رہے کہ کچھ تبدیلی آئے گی۔ تاہم اس عرصے میں ملکی سیاست کے کئی اوراق پلٹے گئے۔ تجزیہ کاروں، میڈیا، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی میں ایک خاموش اضطراب جنم لینے لگا۔ لوگ بیچارے روٹی روزگار کے آسرے میں تھے کہ انہیں کورونا نے آلیا۔ معیشت کی سست رفتاری نے دھمال ڈال دیا، وائرس درحقیقت ایک سیاسی چنگھاڑ کا بہانہ بنا۔ پھر مون سون بارشوں نے قیامت ڈھا دی۔ عوام، سیاسی کارکن اور دانشور جو پی ٹی آئی سے وابستہ نہیں تھے اور تبدیلی کو آتا دیکھنا چاہتے تھے وہ عدم اطمینان کا شکار ہوئے۔ اس تقابل میں لگ گئے کہ اگر (ن) لیگ اور پی پی اتنی خراب حکمرانی کر گئے تو پی ٹی آئی شفاف حکمرانی لانے میں اس قدر تاخیر سے کیوں کام لے رہی ہے۔ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اگر حکومت کی اقتصادی، سیاسی اور داخلی و خارجہ پالیسی کے میکرز حالات کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو بنیادی ریلیف مہیا کرنے کے اقدامات کرتے اور زندگی کے حساس ترین معاملات کی اہمیت کے مطابق دلیرانہ، دانشمندانہ او رمعروضی فیصلے کرتے، بیوروکریسی، معاشی صورتحال، تعلیم، صحت، روزگار اور مہنگائی کے حوالہ سے ان کے ماہرین، پرجوش رہنما اور کارکن ایک تبدیل شدہ پاکستانی سماج کی تشکیل نو کے کام کی بنیاد ڈالتے تو کامیابی حاصل ہوسکتی تھی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ قوم کو اس بات کا یقین دلایا جاتا کہ تبدیلی ایک نئے سیاسی و اقتصادی نظام کے 

قیام کی، کی جارہی ہے اس لیے  عوام کچھ انتظار کریں۔ حکومت جلد ہی زندگی کے اہم شعبوں کی قلب ماہیت کرتے ہوئے اہم ٹرانسفارمیشنل اور ٹرانزیشنل اقدامات کرکے مستقبل کا روڈ میپ قوم کے سامنے رکھ دے گی۔ بدقسمتی سے ایسا کوئی روڈ میپ حکومت نہیں لاسکی، عوام کا صبر و تحمل دیدنی تھا۔ مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی مشکل ہونا شروع ہوئی تھی۔ بیروزگاری کے خاتمے کے لیے صنعتی ترقی اور برآمدات، سرمایہ کاری، کاروبار اور ملکی و غیرملکی تجارتی سرگرمیوں کے لیے جس بڑے بریک تھرو کی باتیں کی جاتی رہی تھیں، کوئی غیرمعمولی، رجحان ساز اور نتیجہ خیز پالیسی میکنگ نہیں ہوئی۔ اصلاحات کے جتنے دعوے کیے گئے وہ سرد پڑتے گئے۔ معیشت کی تباہی میں ملوث جن مافیاز کو عبرتناک سزائیں دینے کے اعلانات ہوئے وہ سب بچ کر نکل گئے۔ سیاست میں ایک کام رہ گیا احتساب کا اور نیب کو اس کام کے پیچھے لگادیا گیا۔ جو کام عدالتوں، تحقیقاتی، تفتیشی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تھا وہ چیف ایگزیکٹو نے خود سنبھال لیا۔ پنجاب میں آئی جیز اور بیوروکریٹس کی تبدیلی جس برق رفتاری اور سرعت کے ساتھ ہوئی اس سے عثمان بزدار کی انتظامی صلاحیت سوالیہ نشان بن گئے مگر وزیراعظم کا اعتماد انہیں حاصل رہا، آج بھی حاصل ہے۔ سیاست میں تعصبات، کردار کشی، 

الزامات اور ذاتیات کی روش سے سیاسی اور جمہوری عمل کو شدید دھچکا لگا۔ پارلیمینٹ کی بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ایسی بلڈوز قانون سازی ہوئی کہ عقل دنگ رہ گئی۔ سیاسی افہام وتفہیم کا لفظ سیاسی ڈکشنری سے نکال دیا گیا۔ ایک نیا جارحانہ طرزِ تخاطب متعارف ہوا جس میں وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کا عوامی مسائل کے حل یا ان سے روابط اور سیاسی تعلق کی روایت ختم ہوگئی۔ آج ووٹر تذبذب میں ہیں کہ سیاست کیا سے کیا ہونے والی ہے۔ روز کوئی افواہ ہر لمحہ و ہر شب کسی ٹی وی ٹاک سے کوئی پھلجھڑی سنائی دیتی ہے۔ ایک منتخب حکومت کو فیصلہ کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے، اس میں دو سال کا عرصہ بڑا ا ہم ہو تا ہے۔ مگر محسوس ہوتا ہے کہ سیاست دان اور حکمران ابھی فیصلہ نہیں کر پائے کہ انہیں کیسا پاکستان کب اور کیسے بنانا ہے۔تجزیہ کاروں نے قلمکاری کے ذریعے حکومت کو درست فیصلے کرنے کی صائب رائے دی لیکن قلم کی حرمت بھی اہل اقتدار کے ہاتھوں قائم رہے تو بات بنے۔ ایک انداز نظریہ ہے کہ حکومت کو اطلاعات اور ابلاغ کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ اس ٹریپ میں حکومت خود پھنس گئی ہے۔ وہ اپوزیشن کے ڈراؤنے خواب سے چھٹکارا پانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ وہ کام جو عدلیہ اور نیب کے ہیں، ملک کو کرپشن سے بچانے کا مشن ہے تو انہی کا ہے، حکومت کیوں اس دلدل سے بالا تر ہوکر دوسرے اقدامات اور نتیجہ خیز اقدامات اور انتظامات کو یقینی نہیں بناتی۔ سرمایہ کاری کی باتیں ہوتی ہیں مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ کوئی ملک کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حقیقت کے خرافات میں کھونے کا عجب منظر آج کی سیاست میں نظر آتا ہے۔ ایک دن کسی ادارے کی بیلنس شیٹ شاندار بریک تھرو بتاتی ہے، دوسرے دن روزویلٹ ہوٹل کے فروخت کی خبر چاردانگ عالم میں پھیل جاتی ہے۔ سیاست جنگلی بھینسوں کے ٹکراؤ یا بل فائٹنگ کا تماشہ ہے، عوام کو آج بھی توقع ہے کہ پارلیمینٹ کی بالادستی تسلیم کر کے قومی معاملات اسمبلیوں میں طے ہو جائیں۔ تدبر و تحمل سے سیاسی اقدامات ہوں، بیانات کی شدت میں کمی لائی جائے۔ سیاسی شوکو نوازشریف اور عمران خان کے مابین تصادم یا تاریخ کے جبر اور مکافات عمل سے تعبیر نہ کیا جائے۔ یہ سیاسی عمل ہے، ملکی سیاسی تاریخ نے ایسے سانحے بارہا دیکھے ہیں۔ ہمیں تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سیاسی سانحے بھی ہمارے ضمیر میں کوئی خلش نہیں ڈالتے۔ ملک کے فہمیدہ حلقے کہتے ہیں کہ ہم تاریخ کے اس الزام پر کیوں کان نہیں دھرتے کہ ”ہم نے تاریخ سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔“ آج لیڈر شپ کے امتحان کا مرحلہ ہے، سیاسی شو ڈاؤن درد انگیز ہے، ملک کو صدہا مسائل درپیش ہیں۔ عوام دو وقت کی روٹی کو محتاج ہیں۔ یقین جانئے، ٹانگیں سیاستدانوں کی نہیں جمہوریت کے حسن کی دیوی کی کانپ رہی ہیں۔ کا ش کہ جمہوریت کو سیاست کی دار پر کھینچے جانے کا منظر عوام کی خوش حالی میں بدل جائے۔ اگر ایسا ہو جا تا ہے تو کتنا اچھا ہوگا۔


ای پیپر