سیاسی بحران اب کوئی حل نہیں
19 اکتوبر 2020 (11:59) 2020-10-19

لاہور کے بعدکراچی کا جلسہ بھی کامیاب رہا۔ایسے ماحول میں جب حکومت اپنی مڈ ٹرم پوری کرنے کے قریب ہے۔ وہاں اپوزیشن کا جلسہ کامیاب ہو جانا بڑی بات ہے۔ اس جلسہ نے خوب سماں باندھا ہے۔ پیپلز پارٹی اس جلسے کی میزبان تھی یہ جلسہ گوجرانوالہ کی طرح منظم اورعوام پر جوش تھے۔گوجرانوالہ کی طرح اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی صف اول کی قیادت حاضر تھی۔ حکومت کو ایسے ماحول میں جب اس کی معاشی پالیسیاں ایک ایک کرکے ناکام اور عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہیں اور، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریم نواز بلاول بھٹو زرداری کی طرح اب قومی سیاست میں داخل ہو گئی ہیں۔اب سندھ سے انہوں نے جس پرجوش انداز سے سیاست کی ہے نواز شریف کی جانشین بن گئی ہیں۔ نواز شریف کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ اقتدار سے نکالے جانے کے بعد انہوں ووٹ کو عزت دو کا جو بیانیہ دیا تھا۔ آج وہ پوری اپوزیشن کی آواز بن گیا ہے۔ اگر جماعت اسلامی بھی اس میں شامل ہوتی تو اس کی عوام میں مقبولیت کا تاثر بہتر ہوتا گوجر انوالہ کے جلسہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ یہ سوغات آپ کی ہی دی ہوئی ہے۔ آپ ہی اس پریشانی کا موجب ہیں۔فوج کے سربراہ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کیا۔ ججوں سے زبردستی فیصلے لکھوائے۔ ان کو جواب دینا پڑے گا۔ یہ تنقید تو پہلے بھی کرتے ہے تھے۔جلاوطنی کے بعد میاں صاحب کی زندگی کا دوسرا دور جنوری 2006 ء سے شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے بیٹے حسن نواز کی تیمار داری کیلئے لندن آئے۔ لندن میں میاں نواز شریف کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اب وہ سیاست پر کھل کر بات کر سکتے تھے۔

لندن میں بیٹھ کر نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا مگر نواز شریف کو مارچ میں لندن میں آل پارٹیز اس لیے بلانی پڑی تھی کہ اس وقت بے نظیر بھٹو امریکی انتظامیہ سے سمجھوتا کر کے این آراو لے رہی تھی۔ جب نواز شریف نے آل پارٹیز کا پلیٹ فارم بنالیا تو اس وقت بے نظیر بھٹو کے لیے این آرو کا کام آسان ہو گیا تھا۔ نواز شریف نے گوجرانوالہ میں جو تقریر کی اس میں مکمل خاموشی تھی اب ماضی کے سارے راز کھل رہے ہیں رد عمل میں کپتان نے بھی بہت سے باتیں کی ہیں۔

نواز شریف نے عوام کی بات بھی کی اور کہا کہ بجلی کے بل، بجلی بن کر گر رہے ہیں۔ جس کا سپہ سالار کو جواب دینا ہو گا۔ ان غریبوں کے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ذمہ دار بھی وہ ہیں۔ اس کا جواب بھی ان کو ہی دینا ہو گا۔ حزبِ اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پہلے جلسے میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف فوج میں انتشار پھیلانے کے لیے فوج کے سربراہ اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے خلاف بات کر رہے ہیں۔کنونشن سینٹر میں ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران نے ایک بار پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا دفاع کیا اور نواز شریف کے ایک روز پہلے کے خطاب پر کہا کہ یہ جنرل باجوہ پر نہیں، یہ پاکستانی فوج پر حملہ کیا گیا ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے کل کے خطاب کے بعد وہ ایک نئے عمران خان بن گئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جیسے ہی وہ ریاست کی طاقت استعمال کریں گے تو یہی فوج کشت و خون کو روکنے کے لیے آگے بڑھے گی۔ بھٹو اور ضیا ایک پیج پر تھے۔ بھٹو ہر بات مان گیا تھا مگر اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔ وقت پر کیا ہوا کام ہی بہتر ہوتا ہے۔،عمران خان میں انداز حکمرانی بھی نہ آسکی اپوزیشن کسی اور ملک کی نہیں۔یہاں تو لڑائی کی بات ہو رہی ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف فوج میں انتشار پھیلانے کے لیے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ وہ جو کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ اس کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

 اب عمران خان نواز شریف کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کی رائے ہے۔نواز شریف وہ کھیل کھیل رہا ہے جو بین الاقوامی ایجنڈا ہے'ان کے وزیر مشیر اور ترجمان سب ایک زبان ہوکر بول رہے ہیں 

”نواز شریف ایک اشتہاری مجرم ہے اور بھارت میں نواز شریف کو جو میڈیا کوریج مل رہی ہے وہ الطاف حسین کو بھی نہیں ملی تھی۔“ شیخ رشید احمدکے مطابق ”نواز شریف وہ کھیل کھیل رہا ہے جو بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بات کی جائے۔“ قبل ازیں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے مشترکہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے آغاز پر سخت ردِ عمل دینے کی بجائے غیر متوقع طور پر محتاط رویہ اپنایا تھا۔ کراچی کا جلسہ کامیاب ہونا تھا۔اس میں مسلم لیگ ن اور مریم نوازکو پزیرائی ملی ہے وہاں اب کراچی میں ن لیگ کی سیاست کی گنجائش بھی پیدا ہوئی ہے۔


ای پیپر